بلوچستان: معافیوں سے بات نہیں بنے گی
تحریر: لال خان:- (ترجمہ:فرہاد کیانی) سماج میں حقیقی اور رِستے ہوئے مسائل اتنے زیادہ اوراتنے گہرے ہیں کہ میڈیا مالکان اور انکے حکمران طبقے کے ساتھی اپنے مفادات کے لیے انہیں جب چاہیں اپنی مرضی سے استعمال کرتے ہیں۔
تحریر: لال خان:- (ترجمہ:فرہاد کیانی) سماج میں حقیقی اور رِستے ہوئے مسائل اتنے زیادہ اوراتنے گہرے ہیں کہ میڈیا مالکان اور انکے حکمران طبقے کے ساتھی اپنے مفادات کے لیے انہیں جب چاہیں اپنی مرضی سے استعمال کرتے ہیں۔
تحریر۔قمرالزماں خاں:- طریقہ کوئی بھی ہو وقت کے تعین کی بحث میں پڑے بغیر ہم کہتے ہیں کہ بالآخر پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں چلنے والی موجودہ قومی حکومت ختم ہوجائے گی۔
تحریر: لال خان:- (ترجمہ: عمران کمیانہ) کینشین معیشت کے مشہور امریکی ماہر جان کینتھ گلبرتھ نے بھارتی جمہوریت کے بارے میں ایک بار کہا تھاکہ یہ’’ دنیا کا سب سے منظم انتشار ہے‘‘۔
تحریر ۔قمرالزماں خاں:- پنجاب کی اپوزیشن جو وفاق اور تین صوبوں میں حکومت میں ہے کا پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مہلک ادویات کی فراہمی کی بنا پر 133 ہلاکتوں پر احتجاج اور اسکے جواب میں نام نہاد خادم اعلی کا رد عمل دونوں ہی خاصے مضحکہ خیز ہیں۔
طبقاتی جدو جہد کی 31ویں کانگریس ، 10-11مارچ 2012 کو ہونے جا رہی ہے۔ہم اپنے قارئین کے لئے اس کانگریس کی دوسری مجوزہ دستا ویز پاکستان تناظر 2012شائع کر رہے ہیں۔
تحریر: عمران کامیانہ:- ماسکو میں کل (۴ فروری) کو لاکھوں لوگ ایک بار پھر سخت سرد موسم کے باوجود سڑکوں پر نکل آئے اور صدر پیوٹن کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے شفاف الیکشن کروانے کا مطالبہ کیا۔
(یہ آرٹیکل 2005میں طبقاتی جدوجہد کی جانب سے شائع کردہ کتابچے ’’سوشلزم کیا ہے؟50سوال اور ان کے جوابات‘‘ سے لیا گیا ہے جسے ہم معمولی تبدیلیوں کے ساتھ شائع کر رہے ہیں)
تحریر: جان پیٹرسن:- (ترجمہ:فرہاد کیانی) ’’مارکس درست کہتا تھا!‘‘ مارکسسٹوں کے لیے یہ کوئی حیرت انگیز انکشاف نہیں ۔ ہم تو کب سے جانتے ہیں کہ اس جرمن انقلابی کا سرمایہ دارانہ نظام کے بارے میں تجزیہ اتنا ہی ٹھوس ہے جتنا یہ نظام غیر مستحکم ہے۔
تحریر : لال خان:- گزشتہ چند دنوں سے سویلین حکومت اور نام نہاد فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ایک اور تنازعہ چل رہا ہے۔ معاشرے اور سیاسی حلقوں میں ایک اور فوجی بغاوت کی افواہیں شدت سے گردش کر رہی ہیں۔
اس ملک کے حکمرانوں اور سرمایہ دارانہ ریاست کے ہر ادارے کا تقدس عوام پر مسلط ہے اور اس پر بات کرنا بھی توہین کے قوانین کے تحت ایک جرم بن جاتا ہے۔غریب اگر دولت کی عدالت کا حکم نہ مانیں تو توہینِ عدالت لگ جاتی ہے۔