<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>The Struggle &#124; طبقاتی جدوجہد</title>
	<atom:link href="http://www.struggle.com.pk/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.struggle.com.pk</link>
	<description>Voice of Socialism in Pakistan Peoples Party &#38; Labor Movement</description>
	<lastBuildDate>Thu, 17 May 2012 02:24:51 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.2.1</generator>
		<item>
		<title>سعودی عرب میں پنپتی عوامی تحریک</title>
		<link>http://www.struggle.com.pk/potential-mass-movement-in-saudi-arabia/</link>
		<comments>http://www.struggle.com.pk/potential-mass-movement-in-saudi-arabia/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 17 May 2012 02:24:51 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[World]]></category>
		<category><![CDATA[ ]]></category>
		<category><![CDATA[Arab Spring]]></category>
		<category><![CDATA[Class Struggle]]></category>
		<category><![CDATA[Fascist Regime]]></category>
		<category><![CDATA[Poverty]]></category>
		<category><![CDATA[Protest]]></category>
		<category><![CDATA[Revolution]]></category>
		<category><![CDATA[Saudi Arabia]]></category>
		<category><![CDATA[Socialism]]></category>
		<category><![CDATA[State Oppression]]></category>
		<category><![CDATA[Strike]]></category>
		<category><![CDATA[Theocracy]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<category><![CDATA[Women2Drive]]></category>
		<category><![CDATA[Working Class]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.struggle.com.pk/?p=2342</guid>
		<description><![CDATA[تحریر: عمر فاروق:- سعودی عرب عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی ایک اہم اور مضبوط کڑی ہے۔یہاں محنت کش طبقے کے استحصال، جبر اور تشدد کی ایک لمبی تاریخ ہے۔پہلی عالمی جنگ کے بعد برطانوی سامراج نے جب مشرقِ وسطیٰ کی بندر بانٹ کی تو اس خطے کو اپنے گماشتے السعود کے حوالے کیا جو اس [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fpotential-mass-movement-in-saudi-arabia%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:75px;margin-top:5px;"></iframe><p class="Urdu">تحریر: عمر فاروق:-<br />
سعودی عرب عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی ایک اہم اور مضبوط کڑی ہے۔یہاں محنت کش طبقے کے استحصال، جبر اور تشدد کی ایک لمبی تاریخ ہے۔<span id="more-2342"></span>پہلی عالمی جنگ کے بعد برطانوی سامراج نے جب مشرقِ وسطیٰ کی بندر بانٹ کی تو اس خطے کو اپنے گماشتے السعود کے حوالے کیا جو اس سے پہلے ایک بدو لٹیرا تھا۔اس نے جنگ کے دوران کئی دفعہ برطانوی سامراج کو خط لکھا کہ اس کی وفاداری پر اعتماد کیا جائے اور وہ اپنے آقاؤں کی ہر طرح خدمت کرے گا۔<br />
دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکی سامراج نے سعودی حکمرانوں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔اس دوران تیل کی دریافت کی بدولت السعود خاندان کی بادشاہت کی جڑیں بھی مضبوط ہوتی گئیں اور ان کا جبر اور استبداد بھی بڑھتا گیا۔اس دوران وہ خطے میں سامراجی کردار بھی ادا کرتے رہے اوراسلامی بنیاد پرست اور دہشت گرد تنظیموں کی مالی امداد کرتے رہے۔<br />
اپنی بادشاہت اور جبر کو قائم رکھنے کے لیے وہ اس عرصے میں اپنے ملک میں ابھرنے والی بغاوتوں کو بھی خون میں ڈبو تے رہے۔ ایک وقت میں شاہ فیصل نے اپنے خلاف بغاوت کرنے والے فوجیوں کو ہوائی جہاز سے بغیر پیراشوٹ کے ہزاروں فٹ کی بلندی سے پھنکوایا تھا۔<br />
2011ء میں ابھرنے واے عرب انقلاب نے سعودی عرب کے عوام پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔اس ملک میں سخت رجعتی قوانین کے نفاذ، میڈیا پر پابندی اور سامراجی طاقتوں سے تعلقات کے باعث اس ملک کی بہت کم خبریں منظر عام پر آتی ہیں۔لیکن اس کے باوجود 2011ء میں یہاں بغاوت کے آثار نظر آئے۔خاص طور پر یمن اور بحرین کے انقلابات نے سعودی عرب میں اہم اثرات مرتب کیے۔<br />
<img class="alignright" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/05/Fascist-Saudi-regime.jpg" alt="" width="320" height="207" />آج کا سعودی عرب کا معاشرہ مختلف تضادات کا مجموعہ ہے،ایک طرف مذہبی نبیاد پرستی اور رجعتیت کا گڑھ اور دوسری طرف سعودی عوام کے اندر رجعتیت کے خلاف پنپنے والی نفرت،جس کا اظہار مختلف مواقعوں پر مختلف انداز میں ہوتا ہے۔<br />
اپنے جبر کو قائم رکھنے کے لیے بادشاہ کی جانب سے ایک طرف انتہائی سخت گیر رجعتی قوانین لاگو ہیں اور دوسری طرف ملٹی نیشنل کمپنیاں معیشت پر چھائی ہوئی ہیں۔رجعتیت اور ملائیت کے ٹیکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے مختلف مواقعوں پر تضاد بنے جس کے نتیجے میں ملائیت کو شکست سے دوچار ہونا پڑا۔جس کی تازہ ترین مثال چند سال پہلے عام ہونے والی موبائل فون اور انٹر نیٹ کی ٹیکنالوجیز ہیں۔ابتداء میں سعودی ملاؤں نے خواتین کے انٹرنیٹ اور موبائل فون کے استعمال پر پابندی لگائی اور بعد ازاں کیمرے والے موبائل کے استعمال پر پابندی عائد کی۔مگر دوسری طرف ان سب میں سرمایہ کاری کرنے والے شاہی خاندان کے لوگ اور انٹر نیشنل سرمایہ دار کمپنیاں،جوکہ سعودی منڈی میں مہنگے فون اور کمپیوٹر بیچ کر منافع کمانا چاہتی ہیں کے مفادات اس میں وابستہ تھے کہ زیادہ سے زیادہ اشیاء بیچی جائیں۔ سعودی عرب جس کی آبادی کا 50 فی صد سے زائد خواتین پر مشتمل ہے،اور خواتین کو اس منڈی سے الگ کرنے کا مطلب یہ تھا کہ آپ منڈی کو آدھا کر رہے ہیں کیونکہ اگر خواتین کے پاس فون نہیں ہو نگے تو موبائل کمپنیوں کے نت نئے پیکیجز کون لوگ لیں گے۔<br />
ان منافعوں کی ہوس کے باعث بننے والے تضادات وہ وجہ بنی کہ رجعتی ریاست کو ہی رجعتیت کے خلاف کچھ اقدامات کرنے پڑے۔ریاستی مداخلت کے نتیجے میں ملائیت کی ساکھ کچھ عرصے کے لئے بچ گئی ورنہ خطرہ پید ا ہو سکتا تھا کہ چند سال پہلے بننے والے ان تضادات کے نتیجے میں ملائیت کے خلاف عوام میں ایک بغاوت پنپ رہی تھی اور لوگ پابندیوں کے باوجود موبائل فون کا استعمال بھی کر رہے تھے اور کیمرے والے فون بھی لوگوں کے پاس دھڑا دھڑ پہنچ رہے تھے۔مگر ان تمام حرکات کے باوجود سعودی ریاست اور سامراجی طاقتوں کویہاں ملائیت کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="Urdu"><span style="color: #ff0000;">غربت اور سعودی عرب</span><br />
گزشتہ سال تراد السمری نامی ایک سعودی نوجوان نے ایک ڈاکومنٹری بنائی جس کا مقصد حکام کی توجہ غربت کے مسئلے پر مبذول کرانا تھا۔ڈاکومنٹری کا نام <a href="http://www.youtube.com/watch?v=0v86taYM2sw" target="_blank">My salary is 1000 Riyalz</a> (میری تنخواہ ہزار ریال ہے) تھا۔اور فلم اس نے انٹرنیٹ کے ذریعے عام لوگوں تک پہنچائی کیونکہ میڈیا کا کوئی ادارہ شاید اس فلم کو دکھا نہ پاتا۔<br />
<a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/05/My-salary-is-1000-riyal.jpg" target="_blank"><img class="alignleft" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/05/My-salary-is-1000-riyal.jpg" alt="" width="311" height="226" /></a>اس ڈاکومنٹری کے مطابق سعودی عرب میں غربت بڑھ رہی ہے اور بہت بڑی تعداد میں لوگ انتہائی کسمپرسی میں رہ رہے ہیں۔ اسمری کی اس فلم سے کم از کم بہت سے لوگوں کو یہ تو اندازہ ہوا کہ سعودی عرب میں بھی غریب لوگ رہتے ہیں جو خاندانی طور پر سعودی باشندے ہی ہیں نہ کہ بیرونِ ملک سے آئے ہیں۔ ورنہ عام تاثر یہی تھا کہ سعودی عرب میں صرف امیر لوگ رہتے ہیں۔<br />
چند سال پہلے کے اگر سوشل افیئرز کی وزارت کے اعدادو شمار دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ اصل حقائق کیا ہیں۔ان اعدادوشمار کے مطابق جو کہ اسی وقت کے وزیر ڈاکٹر یوسف العثمان نے جاری کئے662126 ایسے سعودی خاندان ہیں جو مختلف قسم کے وظائف پر گزارہ کر رہے ہیں۔اگر ہم ایک خاندان کو5 افراد پر مبنی خیال کریں تو افراد کی کل تعداد 3310625 بنتی ہے۔اس کا مطلب آج سے چند سال پہلے 3310625 افراد ایک انتہائی امیر ملک میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے تھے۔اس کے علاوہ بے روزگار افراد کی تعداد پر کوئی حتمی اعدادوشمار تو نہیں دئیے جا سکتے مگر یہ کہا گیا کہ 4 لاکھ سے زائد افراد بے روزگار ہیں۔سعودی عرب کی کل آبادی اس وقت 2کروڑ کے قریب ہے۔<br />
اس سب کے بارے میں ڈاکٹر یوسف نے الوفن نامی جریدے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تعداداس وقت میں ہے جب افراطِ زر کی شرح بھی انتہائی کم ہے،اور اس میں وہ خاندان شامل نہیں جو کہ کم از کم ابتدائی ضروریاتِ زندگی حاصل کر رہے ہیں۔<br />
کچھ غیر سرکاری اعدادوشمار کے مطابق تقریباً25فیصد سے زائد سعودی خاندان ایسے ہیں جوغربت کی انتہائی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔جبکہ 75فیصد سے زائد افراد طویل مدتی اور کم وقتی قرضے لینے پر انتہائی مجبور ہیں۔<br />
<a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/05/Poverty-in-Saudia-11.jpg" target="_blank"><img class="alignright" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/05/Poverty-in-Saudia-11.jpg" alt="" width="328" height="231" /></a>سعودی عرب کے بڑے شہروں کا بھی اگر دورہ کیا جائے تو ریاض شہر جو کہ سعودی عرب کا دارالحکومت، اس کے عین وسط میں مرسلات نامی ٹاؤن جو کہ ایک انتہائی پوش علاقہ سمجھا جاتا ہے وہاں ایک بڑی کچی بستی دیکھنے کو ملتی ہے، جہاں زیادہ تر سیکورٹی میں بھرتی سعودی سپاہی رہتے ہیں یا پھر بے روزگار، حکومتی وظیفوں یا زکوٰۃ پر بسنے والے۔اس طرح ریاض شہر کے قدیم علاقوں میں انتہائی خستہ حال آبادیاں اور ایسے لوگ ملیں گے جو لوٹ مار پر مجبور ہیں۔کئی علاقے ایسے ہیں جہاں سٹریٹ کرائم ایک معمول سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح جدہ اور دوسرے شہروں میں بھی صورتِ حال کچھ مختلف نہیں۔اور اگر شہروں سے نکل کر ہم چھوٹے شہرو ں اور دیہاتی علاقوں کو دیکھیں تو وہاں انتہائی پست حال آبادیاں نظر آتی ہیں۔<br />
اس سب کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر ہم سعودی عرب جانے والے لوگوں کو دیکھیں تو ایک اور تضاد نظر آتا ہے۔ترقی پذیر ممالک سے سعودی عرب روزگار کی تلاش میں جانے والے افراد کی تعداد میں بھی اضافہ نظر آتا ہے اور دوسری طرف سعودی عرب کے نوجوانوں میں بے روزگاری بھی بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے۔<br />
اس کی وجہ یہ ہے کہ مہنگی تعلیم اور سرکاری طور پر نوجوانوں کی تعلیم کو جان بوجھ کر نظر انداز کرنے اور انہیں زکوٰۃاور سرکاری وظیفوں کا عادی بنانے کی وجہ سے سعودی نوجوان تعلیم اور ہنر میں ترقی پذیر ممالک کے نوجوانوں سے بہت پیچھے ہیں۔دوسری جانب ترقی پذیر ممالک اور سعودی کرنسی میں بے انتہا فرق کی وجہ سے ان ترقی پذیر ممالک میں روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے وہاں کے نوجوان انتہائی کم تنخواہوں پر کام کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔جس کی وجہ سے سعودی عرب کے سرمایہ دار غیرملکی ترقی پذیر ممالک کی لیبر کو ترجیح دیتے ہیں۔اس صورتِ حال کی وجہ سے سعودی عرب کے اندر مقامی آبادی میں بے روزگاری کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔<br />
اس کے علاوہ دوسرے ممالک سے آنے والے محنت کشوں کے روزگار کو بھی کسی قسم کا کوئی قانونی تحفظ حاصل نہیں اور نہ ہی عالمی لیبر قوانین پر عمل درآمد کیا جاتا ہے۔انہیں انتہائی بد ترین حالات میں کام پر مجبور کیا جاتا ہے۔ لیکن غربت کے ہاتھوں تنگ محنت کش یہ سب سہنے مجبور ہیں۔<br />
لیکن یہ صورتحال مقامی آبادی میں غیر ملکیوں خصوصاً جنوبی ایشیائی باشندوں کے خلاف نفرت پیدا کر رہی ہے۔مقامی آبادی ساری صورتحال اور اپنی حق تلفی کا ذمہ دار غیر ملکی محنت کشوں کو سمجھ رہی ہے۔اور ایسے میں غیر ملکی محنت کش ایک اور عجیب قسم کی صورتحال میں پھنس جاتے ہیں۔ایک طرف کم تنخواہوں پر کام،اپنے عزیزو اقارب اور وطن سے دوری، مقامی آبادی کی نفرت اور اگر کوئی مشکل پیش آجائے تو کفیل کے ہاتھوں بلیک میل ہو جاتے ہیں اور وہ ان کی کمائی کا ایک بڑا حصہ کھا جاتے ہیں۔<br />
اگر محنت کشوں کو طبقاتی بنیادوں پر منظم نہ کیا گیا تو سرمایہ داری کا یہ بحران آگے چل کر مقامی اور بیرونِ ممالک کے محنت کشوں کے درمیان تصادم کو جنم دیتا ہوا نظر آرہا ہے۔جس کے نتیجے میں مقامی آبادی اور غیر ملکیوں کے درمیان خوفناک لڑائی بھی ہو سکتی ہے۔ ایسی ہی صورتحال بحرین کے انقلاب میں بھی نظر آتی ہے۔ بحرین کے بادشاہ کی طرح سعودی حکومت بھی اس صورتحال کو اپنے مفادات میں استعمال کرنے کی کوشش کرے گی اور محنت کش طبقے کوآپس کی لڑائیوں میں الجھا کر مجموعی طور پر مزید کچلا جائے گا۔لیکن اس صورتحال کے بر عکس سعودی محنت کش طبقے کے اندر کسی حد تک بیداری کی کیفیت جو عرب انقلاب نے پیدا کی وہ بھی نظر آتی ہے۔</p>
<p class="Urdu"><span style="color: #ff0000;"> 2011ء کی تحریکیں</span><br />
سعودی ٹیلی کام کی نجکاری کے وقت سعودی ٹیلی کام کے محنت کشوں نے ملک کے اکثر حصوں کی سروس بند کر دی اور سنٹر ہیلپ لائن کو بند کر کے شہزادے کے دفتر کے باہر مظاہرہ شروع کر دیا جس کے نتیجے میں اگلے دن سعود یہ کے بادشاہ کوٹی وی پر آکر عوام کے بہت سے مطالبات تسلیم کرنے اور تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کرنا پڑا۔سعودی بادشاہ نے اس وقت تنخواہوں میں اضافے اور بے روزگاری الاؤنس کو 300 ڈالر کرنے کا اعلان کیا۔ یہ اس لئے بھی ہو سکا کیونکہ اس وقت عرب دنیا میں ایک انقلابی تحریک چل رہی تھی۔ اور سعودی عرب کی ریاست اس تحریک سے خوف زدہ تھی اور اس لئے اسے یہ سب مطالبات وقتی طور پر تسلیم کرنے پڑے۔<br />
عین ان دنو ں سعودی اساتذہ نے ملازمتوں پر مستقل کرنے کی تحریک شروع کی اور ریاض میں وزارتِ تعلیم کے دفاتر کے باہر مظاہرے کیے،جسے انتہائی بیدردی سے کچلا گیا اور بہت سے اساتذہ کو گرفتار کیا گیا۔ مگر بعدازاں STCکی ہڑتال کے بعد انہیں اس خوف سے چھوڑ دیا گیا کہ کہیں کوئی بڑی تحریک نہ بن جائے۔<br />
گزشتہ سال ہونے والی اساتذہ کی ہڑتال اور ان کے مظاہرے جو کہ وزارت تعلیم کے دفتر کے باہر ہوئے اس میں ان کے مطالبات میں جو سر فہرست تھا وہ ملازمتوں پر مستقل کیا جانا اور مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں اضافہ تھا۔ اس مظاہرے میں مرد اساتذہ کے ساتھ ساتھ خواتین اساتذہ بھی شریک تھیں۔<br />
اس کے علاوہ سعودی عرب میں موجودہ بحران کے باعث بحرین کی سرحد پر واقع قطیف نامی شہر میں عوام اپنے مطالبات کے لیے پر امن تحریک چلا رہے تھے، مگر سعودی حکومت کی جانب سے ان پر پرتشدد حملے کیے گئے۔ کئی بار ان پر فائرنگ کی گئی اور اس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں، قطیف کے لا تعداد نوجوان سعودی جیلوں میں طویل عرصے سے قید ہیں مگر سعودی حکومت نہ ان پر کیس چلا رہی ہے اور نہ ہی انہیں رہا کیا جا رہا ہے۔ ایک بار قطیف میں ایک اجتماعی مظاہرے پر پانی میں تیزاب ملا کر کے لوگوں پر پھینکا گیا جس کے نتیجے میں کئی لوگ جھلس گئے۔ گزشتہ سال صفوا نامی شہر میں جو کہ مشرقی صوبے میں واقع ہے، وہاں درجنوں نوجوانوں نے مظاہرہ کیا اور ان افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا جنہیں 1996ء میں خوبرنامی شہر میں امریکیوں کی بیرکوں پر حملے کے شک میں گرفتا ر کیا گیا۔ اس طرح قطیف میں ایک مظاہرہ ہوا جو کہ معاشی مسائل پر مبنی تھا، جس میں لوگوں نے بینر اٹھائے ہوئے تھے جس پر لکھا تھا<br />
No Sunni &#8230;&#8230;&#8230;.. No Shia&#8230;&#8230;&#8230;. We all for Freedom<br />
قطیف کی آبادی کی اکثریت شعیہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے اور وہاں موجود تحریک کو حکمران فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔لیکن بینر کی یہ عبارت واضح کرتی ہے کہ یہ تحریک بحرین کے انقلاب کی طرز پر طبقاتی بنیادوں پر ابھر رہی ہے اور عوام میں فرقہ وارانہ تعصب موجود نہیں۔<br />
اس طرح خواتین نے بھی اپنے مطالبات کے حق میں ریاض شہر میں مظاہرہ کیا جس میں 60سے زیادہ خواتین شریک ہوئیں۔<br />
گزشتہ سال 11مارچ کو سعودی عرب میں موجودہ سٹیٹس کو اور معاشی حالات سے تنگ نوجوانوں نے انٹرنیٹ پر موجود رابطوں کے ذریعے ملک گیر مظاہرے کی کال دی اور ریاض شہر میں مرکزی مظاہرے کا اعلان کیااس مظاہرے کے مطالبات میں عرب انقلابات کیساتھ اظہار یکجہتی، بحرین میں سعودی مداخلت کا خاتمہ اور انقلابیوں کے خلاب فوج کے ایکشن کو روکنا شامل تھا۔ اس دن کو Day of rageکا نام دیا گیا۔ اس دن کوئی مظاہرہ تو نہ کیا گیا مگر اس کال سے جو خوف و ہراس ریاست اور اس کی مشینری میں دیکھا گیا ایسا سعودی عرب میں پہلے کبھی نہ تھا۔ اس دن ریاض شہر میں کرفیو کا ساسماں تھا ہر جگہ ایجنسیوں، فوج اور پولیس کے لوگ موجود تھے، ایسا لگتا تھا جیسے شہر پہ کوئی بیرونی قبضہ ہونے والا ہے۔<br />
2011ء ہی کے بڑے واقعات میں ایک واقعہ جدہ میں ہونے والا مظاہرہ تھا۔ جدہ سعودی عرب کے معاشی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے اور سب سے بڑا صنعتی شہر ہے۔ 2011ء کے سیلاب میں یہ شہر ڈوب گیا۔ 5-6گھنٹے کی بارش میں پورا جدہ شہر ڈوب چکا تھا۔ ایک اندازہ کے مطابق 75سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے تھے۔<br />
اس سیلاب نے ریاست کے ترقیاتی کاموں کا پول عوام پر کھول دیا۔ سعودی عوام اس وقت تیونس اور مصر کے انقلاب کے بعد شعوری طور پر دہائیوں کا سفر بھی طے کر چکے تھے۔ ان کی شعوری سطح چند ماہ پہلے جیسی نہ رہی، نتیجتاًجدہ کے گورنر ہاؤس کے باہر ہزاروں افراد کا مظاہرہ ہوا، اور اس مظاہرے کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی۔ مگر مظاہرین اگلے روز پھر موجود تھے، تین دن تک یہ ہوتا رہا، چوتھے دن ریاست کو گرفتار مظاہرین کو رہا بھی کرنا پڑا اور یہ اعلان کرنا پڑا کہ لوکل سطح پر جلد انتخابات کروائے جائیں اور لوکل گورنمنٹ کو منتخب نمائندوں کے حوالے کیا جائے گا۔ مگر یہ اعلان کب پایہ تکمیل کو پہنچے ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔<br />
گزشتہ سال کے بڑے دو واقعات میں خواتین کی بغاوت بھی ایک بڑا واقعہ ہے۔ خواتین جو کہ ایک لمبے عرصے سے حقوق سے محروم ہیں۔ عرب انقلاب کے نتیجے میں انہوں نے مختلف عرب تحریکوں سے طاقت حاصل کر کے ہوئے جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ جس میں سرفہرست مطالبات<br />
<span style="color: #ff0000;">1</span>۔ معاشی آزادی (کاروبار یا ملازمت کا اختیار )<br />
<span style="color: #ff0000;">2</span>۔ڈرائیونگ کی اجازت<br />
<span style="color: #ff0000;">3</span>۔محرم کی شرط کا خاتمہ<br />
اس کے علاوہ بھی بہت سے ایسے مطالبات ہیں جن کی ایک لمبی تفصیل ہے۔<br />
<a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/05/women2drive.png" target="_blank"><img class="alignright" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/05/women2drive.png" alt="" width="312" height="280" /></a>مختصر یہ گزشتہ سال خواتین نے ایک یوم بغاوت منانے کا اعلان کیا اور کہا کہ 17جون ’’یوم بغاوت‘‘کو خواتین سڑکوں پر خود گاڑیاں چلائیں گی۔ اور متعدد خواتین نے 12جون کو قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گاڑی چلائی اور ویڈیوبنا کر یو ٹیوب پر بھی شئیر کرد ی۔ یہ ایک علامتی احتجاج تھا مگر سعودی حکومت جو کہ عرب انقلابات سے انتہائی خوفزدہ تھی نے اعلان کیا کہ ان مسائل پر حکومت غور کرے گی، اور ایک مطالبہ کسی حد تک مانا کہ خواتین کے ملبوسات کی دکانوں پر خواتین کو کام کرنے کی اجازت دی گئی مگر ایسے معاشرے میں خواتین کو آزادی کہاں تک مل سکتی ہے جہاں مرد بھی آزاد نہ ہوں۔<br />
اسی طرح بہت سے مزید ایسے واقعات اس ملک میں ہرروز ہوتے ہیں جو منظر عام پر نہیں آتے۔ یہاں تک کہ انٹرنیٹ پر سے بھی انہیں عائب کروایا دیا جاتا ہے۔<br />
عرب انقلاب نے بہت سے فرعونوں کے تخت الٹے ہیں اور ان میں حسنی مبارک ‘ قذافی ‘ تیونس کا بن علی‘ یمن کا محمد صالح شامل ہیں۔ شام اور اردن اور بحرین میں تحریکیں ابھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں۔ عالمی معاشی بحران کا ابھی خاتمہ نہیں ہوا۔ آنے والے عرصے میں یہ مزید گہرا ہوگا۔ایسے میں رجعتی حکمران طبقات کے خلاف عوام کا غم وغصہ مزید ابھرے گا اور مختلف شکلیں لیتا ہوا انقلابات کی شکل میں اپنا اظہار کرے گا۔<br />
سعودی عرب میں دہائیوں سے قائم بادشاہت کی بنیادیں عرب انقلاب نے ہلا دی ہیں۔ آنے والے عرصے میں عوامی طوفان اس کو مزید کمزور کریں گے اور انقلابی تبدیلی کا نقطہ آغاز بنیں گے۔</p>
<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fpotential-mass-movement-in-saudi-arabia%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:75px;margin-top:5px;"></iframe>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.struggle.com.pk/potential-mass-movement-in-saudi-arabia/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>لہو نذر دے رہی ہے حیات</title>
		<link>http://www.struggle.com.pk/poetry-sahir-ludhianvi/</link>
		<comments>http://www.struggle.com.pk/poetry-sahir-ludhianvi/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 16 May 2012 17:23:58 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Poetry]]></category>
		<category><![CDATA[Ludhianvi]]></category>
		<category><![CDATA[Sahir]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.struggle.com.pk/?p=2318</guid>
		<description><![CDATA[]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fpoetry-sahir-ludhianvi%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:75px;margin-top:5px;"></iframe><p><span id="more-2318"></span><img class="aligncenter" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/05/Sahir-Poem-Issue-5-copy-e1337188873589.png" alt="" width="360" height="2216" /></p>
<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fpoetry-sahir-ludhianvi%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:75px;margin-top:5px;"></iframe>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.struggle.com.pk/poetry-sahir-ludhianvi/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>فن اور طبقاتی جدوجہد</title>
		<link>http://www.struggle.com.pk/class-struggle-art-by-alan-woods/</link>
		<comments>http://www.struggle.com.pk/class-struggle-art-by-alan-woods/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 15 May 2012 12:47:59 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Books]]></category>
		<category><![CDATA[Marxist Education]]></category>
		<category><![CDATA[ ]]></category>
		<category><![CDATA[Alan Woods]]></category>
		<category><![CDATA[Art]]></category>
		<category><![CDATA[Class Struggle]]></category>
		<category><![CDATA[Marxism]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.struggle.com.pk/?p=2313</guid>
		<description><![CDATA[کچھ حضرات کا خیال ہے کہ فن ایک ضمنی سامعاملہ ہے اور زیادہ اہم نہیں ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ انسانوں کے لئے انتہائی بنیادی نوعیت کاحامل ہے۔ یہ اس قدر بنیادی چیز ہے کہ بعض ماہرین بشریات کا خیال ہے کہ نوع انسانی کی شروعات کی وضاحت فن کے ظہور کے ذریعے کی جاسکتی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fclass-struggle-art-by-alan-woods%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:75px;margin-top:5px;"></iframe><p class="Urdu">کچھ حضرات کا خیال ہے کہ فن ایک ضمنی سامعاملہ ہے اور زیادہ اہم نہیں ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ انسانوں کے لئے انتہائی بنیادی نوعیت کاحامل ہے۔<span id="more-2313"></span> یہ اس قدر بنیادی چیز ہے کہ بعض ماہرین بشریات کا خیال ہے کہ نوع انسانی کی شروعات کی وضاحت فن کے ظہور کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔یہ حقیقت کہ ہماری انسانی نسل( یعنی ہوموسیپئین) کے ظہور کی پہلی سنجیدہ علامات میں سے ایک فن کا وجود ہے۔ یعنی جمالیاتی حس کا ٹھوس اظہار! اس کتابچے میں ایلن ووڈز نے انسانی سماج میں آرٹ کے ارتقاء اور اس کے کردار پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور مختلف طبقاتی سماجوں (غلام داری، جاگیرداری، سرمایہ داری)میں پنپنے والے آرٹ اور اس کی نوعیت کے ساتھ ساتھ ایک سوشلسٹ سماج میں آرٹ کے کردار کا بھی مختصر تجزیہ پیش کیا ہے۔</p>
<p>مصنف: ایلن ووڈز<br />
صفحات کی تعداد: 38<br />
سائز:1MB<br />
PDFفائل ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے <a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/05/Class-Struggle-Art-by-Alan-Woods-www.struggle.com_.pk_.pdf" target="_blank">یہاں کلک کریں</a>۔</p>
<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fclass-struggle-art-by-alan-woods%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:75px;margin-top:5px;"></iframe>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.struggle.com.pk/class-struggle-art-by-alan-woods/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>بلوچستان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے محنت کشوں کی تحریک</title>
		<link>http://www.struggle.com.pk/bda-workers-struggle/</link>
		<comments>http://www.struggle.com.pk/bda-workers-struggle/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 15 May 2012 12:12:42 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Reports]]></category>
		<category><![CDATA[Workers' Struggle]]></category>
		<category><![CDATA[Balochistan]]></category>
		<category><![CDATA[BDA]]></category>
		<category><![CDATA[Development Authority]]></category>
		<category><![CDATA[Labor Movement]]></category>
		<category><![CDATA[Protest]]></category>
		<category><![CDATA[Workers Struggle]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.struggle.com.pk/?p=2308</guid>
		<description><![CDATA[رپورٹ : نذر مینگل:- بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایک خود مختار ادارہ ہے جو 1974 ء میں معرض وجود میں آیا لیکن اس وقت اس ادارے اور اس میں کام کرنے والے محنت کشوں کا مستقبل خطرے میں پڑ چکا ہے۔ یہ 4% بی ڈی اے چارجز (Cost) پر بلوچستان میں ترقیاتی کاموں کے خدمات سر [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fbda-workers-struggle%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:75px;margin-top:5px;"></iframe><p class="Urdu">رپورٹ : نذر مینگل:-</p>
<p class="Urdu">بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایک خود مختار ادارہ ہے جو 1974 ء میں معرض وجود میں آیا لیکن اس وقت اس ادارے اور اس میں کام کرنے والے محنت کشوں کا مستقبل خطرے میں پڑ چکا ہے۔<span id="more-2308"></span> یہ 4% بی ڈی اے چارجز (Cost) پر بلوچستان میں ترقیاتی کاموں کے خدمات سر انجام دینے والا صوبائی حکومت کا ماتحت ادارہ ہے اور اپنے وسائل سے تمام اخراجات اور ملازمین کی تنخواہیں ادا کرتا ہے۔اب بی ڈی اے کے 4% چارجز کم کر کے صرف 2% کر دئیے گئے ہیں جبکہ ملازمین کی تعداد 1300 سے تجاوز کر چکی ہے۔ محکمہ کے اخراجات کے علاوہ صرف ماہانہ تنخواہوں کی مد میں ڈھائی کروڑروپے جو سالانہ تیس کروڑ روپے بنتے ہیں اور موجودہ حالا ت میں ادارے کے لئے اتنی خطیر رقم ادا کر نا ناممکن ہو گیا ہے جس کی وجہ سے 1300 ملازمین کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ لہٰذا بی ڈی اے کے ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں مظاہروں اور احتجاجی بھوک ہڑتال کا سلسلہ شروع کیا ہے۔اس سلسلے میں گورنر ہاؤ س کے سامنے دھرنا بھی دیا گیا ہے اور بھوک ہڑتال اپنے 17 ویں دن میں داخل ہو چکی ہے ۔ ملازمین کا مطالبہ ہے کہ بی ڈی اے کے اربوں روپے کے اثاثے صوبائی حکومت اپنی تحویل مین لے کر ادارے کے تمام اخراجات اور ملازمین کی تنخواہوں کے لئے صوبائی بجٹ میں (صوبائی محکمہ جات میٹروپولیٹن کارپوریشن اور گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرز پر)سے بی ڈی اے کے لئے سالانہ صوبائی بجٹ میں غیر ترقیاتی فنڈ مختص کیا جائے اور ادارے میں ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ کیا جائے۔ تاکہ ادارے کے تمام ملازمین جو مستقبل کے حوالے سے شدید بے چینی کا شکار ہیں مطمئن ہو سکیں اور 1300 گھرانوں کے چولہے جلتے رہیں۔ملازمین کا مطالبہ ہے کہ ان کے مطالبات فوری طور پر منظور کئے جائیں بصورت دیگر جد وجہد کوتیز کر کے مزید وسعت دی جائے گی۔ PTUDCکے وفد نے بی ڈی اے کے بھوک ہڑتالی کیمپ کا دورہ کیا اور انہیں ان کی جد وجہد میں مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ PTUDC مزدوروں کی جد وجہد میں ان کے شانہ بشانہ رہے گی اور مطالبہ کر تی ہے کہ مزدوروں کے مطالبات کو فوری طور پر حل کئے جائیں۔</p>
<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fbda-workers-struggle%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:75px;margin-top:5px;"></iframe>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.struggle.com.pk/bda-workers-struggle/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>فیصل آباد میں پیرا میڈیکل سٹاف کا احتجاج</title>
		<link>http://www.struggle.com.pk/paramedical-staff-protest-in-faisalabad/</link>
		<comments>http://www.struggle.com.pk/paramedical-staff-protest-in-faisalabad/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 15 May 2012 11:52:54 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Reports]]></category>
		<category><![CDATA[Workers' Struggle]]></category>
		<category><![CDATA[Allied Hospital]]></category>
		<category><![CDATA[Faisalabad]]></category>
		<category><![CDATA[Labor Movement]]></category>
		<category><![CDATA[Protest]]></category>
		<category><![CDATA[PTUDC]]></category>
		<category><![CDATA[Service Structure]]></category>
		<category><![CDATA[Workers Struggle]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.struggle.com.pk/?p=2305</guid>
		<description><![CDATA[رپورٹ: PTUDC فیصل آباد:- 12مئی کو الا ئیڈ ہسپتال اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال فیصل آباد میں پیرا میڈیکل سٹاف نے پنجاب حکومت کی جانب سے سروس سٹرکچر کے اعلان کے بعد، ایک سال گزر جانے کے باوجود عدم نفاذ پر یوم سیاہ منایا۔الائیڈ ہسپتال کے شعبہ ایمر جنسی کے سامنے تقریبا 800مزدوروں نے دھرنا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fparamedical-staff-protest-in-faisalabad%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:75px;margin-top:5px;"></iframe><p class="Urdu">رپورٹ: PTUDC فیصل آباد:-<br />
12مئی کو الا ئیڈ ہسپتال اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال فیصل آباد میں پیرا میڈیکل سٹاف نے پنجاب حکومت کی جانب سے سروس سٹرکچر کے اعلان کے بعد، ایک سال گزر جانے کے باوجود عدم نفاذ پر یوم سیاہ منایا۔<span id="more-2305"></span>الائیڈ ہسپتال کے شعبہ ایمر جنسی کے سامنے تقریبا 800مزدوروں نے دھرنا دیا جس میں خواتین بھی بڑی تعداد میں شریک تھیں۔دھرنے میں شریک مزدور وں سے خطاب کرتے ہوئے مزدورہنماوءں نے پنجاب حکومت کی مزدور دشمن پالیسیوں کی بھرپور مذمت کی اور مطالبات پورے نہ کرنے کی صورت میں دھرناجاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔<br />
دھرنے میں شریک مزدوروں سے خطاب کرتے ہوئے پیرا میڈیکل سٹاف یونین کے ڈویژنل صدر میاں طارق نے کہا کہ پنجاب حکومت اپنے اللے تللوں پر اربوں روپے خرچ کر رہی ہے لیکن مزدورکے لیے دو وقت کی روٹی کمانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ دھرنے کا مقصد عوام کو تنگ کرنا نہیں بلکہ محنت کشوں کی آواز کو حکمرانوں کے ایوانوں تک پہنچانا ہے۔انھوں نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ سروس سٹرکچر سمیت مزدوروں سے کیے گئے تمام وعدے پورے کیے جائیں ورنہ دھرنے جاری رہیں گے۔ اشرف علی کھوکھر نے کہا کہ مزدوروں کو اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرنا ہو گی اور اس کے بغیر مزدور ان ظا لم حکمرانوں سے کسی قسم کی بہتری کی امید نہ رکھیں ۔ کامریڈعصمت نے پنجاب حکومت کی مزدور دشمن پالیسیوں کی شدید مذمت کی اور پیرا میڈیکل سٹاف کے تما م مطالبات کی حمایت کا اعلان کیااور PTUDCکی جانب سے پیرا میڈیکل سٹاف کی اس جدوجہد میں اپنے ساتھ کا یقیں دلایا۔اس کے علاوہ PTUDCسے کامریڈ ارتقاء،کامریڈصفدر اور کامریڈ ہارون نے مزدوروں کے بڑھتے ہوئے مسائل اور ان کے حل کے لیے مزدوروں کے اتحاد پر زور دیا۔دیگر مقررین میں حکیم خان نیازی، رانا بابر شہباز، ملک مختار، شاہد علی پنسوتہ اور فضل مسیح نے مزدوروں کے مسائل پر بات چیت کی۔</p>
<p class="Urdu"><span style="color: #ff0000;">مطالبات</span></p>
<p class="Urdu">*سکیل 1تا 15کے ملازمین کے سروس سٹرکچر کا فوری نفاذ کیا جائے۔</p>
<p class="Urdu">*دوسرے صوبوں کی طرح پنجاب کے پیرا میڈیکل سٹاف کے سروس سٹرکچر کو نا فذالعمل کیا جائے اور رسک الاؤ نس دیا جائے۔</p>
<p class="Urdu">*سکیل 1تا 4کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز مزدوروں کو فی الفور مستقل کیا جائے۔</p>
<p class="Urdu">*سکیل ۱ تا 4 ملازمین کو پروفیشنل الا ؤنس دیا جائے۔</p>
<div style="text-align: center;"><object width="400" height="267" classid="clsid:d27cdb6e-ae6d-11cf-96b8-444553540000" codebase="http://download.macromedia.com/pub/shockwave/cabs/flash/swflash.cab#version=6,0,40,0"><param name="src" value="https://picasaweb.google.com/s/c/bin/slideshow.swf" /><param name="flashvars" value="host=picasaweb.google.com&amp;hl=en_GB&amp;feat=flashalbum&amp;RGB=0x000000&amp;feed=https%3A%2F%2Fpicasaweb.google.com%2Fdata%2Ffeed%2Fapi%2Fuser%2F116459874014772347895%2Falbumid%2F5742724739456691073%3Falt%3Drss%26kind%3Dphoto%26hl%3Den_GB" /><param name="pluginspage" value="http://www.macromedia.com/go/getflashplayer" /><embed width="400" height="267" type="application/x-shockwave-flash" src="https://picasaweb.google.com/s/c/bin/slideshow.swf" flashvars="host=picasaweb.google.com&amp;hl=en_GB&amp;feat=flashalbum&amp;RGB=0x000000&amp;feed=https%3A%2F%2Fpicasaweb.google.com%2Fdata%2Ffeed%2Fapi%2Fuser%2F116459874014772347895%2Falbumid%2F5742724739456691073%3Falt%3Drss%26kind%3Dphoto%26hl%3Den_GB" pluginspage="http://www.macromedia.com/go/getflashplayer" /></object></div>
<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fparamedical-staff-protest-in-faisalabad%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:75px;margin-top:5px;"></iframe>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.struggle.com.pk/paramedical-staff-protest-in-faisalabad/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>سوئی ناردرن گیس کے عارضی میٹر ریڈرز کا لاہور میں احتجاج</title>
		<link>http://www.struggle.com.pk/sngpl-meter-readers-protest/</link>
		<comments>http://www.struggle.com.pk/sngpl-meter-readers-protest/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 15 May 2012 11:17:36 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Reports]]></category>
		<category><![CDATA[Workers' Struggle]]></category>
		<category><![CDATA[Contract Jobs]]></category>
		<category><![CDATA[Labor Movement]]></category>
		<category><![CDATA[Lahore]]></category>
		<category><![CDATA[Meter Readers]]></category>
		<category><![CDATA[Permanent Jobs]]></category>
		<category><![CDATA[Protest]]></category>
		<category><![CDATA[PTUDC]]></category>
		<category><![CDATA[SNGPL]]></category>
		<category><![CDATA[Workers Struggle]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.struggle.com.pk/?p=2300</guid>
		<description><![CDATA[رپورٹ:کامریڈ فاران:- مہنگائی،بے روزگاری اور لوڈ شیڈنگ کے نظام میں جہاں غریب طبقہ کا جینا مشکل کر دیا ہے وہاں حکمران طبقات کی عیاشیوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔حکمران محنت کشوں کے خون پسینے کا آخری قطرہ بھی نچوڑ کر اپنے منافعوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ سوئی ناردن گیس کمپنی کے مزدور [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fsngpl-meter-readers-protest%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:75px;margin-top:5px;"></iframe><p class="Urdu">رپورٹ:کامریڈ فاران:-<br />
مہنگائی،بے روزگاری اور لوڈ شیڈنگ کے نظام میں جہاں غریب طبقہ کا جینا مشکل کر دیا ہے وہاں حکمران طبقات کی عیاشیوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔<span id="more-2300"></span>حکمران محنت کشوں کے خون پسینے کا آخری قطرہ بھی نچوڑ کر اپنے منافعوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ سوئی ناردن گیس کمپنی کے مزدور گزشتہ دو ماہ سے سراپا احتجاج ہیں۔ 12سے 14سال سروس کرنے کے باوجود محکمہ ان کو مستقل نہیں کر رہا ہے۔اور وہ سوئی ناردن گیس کمپنی کے صوبائی دفتر کے سامنے سراپا احتجاج ہیں اوراس سے پہلے سردی کے ایام میں بھی احتجاج کر چکے ہیں۔ اس احتجاج کے دوران ان کا ایک میٹر ریڈر ساتھی جس کا نام کلیم منور ہے۔ جو کہ میاں چنوں میں ملازم ہے دل کا دورہ پڑنے کے سبب دم توڑ دیا جس پر گونر پنجاب لطیف کھوسہ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایک ماہ کے اندر تما م میٹر ریڈر کو مستقل کرے گا مگر اس بات کو گزرے اب ایک ماہ سے زائد ہو چکا ہے اور گونر پنجاب نے اپنا کیا وعدہ پورا نہیں کیا۔<br />
مزید ستم ظریفی یہ ہے کہ محکمے نے سب میٹر ریڈر زکو مستقل کرنے کی بجائے مزید بھرتی کا اعلان کیا ہے جو کہ غلط ہے بلکہ محکمہ کو چاہئے کہ وہ ان تما م ملازمین کو مستقل کریں جو کہ گزشتہ 12سال یا اس سے زائد عرصہ سے محکمہ میں کام کر رہے ہیں۔اس اوپن میرٹ بھرتی کو بند ہونا چاہیئے۔ مال روڈ پر احتجاج کے دوران ملازمین پر بنائی گئی جھوٹی FIRختم ہونی چاہئے۔اور ان کو مستقل کیا جائے۔<br />
پی ٹی یو ڈی سی کے کامریڈز جب اظہار یکجہتی کے لیے پہنچے تو احتجاجی ملازمین نے کہا کہ جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں ہوتے ہم اس وقت تک سوئی ناردن گیس کمپنی کے پنجاب آفس کے سامنے دھرنا دیئے رکھیں گے۔اور ٹھیکیداری نظام کو جو ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے اس کو ختم کریں گے۔<br />
پاکستان ٹر ید یونین ڈیفنس کمپئین ان تمام مطالبات کی حمایت کرتی ہے اور سوئی گیس کے محنت کشوں کے ساتھ ان کے احتجاج میں شریک ہے۔</p>
<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fsngpl-meter-readers-protest%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:75px;margin-top:5px;"></iframe>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.struggle.com.pk/sngpl-meter-readers-protest/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>یونان: سرمایہ داری کی تاریکی میں امید کی کرن</title>
		<link>http://www.struggle.com.pk/silver-lining-in-the-greek-tragedy-by-lal-khan/</link>
		<comments>http://www.struggle.com.pk/silver-lining-in-the-greek-tragedy-by-lal-khan/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 14 May 2012 20:18:08 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[World]]></category>
		<category><![CDATA[ ]]></category>
		<category><![CDATA[Class Struggle]]></category>
		<category><![CDATA[Cuts]]></category>
		<category><![CDATA[Economic Crisis]]></category>
		<category><![CDATA[Elections]]></category>
		<category><![CDATA[Greece]]></category>
		<category><![CDATA[Lal Khan]]></category>
		<category><![CDATA[PASOK]]></category>
		<category><![CDATA[Socialist Revolution]]></category>
		<category><![CDATA[Syriza]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.struggle.com.pk/?p=2294</guid>
		<description><![CDATA[تحریر: لال خان:- (ترجمہ: فرہاد کیانی) فرانس میں میلاشوں کی صدارتی انتخابات کی مہم اور اس ہفتے یونان میں انتخابات میں بائیں بازو کی ریڈیکل قوتوں کی برق رفتار اٹھان نے ساری دنیا میں سرمایہ داری کے عذر خواہوں کے چھکے چھڑا دیے ہیں۔ بائیں بازو کا فرنٹ سیریزا (SYRIZA) ’بائیں بازو کا جھکاؤ‘ رکھنے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fsilver-lining-in-the-greek-tragedy-by-lal-khan%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:75px;margin-top:5px;"></iframe><p class="Urdu">تحریر: لال خان:-<br />
(ترجمہ: فرہاد کیانی)<br />
فرانس میں میلاشوں کی صدارتی انتخابات کی مہم اور اس ہفتے یونان میں انتخابات میں بائیں بازو کی ریڈیکل قوتوں کی برق رفتار اٹھان نے ساری دنیا میں سرمایہ داری کے عذر خواہوں کے چھکے چھڑا دیے ہیں۔<span id="more-2294"></span> بائیں بازو کا فرنٹ سیریزا (SYRIZA) ’بائیں بازو کا جھکاؤ‘ رکھنے والی روائتی پارٹی پاسوک (PASOK)کو شکست دے کر انتخابی نتائج میں دوسرے نمبر پر آ یا ہے۔یونان کے ایک تہائی سے زیادہ ووٹروں نے ’دائیں بازو کا جھکاؤ‘ رکھنے والی پارٹی نیو ڈیموکریسی (New Democracy) اور پاسوک کے خلاف ووٹ دیا ہے جو یونان کی بحران زدہ سرمایہ داری میں جان ڈالنے کے لیے شدید کٹوتیوں کی پالیسی کی حمایت کر رہی ہیں۔سرکوزی کی شکست کے بعد یہ یورپ کی گیاوہویں حکومت ہے جو سرمایہ داری کے تباہ کن بحران کا نوالہ بن گئی ہے۔ گزشتہ جند ہفتوں میں برطانیہ میں ٹوری اور لبرل ڈیموکریٹک پارٹی نے بلدیاتی انتخابات میں بری طرح شکست کھائی ہے اور نیدر لینڈ میں دائیں بازو کی حکومت گر گئی ہے۔یورپ اور ساری دنیا میں شروع ہوتے اس ہنگامہ خیز عہد میں بائیں بازو کے ریڈیکل سیاسی رجحانات پھر سے ابھر رہے ہیں۔</p>
<div class="mceTemp">
<dl id="" class="wp-caption alignright" style="width: 369px;">
<dt class="wp-caption-dt"><a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/05/Alexis-Tsipras-addressing-rally-Syriza.jpg" target="_blank"><img src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/05/Alexis-Tsipras-addressing-rally-Syriza.jpg" alt="" width="359" height="240" /></a></dt>
<dd>سیریزا کے سربراہ ایلکسز سیپراس ریلی سے خطاب کر رہے ہیں</dd>
</dl>
</div>
<p class="Urdu">تاہم میڈیا میں موجود بورژوا تجزیہ کار اور مبصرین عوام کی توجہ طبقاتی جدوجہد کی اس نئی لہر سے ہٹانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔روایتی مزدور لیڈروں کے سرمایہ داری کے آگے جھک جانے کے نتیجے میں اضطراب، تکلیف اور مایوسی کے ایک طویل دور کے بعد اب حکمران طبقات کی جانب سے محنت کشوں کے حالاتِ زندگی پر وحشیانہ حملوں کے خلاف محنت کشوں کی جدوجہد کے اثرات سیاسی میدان میں نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اگر موجودہ بحران کا سرمایہ داری کی حدود کے اندر رہتے ہوئے کوئی حل ممکن ہوتا تو حکمران طبقے کے ماہرین بہت پہلے ہی اسے حل کر چکے ہوتے۔بستر مرگ پر پڑا سرمایہ دارانہ نظام، بڑی سیاسی پارٹیوں کی جانب سے محرک کو طور پر نظام میں سرکاری پیسے ڈالنے (بیل آؤٹ) اور محنت کش عوام پر غیر معمولی حملوں کے باوجود، اس گہرے بحران سے صحت یاب ہونے میں ناکام ہو چکا ہے ۔ یونان کی صورتحال ہمارے سامنے ہے۔ اگر تمام تر کٹوتیاں مکمل طور پر لاگو کر بھی دی جائیں تو بحران کم نہیں ہو گا۔ معیشت ایک بھنور میں ڈوبتی جا رہی ہے اورپیداور، معاشی نمو، اجرتیں اور آمدن گرتے چلے جا رہے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران سیریزا کے ایک نمائندے نے کہا کہ اگر سوئس اور دیگر بینکوں میں پڑی یونانی ارب پتیوں کی بے پناہ دولت کو ملک میں لایا جائے تو اسے نئی سڑکوں، سکولوں،ہسپتالوں، مکانوں ، انفرا سٹرکچر اور سماجی بہبود کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔کٹوتیوں کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہے گی اور معاشی شرح نمو بحال ہو جائے گی، بے روزگاری کا خاتمہ ہو گا اور محنت کشوں کی اجرت دوگنی ہو جائے گی۔ لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے اندر رہتے ہوئے ایسا کرنا ممکن نہیں کیونکہ اس نظام کی بنیاد ہی طبقاتی استحصال اور دولت کی بڑے پیمانے پر غیر منصفانہ تقسیم پر ہے۔سرمایہ داری کا وجود برقرار رکھنے لے لیے ، اس کے نتیجے میں عام عوام کی وسیع اکثریت پر تکلالیف، اذیت اور بدحالی کے باوجود ،کٹوتیاں لازمی ہیں۔<br />
گزشتہ چند برس تو یونانی محنت کشوں کے لیے کسی بھیانک سپنے سے کم نہیں۔اس بحران نے یونان کو بے نظیرغربت،بے روزگاری، بے گھری، مہنگائی اور یہاں تک خودکشیوں کی بلند شرح میں دھکیل دیا ہے۔ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح54فیصد تک جا پہنچی ہے۔ صحت تعلیم، تعلیم، اور دیگر شعبوں میں دئے جانے والے سماجی فلاحی وظائف کو تبا ہ کر دیا گیا ہے۔ اس سب کے باوجود اینجلا مرکل اور یورپی مرکزی بینک، عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور یورپی کمیشن پر مشتمل ٹرائیکا یونانی حکومتوں کو مزید سخت ترین کٹوتیاں کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔اس نے بڑے پیمانے پر نفرت اور غصے کو جنم دیا ہے۔ کئی عام ہڑتالیں، کارخانوں اور مرکزی چوراہوں پر قبضے اور لڑاکا مظاہرے ہو چکے ہیں۔ اب عوام نے انتخابات میں بڑی سیاسی جماعتوں کو ٹھکرا کر اپنے غصے کا اظہار کیا ہے۔ سیریزا کی حمایت 2009ء میں4.6فیصد سے بڑھ کر حالیہ انتخانات میں تقریباً 17فیصد تک جا پہنچی ہے۔ نیو ڈیموکریسی (این ڈی) اور پاسوک کا اتحاد بھی پارلیمان میں اکثریت حاصل نہیں کر سکا۔ بورژوا ریاست کے بنائے ہوئے اصولوں کے مطابق این ڈی کو سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے پر اضافی 50نشستیں حاصل ہو گئی ہیں۔ اسے 18.8فیصد ووٹ پڑے لیکن 108نشستیں مل گئیں جبکہ سیریزا کو 16.8فیصد ووٹوں کے ساتھ پارلیمان میں صرف52نشتیں حاصل ہوئیں۔اگر ڈیمو کریٹک لیفٹ پارٹی (19نشستیں) اپنے انتخابی وعدوں سے غداری نہ کرے تو کٹوتیوں کی حامی پارٹیوں کے لیے حکومت بنانا مشکل ہو گا۔ اور اس سے ان حملوں کے خلاف ووٹ ڈالنے والے عوام کی بڑی بغاوت پھٹ سکتی ہے۔ اگر 17مئی تک مخلوط حکومت نہیں بن پاتی تو جون میں نئے انتخابات ہوں گے جن میں جمعرات کو کیے گئے سروے کے مطابق سیریزا کو128نشستیں ملنے کا امکان ہے۔کمیونسٹ پارٹی (KKE) کے پاس ابھی26نشستیں ہیں اور اس کے حمایت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔ یہ سیریزا کی قیادت کے لیے ایک آزمائش ہو گی۔ انہیں انقلابی اقدامات اٹھانا ہوں گے کیونکہ ان کے مطالبات کو صرف ایک سماجی و معاشی تبدیلی کے زریعے ہی پورا کیا جا سکتا ہے۔ منڈی کی معیشت کی جگہ محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول اور منیج منٹ(Management) کے تحت منصوبہ بند نظام لانا ہو گا۔ انہیں کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ ایک یونایٹیڈ فرنٹ بنانا ہو گا۔ بائیں بازو کے گروپوں اور سیناسپسموس (Synaspismos)کے نسبتاً ڈھیلے ڈھالے اتحاد کو لازمی طور پر انقلابی سوشلسٹ پروگرام سے لیس ایک منظم عوامی پرولتاری پارٹی بننا ہو گا۔ ریڈیکل بائیں بازو کو یہ فتح بورژوا میڈیا اور اس پر مسلط دانشوروں کے شدید حملوں کے برخلاف ملی ہے۔اور اب یورپ کے سرمایہ دار سیاست دانوں کی جانب سے ظالمانہ کٹوتیوں کی واپسی کے کسی بھی اقدام کے خلاف دھونس دھمکیوں کی پہلے سے بھی زیادہ ذہریلی مہم شروع ہے۔ سرمئی سوٹ پہنے انتہائی طاقتور بے چہرہ حضرات یونان کو یورو زون سے نکال باہر کرنے کی باتیں کر رہے ہیں اور ان کی پالیسیاں لاگو نہ کرنے پر یورپ کے لیے قیامت کا تناظر پیش کر رہے ہیں۔ ڈوبتی ہوئی منڈیاں اور یورو کی گرتی قدر دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے۔لیکن دوسری جانب یونان میں اگلے انتخابات میں کمیونسٹ بائیں بازو کی بڑی فتح سارے یورپ کو ایک انقلابی پیام دے گی۔ لیکن اس براعظم کا تقریباً ہر ملک ہی گہرے بحران اور سماجی ہل چل کا شکار ہے۔عوام میں تبدیلی کی تڑپ ہے۔ کٹوتیاں کرنے والی سوشل ڈیموکریسی اور بڑی قدامت پرست پارٹیوں کی ساکھ ختم ہو رہی ہے۔یونان میں کمیونسٹ بائیں بازو کا میڈیا کے حملوں کی رکاوٹوں اورروایتی لیڈروں کی غداریوں کے خلاف لڑ کر ابھرنا یونان کو لاحق اس المیے کے اند امید کی ایک کرن ہے۔یورپ پر کمیونزم کا بھوت منڈلا رہا ہے، ایک دفعہ پھر!</p>
<p class="Urdu"><a href="http://www.dailytimes.com.pk/default.asp?page=2012%5C05%5C13%5Cstory_13-5-2012_pg3_4" target="_blank"><br />
ڈیلی ٹائمز: 13مئی 2012</a></p>
<p class="Urdu">متعلقہ:</p>
<h2 class="Urdu"><a title="Permanent Link to فرانس :بائیں بازو کی نئی اٹھان" href="http://www.struggle.com.pk/resurgence-of-the-left-%e2%80%94lal-khan/" rel="bookmark" target="_blank">فرانس :بائیں بازو کی نئی اٹھان</a></h2>
<h2><a class="Urdu" title="Permanent Link to عالمی تناظر 2012" href="http://www.struggle.com.pk/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b8%d8%b1-2012/" rel="bookmark" target="_blank">عالمی تناظر 2012</a></h2>
<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fsilver-lining-in-the-greek-tragedy-by-lal-khan%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:75px;margin-top:5px;"></iframe>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.struggle.com.pk/silver-lining-in-the-greek-tragedy-by-lal-khan/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جام پور اور محمد پور میں یومِ مئی پر جلسے اور ریلیاں</title>
		<link>http://www.struggle.com.pk/may-day-in-jampur-rajan-pur/</link>
		<comments>http://www.struggle.com.pk/may-day-in-jampur-rajan-pur/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 14 May 2012 19:24:51 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[May Day 2012]]></category>
		<category><![CDATA[Reports]]></category>
		<category><![CDATA[1 May]]></category>
		<category><![CDATA[Jampur]]></category>
		<category><![CDATA[Labor Movement]]></category>
		<category><![CDATA[May Day]]></category>
		<category><![CDATA[Meeting]]></category>
		<category><![CDATA[PTUDC]]></category>
		<category><![CDATA[Rajanpur]]></category>
		<category><![CDATA[Rally]]></category>
		<category><![CDATA[Socialist Revolution]]></category>
		<category><![CDATA[Working Class]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.struggle.com.pk/?p=2290</guid>
		<description><![CDATA[جام پور اور محمد پور (ضلع راجن پور) میں یومِ مئی پر شاندار جلسوں اور ریلیوں کا انعقاد کر کے محنت کشوں اور نوجوانوں نے اس عظم کا اعادہ کیا کہ سرمایہ داری کے خاتمے تک شہدائے شکاگو کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ جام پور رپورٹ:کامریڈ طیب جام پور [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fmay-day-in-jampur-rajan-pur%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:75px;margin-top:5px;"></iframe><p class="Urdu">جام پور اور محمد پور (ضلع راجن پور) میں یومِ مئی پر شاندار جلسوں اور ریلیوں کا انعقاد کر کے محنت کشوں اور نوجوانوں نے اس عظم کا اعادہ کیا کہ سرمایہ داری کے خاتمے تک شہدائے شکاگو کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔<span id="more-2290"></span></p>
<p class="Urdu"><span style="color: #ff0000;">جام پور</span><br />
رپورٹ:کامریڈ طیب<br />
جام پور میں پاکستان کے دیگر حصوں کی طرح یوم مئی نہایت جوش و جذبے سے منایا گیا۔ صبح 10 بجے تقریباً60 موٹر سائیکلوں پر ہتھوڑی،درانتی والے سرخ پرچم سجاکر شہر کے مختلف گلیوں،محلوں،مین بازاروں اور سڑکوں کا گشت کیا گیا۔ اس کے بعد چونگی کوٹلہ مغلاں سے ایک بڑی ریلی کا آغاز کیا گیا جس کا ٹریفک چوک جام پور کے نزدیک اختتام ہوا۔ریلی میں شرکائانقلاب انقلاب سوشلسٹ انقلاب،کالی رات جاوے جاوے،سرخ سویرا آوے آوے، جاگیرداری مردہ باد سرمایہ داری مردہ باد،بھوک،مہنگائی،مردہ باد،امریکہ کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے،کے فلک شگاف نعرے لگائے گئے۔ریلی کے اختتام پر جلسہ منعقد ہواجس میں عبدالقیوم محسن نے اپنا انقلابی کلام سنا کر خوب داد حاصل کی اور اسی طرح معروف گلوکار اعظم لاشاری نے محنت کشوں کے اعزاز میں انقلابی گیت سنا کر لوگوں کو گرما دیا۔ سٹیج سیکرٹری کامریڈ شہر یار ذوق تھے جلسہ سے سیٹزن رائٹس کمیٹی کے پروفیسر اشکر فاروقی،کسان اکٹھ کے اللہ بخش بلوچ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل عبدالرؤف لنڈ ایڈوکیٹ نے اپنے خطاب میں شکا گو کے شہدا کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شکاگو کے شہدا کو قربانیوں کا پیغام حکمران طبقے کی جو ذات پات، رنگ،نسل،وطن اور مذہب پر مبنی ہو ہر تقسیم کو مسترد کرنا ہے۔ آج کا دن یہ یاددلاتا ہے کہ جب محنت کش سڑکوں پر پر عزم ہو کر نکلیں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کی فتح کے رستے میں رکاوٹ نہیں ہو سکتی۔ جلسہ میں درج ذیل قراردادیں منظور کی گئیں۔<br />
1۔واپڈا،ٹیلی فون،پوسٹ آفس،ریلوے، سٹیل مل،بینک، پی آئی اے سمیت تمام قومی اداروں کی نجکاری بند کی جائے۔<br />
2۔بجلی کی لوڈشیڈنگ اور مہنگائی کے خاتمے کیلئے IPP&#8217;s کے معاہدے ختم کر کے ان کی ادائیگیاں روک دی جائیں۔<br />
3۔فوجی بجٹ میں کٹوتی کر کے رقم عوامی فلاح وبہبود پر خرچ کی جائے۔<br />
4۔طبقاتی نظام کا خاتمہ کیا جائے،تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لے کر اساتذہ،والدین اور طلباء کے مشترکہ جمہوری کنٹرول میں دئے جائیں۔<br />
5۔خواتین کے خلاف امتیازی قوانین کا خاتمہ کیا جائے۔<br />
6۔ اوقاتِ کار کم کر کے ہفتہ وار 36 گھنٹے کئے جائیں،بے روزگاری الاؤنس دیا جائے۔<br />
7۔جاگیرداری اور سرمایہ داری کا خاتمہ کیا جائے۔<br />
8۔سرائیکی صوبہ کے نام پر سیاسی ناٹک بند کیا جائے۔ سرائیکی صوبہ محنت کشوں کے حقیقی سدھار اور استحصال سے پاک بنیادوں پر قائم کیا جائے۔<br />
9۔امریکہ، ورلڈ بینک اور IMFسے تمام معاہدے ختم کئے جائیں۔ اور بین الاقوامی قرضوں کی ادائیگی روک دی جائے۔<br />
10۔گزشتہ سیلاب کی تباہ کاری کے نام پر کی گئی کرپشن کا حساب دیا جائے اور آئندہ کے ممکنہ سیلاب (جس کی پہلے سے زیادہ خطرناک اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے)سے بچنے کے خاطر خواہ انتظامات کئے جائیں۔ جن میں عام لوگوں کی کمیٹیوں کو پالیسی سازی میں شامل کیا جائے۔</p>
<p class="Urdu"><span style="color: #ff0000;">محمد پور</span><br />
رپورٹ :کامریڈ زربخت گشکوری<br />
یومِ مئی کے موقع پر محمد پور میں شاندار پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔جس میں شہر بھر میں ریلی،جلوس،مشاعرہ اور محفلِ موسیقی کا اہتمام کیا گیا۔شام 5 بجے بہت بڑی ریلی شہر کی مختلف سڑکوں سے گزرتی ہوئی بین الصوبائی روڈ پر آئی تو ایک سماں بندھ گیا۔محنت کشوں نے پر جوش نعرے بازی کی جن میں ’’امریکہ کا جو یار ہے غدار ہے غدارہے،جرنیلوں کا جو یار ہے غدار ہے غدارہے،سردار وڈیرے بے غیرت،چور لُٹیرے بے غیرت،لُٹ کے کھا گئے ہائے ہائے بھکھے مر گئے ہاے ہائے،لوڈ شیڈنگ مردہ باد،مہنگائی مردہ باد،اور بے روزگاری مردہ باد کے نعرے لگائے۔<br />
ریلی کے اختتام پر جلسہ شروع ہوا جس میں کامریڈ شہریار،کامریڈ اللہ بخش بلوچ،کامریڈ اسلم،رنگو خان،کامریڈ اطہر مستوئی،کامریڈ آصف گشکوری اور کامریڈ رؤف لنڈ ایڈوکیٹ نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے شکا گو کے شہدا ء کو خراجِ تحسین پیش کیا اور اس امر پر زور دیا کہ شکا گو کے محنت کشوں کو صحیح معنوں میں خراجِ تحسین پیش کرنے کا یہی ایک طریقہ ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں سوشلسٹ انقلاب کی پُر عزم جدوجہد کی جائے اور اس نظامِ زر کو اکھاڑ پھینکا جائے۔ سرمایہ داری نظام سوائے بھوک،غربت،ذلت اور رسوائی کے کچھ نہیں دے سکتا اس نظام میں رہتے ہوئے جو لوگ فلاح وبہبود اور ترقی کی بات کرتے ہیں وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ جلسہ کے بعد محفلِ مشاعرہ ہوئی جس میں نامور سرائیکی شاعر جناب عزیز شاہد،اصغر گورمانی،گدا حسین راول، حاجی ارشاد ناصر اور عبدالکریم محسن سمیت بہت سے شرکا نے شکا گو کے شہدا کو منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا۔ یہ تقریب رات گئے تک جاری رہی تقریب میں محنت کشوں کے بنیادی مطالبات پر مبنی قرارداد یں بھی پاس کی گئیں۔</p>
<div style="text-align: center;"><object width="400" height="267" classid="clsid:d27cdb6e-ae6d-11cf-96b8-444553540000" codebase="http://download.macromedia.com/pub/shockwave/cabs/flash/swflash.cab#version=6,0,40,0"><param name="src" value="https://picasaweb.google.com/s/c/bin/slideshow.swf" /><param name="flashvars" value="host=picasaweb.google.com&amp;hl=en_GB&amp;feat=flashalbum&amp;RGB=0x000000&amp;feed=https%3A%2F%2Fpicasaweb.google.com%2Fdata%2Ffeed%2Fapi%2Fuser%2F116459874014772347895%2Falbumid%2F5742470546097712929%3Falt%3Drss%26kind%3Dphoto%26hl%3Den_GB" /><param name="pluginspage" value="http://www.macromedia.com/go/getflashplayer" /><embed width="400" height="267" type="application/x-shockwave-flash" src="https://picasaweb.google.com/s/c/bin/slideshow.swf" flashvars="host=picasaweb.google.com&amp;hl=en_GB&amp;feat=flashalbum&amp;RGB=0x000000&amp;feed=https%3A%2F%2Fpicasaweb.google.com%2Fdata%2Ffeed%2Fapi%2Fuser%2F116459874014772347895%2Falbumid%2F5742470546097712929%3Falt%3Drss%26kind%3Dphoto%26hl%3Den_GB" pluginspage="http://www.macromedia.com/go/getflashplayer" /></object></div>
<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fmay-day-in-jampur-rajan-pur%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:75px;margin-top:5px;"></iframe>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.struggle.com.pk/may-day-in-jampur-rajan-pur/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>عورت اور سماج</title>
		<link>http://www.struggle.com.pk/women-society-by-lal-khan/</link>
		<comments>http://www.struggle.com.pk/women-society-by-lal-khan/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 14 May 2012 12:54:31 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Women]]></category>
		<category><![CDATA[ ]]></category>
		<category><![CDATA[Acid Attacks]]></category>
		<category><![CDATA[Class Society]]></category>
		<category><![CDATA[Class Struggle]]></category>
		<category><![CDATA[Feminism]]></category>
		<category><![CDATA[Lal Khan]]></category>
		<category><![CDATA[Male Chauvinism]]></category>
		<category><![CDATA[Oppression]]></category>
		<category><![CDATA[Socialism]]></category>
		<category><![CDATA[Socialist Revolution]]></category>
		<category><![CDATA[Women & Society]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.struggle.com.pk/?p=2280</guid>
		<description><![CDATA[تحریر: لال خان:- (ترجمہ : عمران کامیانہ) سرمایہ دارانہ نظام کی دوسری ذلتوں کے ساتھ ساتھ سماجی و معاشی بحران کے زوال نے خواتین پر جاری مسلسل ظلم و جبر کی لعنت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔یہ ایک المیہ ہے کہ عورتوں پر تشدد مثلاً غیرت کے نام پر قتل، جنسی زیادتی اور تیزاب [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fwomen-society-by-lal-khan%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:75px;margin-top:5px;"></iframe><p class="Urdu">تحریر: لال خان:-<br />
(ترجمہ : عمران کامیانہ)<br />
سرمایہ دارانہ نظام کی دوسری ذلتوں کے ساتھ ساتھ سماجی و معاشی بحران کے زوال نے خواتین پر جاری مسلسل ظلم و جبر کی لعنت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔<span id="more-2280"></span>یہ ایک المیہ ہے کہ عورتوں پر تشدد مثلاً غیرت کے نام پر قتل، جنسی زیادتی اور تیزاب پھینکنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور ان واقعات کے خلاف بڑے پیمانے پر کسی قسم کی کوئی تحریک نظر نہیں آتی۔دوسری طرف ملاء اور رجعتی سیاستدان بالواسطہ اور خاموش طریقے سے جاہلانہ رویوں کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں جس سے اس طرح کے مکروہ جرائم کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔آزاد خیال سیاسی و سماجی عناصر کی جانب سے ان اقدامات کے خلاف کی جانے والی کوششیں سطحی پیمانے کی ہیں اور ناکام رہی ہیں۔24سال گزر جانے کی بعد بھی ’جمہوری‘ حکومتیں وحشی آمر ضیاء الحق کے خواتین دشمن قوانین کا خاتمہ کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ مردانہ تعصب و تسلط(Male Chauvinsim)پر مبنی سوچ اور رویے موجودہ سماج کے سماجی و ثقافتی رجحانات کا حصہ بن چکے ہیں۔عورتوں پر تشدد اور جنسی تفریق کی روک تھام کرنے والے ہر قانون کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے لیکن بے شمار قانون سازیوں کے باوجود عورتوں، خاص کر محکوم و محنت کش طبقے کی خواتین کی حالتِ زار میں بہتری نہ ہونے کے برابر ہے ۔یہ محنت کش عورتیں دوہرے، بلکہ تہرے جبر کا شکار ہیں۔محنت کش عورتوں کو کام کرنے کی جگہ، معاشرے اور خاندان میں نہ صرف متعصبانہ رویوں کانشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔لہٰذا جنسی استحصال کی سماجی و معاشی وجوہات کو سمجھے بغیر محض جنسی بنیادوں پر خواتین کے رنج و غم کا نہ تو کوئی ازالہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی لائحہ عمل مرتب کیا جاسکتاہے۔ جنسی و معاشی استحصال سے آزادی کے لئے ہمیں طبقے اور جنس کے باہمی تعلق کو سمجھنا ہو گا۔<br />
آج پاکستان میں بڑی تعداد میں خواتین سیاست، کاروبار، فنونِ لطیفہ اور دوسرے شعبہ جات میں شہرت کما رہی ہیں لیکن ان میں سے تقریباً تمام کا تعلق حکمران یا درمیانے طبقے سے ہے۔ان کے مسائل، مصائب اورنصب العین، سب کچھ محنت کش عورتوں کے ساتھ متضادہیں۔نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والی کوئی عورت اگر معاشی و سماجی طور پر بلند ہوتی بھی ہے تو وہ بالادست طبقے کا حصہ بن کر اپنی اصل طبقاتی بنیادوں سے منحرف ہو جاتی ہے۔آخر مادی و سماجی حالات ہی شعور کا تعین کرتے ہیں نہ کہ اس کا الٹ۔آزاد خیال سوچ کا المیہ یہ ہے کہ وہ عورت کو تجارتی مال (commodity)او ر کاروباری تشہیر کے ایک ذریعے سے زیادہ خیال نہیں کرتی۔اگر مذہبی سوچ عورت کو ذاتی ملکیت اور غلام تصور کرتے ہوئے قید و بند کرتی ہے توآزاد خیال اشرافیہ اسے کاروبار اور منافعوں کی بڑھوتری کے لئے ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔اگر رجعتی ذہنیت رکھنے والوں کا عورتوں پر ظلم و جبر غیر انسانی فعل اور غلامی ہے تو عورتوں کے جسموں کو اشیاء بیچنے اور منافع کمانے کے لئے استعمال کرنا بھی ان کی نجات نہیں ہے۔عورتوں کی طرف تعصب و تفریق پر مبنی رویے ان سماجی رشتوں سے برآمد ہوتے ہیں جو لالچ اور ہوس پر مبنی معیشت تخلیق کرتی ہے۔لہٰذا یہ رویے جو سماجی نفسیات میں گہری سرایت کر چکے ہیں دراصل اس سماجی نظام کی پیداوار ہیں جو انہیں پروان چڑھاتا ہے۔یہ رویے تب تک ختم نہیں ہو سکتے جب تک ان مادی حالات اور بنیادوں کا خاتمہ نہ کیا جائے جن پر یہ سماجی و اقتصادی نظام کھڑا ہے۔سرمایہ دارانہ نظام میں گھریلو کام کاج اور خواتین کی جانب سے کی جانے والی دوسری کئی طرح کی محنت و مشقت کا کوئی معاوضہ نہیں ہوتا۔گھربار اور اہلِ خاندان کا خیال رکھنا، بچوں کی پرورش اور تربیت اور اس طرح کے دوسرے بے شمار کام یہ نظام عورتوں سے بلا اجرت لیتے ہوئے ان کے سماجی رتبے اور معاشی حالات میں ابتر ی کا باعث بنتا ہے۔لیکن یہ سب ایک ایسے نظام کی پیداوار ہی تو ہے جس میں شرح منافع کو بڑھانے کا سب سے اہم طریقہ اجرتوں میں کٹوتی ہے۔لینن نے پراودا میں ایک بار لکھا تھا ’’موجودہ سماج میں غربت اور جبر کی بہت سی صورتیں پہلی نظر میں پوشیدہ رہتی ہیں۔انتہائی اچھے عہد میں بھی پسماندہ علاقوں میں رہنے والے غریبوں، دستکاروں، مزدوروں اور ملازمین کے بکھرے ہوئے خاندان انتہائی مشکل حالات میں گزارہ کرتے ہیں اور دو وقت کی روٹی بمشکل پوری کرتے ہیں۔ایسے خاندانوں کی لاکھوں عورتیں’گھریلو غلاموں‘ کی سی زندگی گزارتی ہیں۔اپنے خاندان والوں کی روٹی اور کپڑا دینے کے لئے یہ خواتین ہر چیز پر ایک ایک پائی بچت کرتی ہیں۔تاہم اپنے کام کاج اور مشقت میں وہ بچت نہیں کر سکتیں۔یہی عورتیں سرمایہ داروں کے لئے شرم ناک حد تک کم اجرت پر کام کرتی ہیں تاکہ اپنے اور اپنے خاندان کے لئے روٹی کے چند مزید ٹکڑے کما سکیں‘‘۔<br />
آج کے عہد میں امیر گھرانوں سے تعلق رکھنے والی زیادہ تر خواتین کی زندگی گھریلو ملازمین، فیشن یا شادی بیا ہ کی تقریبات سے متعلق بحث مباحثے کے گرد گھومتی ہے۔ اس کی بنیاد دولت، سماجی معیار یا کاروبار کی وسعت اور ملازمت کی نوعیت ہوتی ہے۔ٹی وی پر چلنے والے ڈرامے بھی عورتوں سے متعلق غلامانہ تصورات سماج پر تھونپتے ہیں۔اس جنسی غلامی کو ملاء ’’اچھے کردار‘‘ کا معیار قرار دیتے ہوئے مزید پروان چڑھاتے ہیں۔اس سب کا اصل مقصد استحصال پر مبنی نظام کی ضروریات کے مطابق عورتوں کے سماجی کردار کو برقرار رکھنا ہے۔</p>
<p class="Urdu"><a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/05/Women-Soviet-Poster.jpg" target="_blank"><img class="alignright" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/05/Women-Soviet-Poster.jpg" alt="" width="329" height="412" /></a>گھروں میں ملازمت کرنے والی اور محنت کش خواتین کی ضروریات اور مسائل بالکل مختلف ہیں۔گھریلو غلامی کا جال جس نے آج کی عورت کو جکڑ رکھا ہے تب ہی ٹوٹ سکتا ہے جب ذرائع پیداوار پر ملکیت کے رشتے بدلے جائیں۔معاشی طور پر بد حال اس ملک میں عورت کی اصل آزادی تب شروع ہو گی جب گھریلو استعمال کے لئے انتہائی مشقت طلب طریقے سے پانی کی بالٹیاں بھر کر لانے کی بجائے اسے محض گھر میں موجود پانی کی ٹوٹی کھولنی ہوگی۔آج ٹیکنالوجی کی ترقی کے زیرِ اثر گھریلو مشقت کا خاتمہ ممکن ہے۔اشتراکی باورچی خانوں اور چھوٹے بچوں کی تعلیم و پرورش کے مراکز سمیت، عورتوں کو مساوی سماجی رتبہ دینے کے لئے بے شمار اقدامات کئے جا سکتے ہیں۔گھریلو تشدد کے زیادہ تر واقعات کا تعلق تلخ معاشی حالات سے ہے لہٰذا قلت اور بے لگام مانگ پر مبنی سماج میں اس کا خاتمہ نا ممکن ہے۔اسی طرح فیکٹریوں میں کام کرنے والی خواتین کی اجرت ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں بھی مردوں سے کم ہے۔اجرتی غلامی سے جسم فروشی تک لے جانے والا طبقاتی نظام عورتوں کا اصل مسئلہ ہے جہاں ان کابڑے پیمانے پر استحصال کیا جاتا ہے تاکہ اوپر بیٹھی ہوئی کچھ بڑی جونکوں کو چوسنے کے لئے زیادہ خون میسر آ سکے۔عورتوں کے استحصال کو جاری رکھنے کے لئے معاشرے پر جھوٹی اقدار اور اخلاقیات مسلط کی جاتی ہیں جو اس نظام کی ضرورت بھی ہے۔خاندان پر مردانہ تسلط بھی اسی نظام کی ضرورت ہے۔اس نظام کا خاتمہ محنت کش مرد و زن متحد ہو کر ایک طبقاتی جدوجہد کے ذریعے ہی کر سکتے ہیں۔ہر وہ رجحان جو اس طبقاتی جڑت کو توڑے، چاہے وہ تحریکِ نسواں (Feminism)، وطن پرستی یا مذہب ہو، رجعتی اور ردِ انقلابی ہے!</p>
<p class="Urdu"><a href="http://www.dailytimes.com.pk/default.asp?page=2012%5C03%5C11%5Cstory_11-3-2012_pg3_4" target="_blank">ڈیلی ٹائمز، 11مارچ 2012</a></p>
<p class="Urdu">متعلقہ:</p>
<h2 class="Urdu"><a title="Permanent Link to عورت اور خاندان" href="http://www.struggle.com.pk/woman-and-family-by-leon-trotsky/" rel="bookmark" target="_blank">عورت اور خاندان</a></h2>
<h2 class="Urdu"><a title="Permanent Link to عورت ; سرخ سویرا ہی تجھے آزاد کرے گا" href="http://www.struggle.com.pk/%d8%b9%d9%88%d8%b1%d8%aa-%d8%b3%d8%b1%d8%ae-%d8%b3%d9%88%db%8c%d8%b1%d8%a7-%db%81%db%8c-%d8%aa%d8%ac%da%be%db%92-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af-%da%a9%d8%b1%db%92-%da%af%d8%a7/" rel="bookmark" target="_blank">عورت ; سرخ سویرا ہی تجھے آزاد کرے گا</a></h2>
<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fwomen-society-by-lal-khan%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:75px;margin-top:5px;"></iframe>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.struggle.com.pk/women-society-by-lal-khan/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>لیہ، کوٹ ادو اور مظفر گڑھ میں یومِ مئی کی تقاریب</title>
		<link>http://www.struggle.com.pk/may-day-in-layyah-kot-addu-muzaffargarh/</link>
		<comments>http://www.struggle.com.pk/may-day-in-layyah-kot-addu-muzaffargarh/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 13 May 2012 16:58:47 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[May Day 2012]]></category>
		<category><![CDATA[Reports]]></category>
		<category><![CDATA[1 May]]></category>
		<category><![CDATA[Kot Addu]]></category>
		<category><![CDATA[Labor Movement]]></category>
		<category><![CDATA[Layyah]]></category>
		<category><![CDATA[May Day]]></category>
		<category><![CDATA[Muzaffar-Garh]]></category>
		<category><![CDATA[PTUDC]]></category>
		<category><![CDATA[Socialist Revolution]]></category>
		<category><![CDATA[Working Class]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.struggle.com.pk/?p=2273</guid>
		<description><![CDATA[دوسرے شہروں کی طرح لیہ ، کوٹ ادو اور مظفر گڑھ میں بھی یومِ مئی PTUDCکے زیرِ اہتمام انقلابی جوش و جذبے سے منایا گیا۔ لیہ رپورٹ :ذیشان حیدر لیہ میں یوم مزدور 2012ء پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفینس کمپیئن اور جوائنٹ لیبرایکشن کمیٹی ضلع لیہ کے اشتراک سے منا یا گیا 500سے زیادہ محنت کش [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fmay-day-in-layyah-kot-addu-muzaffargarh%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:75px;margin-top:5px;"></iframe><p class="Urdu">دوسرے شہروں کی طرح لیہ ، کوٹ ادو اور مظفر گڑھ میں بھی یومِ مئی PTUDCکے زیرِ اہتمام انقلابی جوش و جذبے سے منایا گیا۔<span id="more-2273"></span><br />
<span style="color: #ff0000;"> لیہ</span><br />
رپورٹ :ذیشان حیدر<br />
لیہ میں یوم مزدور 2012ء پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفینس کمپیئن اور جوائنٹ لیبرایکشن کمیٹی ضلع لیہ کے اشتراک سے منا یا گیا 500سے زیادہ محنت کش وفاقی اور صوبائی اداروں اور مختلف نجی اداروں سے سرخ پرچم اٹھائے ریلی میں شریک ہوئے ۔ریلی شہر کے مختلف حصوں سے گزرتی ہوئی اسلم چوک سے TMAہال لیہ پہنچی جہاں پر جلسہ کا اہتمام کیا گیا تھا ۔جلسہ سے ینگ آرگنائزیشن کے صدر ناصر خان ‘ ترقی پسند وکیل عنایت کاشف اور امام رضا‘ TDAایسوسی ایشن کے چئیر مین جعفر اترا ‘ SNGPLمزدور یونین کے رہنماناصر جعفری ،مسلم ویلفئیر سو سائیٹی کے توقیر احمد چانڈیہ ‘ضلعی صدر ایپکا رانا افضل ‘ جنرل سیکریٹری الہیٰ بخش جوتہ ‘ پنجاب ٹیچر یونین کے صدر منظور دورانی ‘ ڈوثزنل صدر فاروق ارائیں اور سرپرست اعلیٰ محمد یوسف سیال ‘UBLورکر فیڈریشن کے طاہر خان ‘HBLورکر فیڈریشن کے مرکزی رہنما ملک رب نواز تھند‘ انقلابی ورکر یونین TMAکے صدر مہر عبدالغفور سمرا ‘ جنرل سیکرٹیری شاہین عباس ‘ ناصر حسین ‘ ذوالفقار سمرا‘ نائب صدر ایپکااور ہائی وے ‘ پیرا میڈکس کے طاہر صدیق اور محمد ناصر ‘ PLBسے ذوالنور ‘ علی شمسی ‘منیر ناصر ‘ پاسبان یونین کے صدر محمد حفیظ ‘ پاکستان ٹیچر یونین کے رانا سلطان محمد ‘PTUDCکے ذیشان حیدر اور PPPکے ایم پی اے بابر کھیتران نے خطاب کیا جبکہ اسٹیج سیکریٹری کے فرائض مہتاب انصاری نے انجام دئیے۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین مزدور اتحاد کو یقینی بنانے پر زور دیا اور پارلیمانی جمہوریت او ر سرمایہ دارانہ نظام پر سخت تنقید کی ۔بابر کھیتران ممبر صوبائی اسمبلی میں اپنے خطاب میں محنت کشوں کو پارلیمان جمہوریت کی جگہ مزدور جمہوریت کے قیام کی جدوجہد کرنے پر خراج تحسین پیش کیا اور کہا موجودہ نظام میں محنت کشو ں کا کوئی بنیادی مسئلہ حل طلب نہیں ہے ۔ اشتراکی انقلاب کے ذریعے ہی آج کا محنت کش اپنے مقاصد حاصل کر سکتا ہے۔</p>
<p class="Urdu" style="text-align: center;"><span style="color: #ff0000;">کوٹ ادو</span><br />
رپورٹ: حمید اختر<br />
کوٹ ادو میں یوم مزدور کے دن صبح 8بجے ہی مختلف اداروں اور علاقوں سے محنت کش ریلوے اسٹیشن گراؤنڈ میں اکھٹے ہونا شروع ہو گئے۔ ریلی کا آغاز 9بجے ہوا جو کہ ریلوے چوک سے گزرتے ہوئے 10بجے اقبال پارک کوٹ ادوپر آ کر اختتام پذیر ہوئی جہاں ایک جلسہ کا انتظام کیا گیا تھا۔<a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/05/labour-day.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/05/labour-day.jpg" alt="" width="556" height="113" /></a> جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مزدور انصاف پارکو یونین کے صدر رضا خان نے کہا گزشتہ 8برسوں سے ہم اپنے حقو ق کی جدو جہد کر رہے ہیں عدالتوں سے انتظامیہ تک اور سیاسی قیادتوں سمیت کوئی بھی ادارہ یا فورم ہمارا مسئلہ حل کرنا تو در کنار جھوٹی تسلی دینے بھی نہ آیا۔ PTUDCگزشتہ 5برس سے ہمارے ساتھ ہے جس کی جدو جہد سے ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کے مزدور یکجہتی اور انقلاب کے بغیر ہمارے مسائل کا حل ممکن نہیں جس کے بعد OGDCLجہاں سے 100کے لگ بھگ محنت کشوں نے شرکت کی کے مرکزی نائب صدر ملک اختر کالرونے کہا کہ PTUDCنے ہمیں وہ فورم فراہم کیا ہے کہ جس کے ذریعے ہم سب متحد ہو کر مزدور دشمن قوتوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں ہم آج یوم مزدور کے توسط سے پارکو انتظامیہ اور حکومت کو خبر دار کرتے ہیں کہ اگر ایک ماہ کے اند ر پارکو کے محنت کشوں کے مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو OGDCLکے مزدور پارکو تیل کی ترسیل بند کردیں گے جس پر پنڈال سوشلسٹ انقلاب اور مزدور اتحاد زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ جلسہ سے اس کے علاوہ TMAکے حمید اختر ‘ سیاسی کارکن ذوالفقارلنڈ ‘ PTUDCسے علی اکبر ‘مارکسی دانش ور پروفیسر انجم اور ایپکا کے ضلع صدر وزیر دستی نے بھی خطاب کیا۔ آخر میں 23رکنی لیبر ایکشن کمیٹی کی مجوزہ سلیٹ پیش کی گئی جس کو متفقہ طور پر تمام حاضرین جلسہ نے ہاتھ اٹھا کر منظور کیا۔</p>
<p class="Urdu"><span style="color: #ff0000;">مظفر گڑھ</span><br />
رپورٹ: اظہر بخاری ایڈووکیٹ<br />
مظفر گڑھ میں یوم مزدور کی تقریب ممبر قومی اسمبلی جمشید خان دستی کے گھر پر منعقد ہوئی جس میں 100کے لگ بھگ محنت کشوں اور سیاسی کارکنوں نے شرکت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عبدالغفار قریشی ‘ PLBکے رانانذیر احمد اور معطر حسین ‘ سابق سٹی صدر PPPاور PLFکے رہنما کامریڈ اظہر بخاری ‘ ممبر صوبائی کونسل PPPامیر نواز کامریڈ اور MNAجمشید دستی نے خطاب کیا اور کہا کہ محنت کش طبقہ کے وسیع تر اتحاد اور انقلاب کے ذریعے ہی مسائل کا حل ممکن ہے۔ آخر میں مقررین نے محنت کش طبقے کے اتحاد کے لیے PTUDCکی کاوشوں کو سراہا۔</p>
<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fmay-day-in-layyah-kot-addu-muzaffargarh%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:75px;margin-top:5px;"></iframe>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.struggle.com.pk/may-day-in-layyah-kot-addu-muzaffargarh/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

