Category: "World"

افغانستان؛ خاک میں لتھڑاہوا،خون میں نہلایاہوا

تحریر:لال خان:- (ترجمہ:اسدپتافی) ناٹو افواج کے نکل جانے کے بعد بھی افغانستان کی صورتحال لازمی نہیں کہ معمول پر آجائے ۔تمام تر رواجی تجزیوں کی قنوطیت پسندی کے باوجود افغانستان میں ایک انقلابی تناظرکا امکان موجودہے۔

read more

اصل ہندوستان کی بیداری

تحریر لال خان:- ’’ 28فروری کو ہونے والی 24گھنٹے کی عام ہڑتال موجودہ دو ر کے ہندوستان کے سیاسی اور سماجی ارتقا میں فیصلہ کن موڑ ہے۔‘‘

read more

ایران اسرائیل جنگ: سامراجی جنگ طبقاتی جنگ کو ابھارے گی

تحریر:ایلن وڈز‘حمید علی زادے:- (ترجمہ: اسدپتافی) ایک بار پھر سے اسرائیلی اور امریکی سامراج مشرق وسطیٰ میں اپنی شہہ زوری کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔اس بار ان کا نشانہ ایران ہے۔

read more

سرمایہ داری کے ہچکولے

تحریر: کامریڈ فاطمہ:- کارل مارکس نے تقریباً سو سال پہلے سرمایہ دارانہ نظام کے آغاز ، ابھار اور زوال کی وضاحت کر دی تھی، کیونکہ مارکس اس نظام کے طریقہ پیدوار کو جان گیا تھا۔

read more

باترتیب بد نظمی

تحریر: لال خان:- (ترجمہ: عمران کمیانہ) کینشین معیشت کے مشہور امریکی ماہر جان کینتھ گلبرتھ نے بھارتی جمہوریت کے بارے میں ایک بار کہا تھاکہ یہ’’ دنیا کا سب سے منظم انتشار ہے‘‘۔

read more

یخ بستہ روس میں انقلاب کی تپش

تحریر: عمران کامیانہ:- ماسکو میں کل (۴ فروری) کو لاکھوں لوگ ایک بار پھر سخت سرد موسم کے باوجود سڑکوں پر نکل آئے اور صدر پیوٹن کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے شفاف الیکشن کروانے کا مطالبہ کیا۔

read more

نائیجیریا:محنت کشوں اور نوجوانوں کی انقلابی اٹھان

تحریر:اولا کازیم:- (ترجمہ:اسدپتافی) (نائیجیریا کی ٹریڈیونین نے اپنی غیر معینہ ہڑتال کو موخر کر دیاہے جو کہ دوسرے ہفتے میں داخل ہورہی تھی۔ حکومت کوپٹرول کی قیمتوں میںآخرکار کمی کرنے کا اعلان کرناپڑاہے۔

read more

تاریخ کا انتقام

تحریر: جان پیٹرسن:- (ترجمہ:فرہاد کیانی) ’’مارکس درست کہتا تھا!‘‘ مارکسسٹوں کے لیے یہ کوئی حیرت انگیز انکشاف نہیں ۔ ہم تو کب سے جانتے ہیں کہ اس جرمن انقلابی کا سرمایہ دارانہ نظام کے بارے میں تجزیہ اتنا ہی ٹھوس ہے جتنا یہ نظام غیر مستحکم ہے۔

read more

عالمی تناظر 2012

طبقاتی جدوجہد کی 31ویں کانگریس11-10مارچ 2012ء کو ایوانِ اقبال لاہور میں منعقد ہوئی۔ ہم اپنے قارئین کے لئے اس کانگریس کی پہلی دستاویز عالمی تناظر 2012ءشائع کررہے ہیں۔

read more

برطانیہ میں 1926ء کے بعد کی سب سے بڑی ہڑتال ; بڑھتے ہی چلو

تحریر:راب سیول، 1دسمبر2011ء (ترجمہ: فرہاد کیانی) 30نومبر کو سرکاری شعبے کے بیس لاکھ سے زیادہ محنت کشوں نے ہڑتال کی۔فی الواقعہ یہ سرکاری شعبے کی عام ہڑتال تھی۔ہڑتال میں شریک محنت کشوں کی تعداد 1979ء کے ’’بے چین موسم سرما‘‘ اور حتیٰ کہ 1926ء کی عام ہڑتال سے زیادہ تھی۔ یہاں تک کہ بڑے تاجروں [...]

read more