بلوچستان: معافیوں سے بات نہیں بنے گی
تحریر: لال خان:- (ترجمہ:فرہاد کیانی) سماج میں حقیقی اور رِستے ہوئے مسائل اتنے زیادہ اوراتنے گہرے ہیں کہ میڈیا مالکان اور انکے حکمران طبقے کے ساتھی اپنے مفادات کے لیے انہیں جب چاہیں اپنی مرضی سے استعمال کرتے ہیں۔
تحریر: لال خان:- (ترجمہ:فرہاد کیانی) سماج میں حقیقی اور رِستے ہوئے مسائل اتنے زیادہ اوراتنے گہرے ہیں کہ میڈیا مالکان اور انکے حکمران طبقے کے ساتھی اپنے مفادات کے لیے انہیں جب چاہیں اپنی مرضی سے استعمال کرتے ہیں۔
تحریر۔قمرالزماں خاں:- طریقہ کوئی بھی ہو وقت کے تعین کی بحث میں پڑے بغیر ہم کہتے ہیں کہ بالآخر پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں چلنے والی موجودہ قومی حکومت ختم ہوجائے گی۔
تحریر: لال خان:- (ترجمہ: عمران کمیانہ) کینشین معیشت کے مشہور امریکی ماہر جان کینتھ گلبرتھ نے بھارتی جمہوریت کے بارے میں ایک بار کہا تھاکہ یہ’’ دنیا کا سب سے منظم انتشار ہے‘‘۔
تحریر ۔قمرالزماں خاں:- پنجاب کی اپوزیشن جو وفاق اور تین صوبوں میں حکومت میں ہے کا پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مہلک ادویات کی فراہمی کی بنا پر 133 ہلاکتوں پر احتجاج اور اسکے جواب میں نام نہاد خادم اعلی کا رد عمل دونوں ہی خاصے مضحکہ خیز ہیں۔
طبقاتی جدو جہد کی 31ویں کانگریس ، 10-11مارچ 2012 کو ہونے جا رہی ہے۔ہم اپنے قارئین کے لئے اس کانگریس کی دوسری مجوزہ دستا ویز پاکستان تناظر 2012شائع کر رہے ہیں۔
تحریر۔قمرالزماں خاں:- ماہرین کہتے ہیں کہ جان داروں کی بقاء کا انحصار ’’موجود حالات میں خود کو زندہ رہنے کے لوازمات سے مزین رکھنے اور اسکے اظہار میں مضمر ہے‘‘۔ملک عزیز میں قبل از وقت سیاسی گرماگرمی کی لہراسی قسم کی کیفیت کی نشاندہی کرتی نظر آتی ہے۔
رپورٹ: کامریڈ نذرمینگل (کوئٹہ) پچھلے سال موجودہ ارباب اقتدار نے 26قومی اداروں کو نجکاری میں دینے کا عمومی فیصلہ کیا تھاکہ ان اداروں کو فی الفور فروخت کیا جائے گا ۔
تحریر لال خان:- انسانی نفسیات کی سب سے غیر معمولی خاصیت موافقت ہے۔ عوام کی برداشت کی حدوں کو آزمایا جا رہا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ وحشت ناک سماجی کیفیت مزید تاریک تر ہوتی جا رہی ہے۔
تحریر : لال خان:- گزشتہ چند دنوں سے سویلین حکومت اور نام نہاد فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ایک اور تنازعہ چل رہا ہے۔ معاشرے اور سیاسی حلقوں میں ایک اور فوجی بغاوت کی افواہیں شدت سے گردش کر رہی ہیں۔
تحریر ۔قمرالزماں خاں:- کچھ لوگوں کو تاریخ بناتی ہے اور کچھ لوگ تاریخ ساز ہوتے ہیں،ذوالفقار علی بھٹو کا شمار ان عظیم لوگوں میں ہوتا ہے جو تاریخ ساز بھی ثابت ہوئے اور پھر تاریخ نے ان کا دامن مرنے کے بعد بھی نہیں چھوڑا۔