شاعری: ہم اس دنیا سے آگے اور دنیا سوچ لیتے ہیں
یہاں سے بھی نکل جانے کا رستہ سوچ لیتے ہیں ہم اس دنیا سے آگے اور دنیا سوچ لیتے ہیں
یہاں سے بھی نکل جانے کا رستہ سوچ لیتے ہیں ہم اس دنیا سے آگے اور دنیا سوچ لیتے ہیں
ہم اہلِ جنوں کے شانوں پر اس سر کی اب اوقات نہیں جب سرخ پھریرے تھام لئے ،پھر خوف کی کوئی بات نہیں