<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>طبقاتی جدوجہد</title>
	<atom:link href="http://www.struggle.com.pk/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.struggle.com.pk</link>
	<description>The Struggle</description>
	<lastBuildDate>Wed, 22 Feb 2012 13:51:18 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.2.1</generator>
		<item>
		<title>بلوچستان: معافیوں سے بات نہیں بنے گی</title>
		<link>http://www.struggle.com.pk/baluchistan-apologies-wont-do/</link>
		<comments>http://www.struggle.com.pk/baluchistan-apologies-wont-do/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 22 Feb 2012 13:51:18 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[ ]]></category>
		<category><![CDATA[Baluchistan]]></category>
		<category><![CDATA[Lal Khan]]></category>
		<category><![CDATA[Revolution]]></category>
		<category><![CDATA[Socialism]]></category>
		<category><![CDATA[State Oppression]]></category>
		<category><![CDATA[State Terrorism]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.struggle.com.pk/?p=932</guid>
		<description><![CDATA[تحریر: لال خان:- (ترجمہ:فرہاد کیانی) سماج میں حقیقی اور رِستے ہوئے مسائل اتنے زیادہ اوراتنے گہرے ہیں کہ میڈیا مالکان اور انکے حکمران طبقے کے ساتھی اپنے مفادات کے لیے انہیں جب چاہیں اپنی مرضی سے استعمال کرتے ہیں۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ان مالکان کی جانب سے ان مسائل کو ابھارنے اور [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="fb-like" data-send="true" data-width="450" data-show-faces="true"></div>
<p class="Urdu">تحریر: لال خان:-<br />
(ترجمہ:فرہاد کیانی)</p>
<p class="Urdu">سماج میں حقیقی اور رِستے ہوئے مسائل اتنے زیادہ اوراتنے گہرے ہیں کہ میڈیا مالکان اور انکے حکمران طبقے کے ساتھی اپنے مفادات کے لیے انہیں جب چاہیں اپنی مرضی سے استعمال کرتے ہیں۔ <span id="more-932"></span>ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ان مالکان کی جانب سے ان مسائل کو ابھارنے اور توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا مقصد ان مظالم کو ڈھانے والے ظالموں کے مفاد ہوتا ہے۔ اس سارے عمل میں پہلے سے ہی اذیتیں سہنے والے محکوم عوام مزید بے رحمانہ استحصال اور جبر کا شکار ہو تے ہیں۔ لیکن ان ’واقعات‘ کو عام طور پر صرف اس وقت ابھاراجاتاہے جب یہ استحصال کرنے والوں کے مابین اختلافات میں اضافے کا باعث بن جائیں۔ امریکی کانگریس میں بلوچستان پر ہونے والی حالیہ سماعت اس خطے کو بربادکرتی ہوئی خونریزی اور بربریت کو پھر سے منظر عام پر لے آئی ہے۔انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ اس فریب کو ابھارا جا رہا ہے کہ امریکی سامراج ’جمہوریت‘، انسانی حقوق، قومی آزادی اور سماجی انصاف کا سب سے بڑا محافظ ہے۔ اس سے بڑا جھوٹ اور کیا ہو سکتا ہے۔<br />
سامراج کی پوری تاریخ بے رحم قبضوں، استحصال، لوٹ مار، قتل و غارت، جبری تسلط اور آمریتوں سے بھری پڑی ہے۔ سلطنت روم کے سامراج سے لے کر آج کے امریکی راج تک، ہر خارجہ پالیسی حکمران طبقات کے مفادات کے حصول کے لیے تشکیل دی جاتی ہے جن کی شرح منافع اور دولت مجتمع کرنے کی بے انت ہوس اقوام کو تاراج، قحط، جنگوں اور کروڑوں انسانوں کے قتل اور تباہی کا باعث بنتی رہی ہے۔ ’اور زیادہ‘ کی اس حرص میں نہ صرف نوآبادیات کے عوام کو قتل و غارت کا نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ سامراجی قوتوں نے اپنے محنت کش طبقے کے عوام کوبھی اپنی ہوس کی بلی چڑھانے سے کبھی گریز نہیں کیا۔ کلکتہ میں ایک برطانوی قبرستان ہے جہاں زیادہ تر قبریں نوجوان لڑکے لڑکیوں کی ہیں جو اپنے شباب کے عروج میں ہی انگریز اشرافیہ کے سامراجی عزائم کی بھینٹ چڑھ گئے۔ آخری تجزیے میں انتہائی پیچیدہ جنگوں، قبضوں اور تنازعات میں بھی طبقاتی مسئلہ ہی سامنے آتا ہے۔ تمام جنگوں کا خاتمہ کر دینے والی اس طبقاتی جنگ میں استحصال زدہ طبقات کی استحصال کرنے والوں کے خلاف ایک سوشلسٹ فتح ہی جبر اور محرومی سے حتمی نجات کا واحد راستہ ہے۔<br />
اس لیے امریکی کانگریس کی یہ ’تشویش‘ بلوچستان کے مصیبت زدہ عوام کی حالت زار کے لیے نہیں بلکہ سامراجی اجاراہ داریوں کے بے پناہ منافعوں کے لیے ہے جن کی یہ نمائندگی کرتی ہے۔ امریکی معیشت خوفناک بحران میں مبتلا ہے اور امریکی محنت کش اور نوجوان سات نسلوں کی سخت ترین آزمائش سے گزر رہے ہیں جبکہ کارپوریشنوں کے منافع جات ان دیکھی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ بلوچستان کے عوام کی سب سے بڑی بد بختی ان کی زمین ہے۔ ان کی سنگلاخ دھرتی کے نیچے گیس، باکسا ئٹ، تیل، تانبے، سونے اور دیگر معدنیات کے وسیع ذخائر دفن ہیں جن کی وجہ سے یہ خطہ خونریزی اور تباہی کا شکار بنا ہوا ہے۔ بلوچستان کا سٹریٹجک، جغرافیائی اور بحری محل وقوع اس بد بختی میں اضافہ کرتا ہے ۔ لوٹ مار میں اضافے کی خاطر سامراجی ہمیشہ سے قبضوں اور ڈاکہ زنی کے لیے سماجی و سیاسی بہانے بناتے رہے ہیں۔یہاں پر وہ قومی جبر کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا بلوچستان کے عوام نسلوں سے شکار ہیں۔ جب سے بلوچستان کی قومی آزادی کی تحریک نے اپنے پروگرام میں سے سوشلزم کو فراموش کیا ہے، یہ سامراجی گِدھوں کے لیے آسان شکار بن گئی ہے۔ اب وہ قومی استحصال اور جبر کے خلاف عوام کے جذبات سے کھیلتے ہوئے انہیں اپنے سامراجی عزائم کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ اس جنگ کا ایک پہلو ہے جو بلوچستان کے پہلے سے محروم اور تباہ حال عوام کو برباد کر رہی ہے۔<br />
لیکن اس ’کھیل‘ میں اور کئی کھلاڑی شامل ہیں جن کے بلوچستان کے لیے عزائم زیادہ مختلف نہیں ۔ نوزائیدہ سامراجی ہوس کے ساتھ چینی اشرافیہ جارحانہ انداز میں خطے پر اپنا غلبہ قائم کرنے کی کوشش میں ہے۔ گوادرکی بندرگاہ ، کانکنی اور پیٹرولیم کی تلاش کے منصوبوں میں اس کی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا مقصد مغربی ممالک کی اجارہ داریوں کے مقابلے میں چین کی سرکاری اور نجی کمپنیوں کے لیے منافعوں کا حصول ہے ۔ مختلف سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے سیاستدان بھی اس ’تلاش‘ میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ سعودی، اومانی اور خلیج کے دیگر رجعتی شیخوں کے بلوچستان میں اپنے نو آبادیاتی مفادات ہیں۔ بلوچستان کا ایک بڑا حصہ ایران کے زیر انتظام ہے۔ ایرانی ملا اشرافیہ کے اپنے سٹریٹجک اور معاشی منصوبے ہیں۔ ان قومی دشمنیوں کے علاوہ مذہبی فرقہ واریت کی بنیاد پر سعودی بادشاہت اور ایران کی شیعہ ملائیت کے مابین ایک پراکسی جنگ بھی جاری ہے۔ ہندوستانی بورژوازی کے بھی سامراجی عزائم ہیں۔<br />
لیکن لوٹ مار کی ان ریشہ دوانیوں کا نشانہ بلوچستان کے عوام کو بننا پڑتا ہے۔ سیاسی کارکنوں کے اغواء، ان پر تشدد اور انہیں قتل کر کے لاشیں ویرانو ں میں پھینک دینے کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ’گمشدہ افراد‘ کی فہرست طویل ہوتی جا رہی ہے۔ پاکستانی ریاست کے ارباب اختیار مسلسل اس کے انکاری ہیں۔ریاستی ایجنسیوں سے انکو بازیاب کرانے کے سارے وعدے فقط دھوکے ثابت ہوئے ہیں۔ ’حقوقِ بلوچستان‘ پیکج ان کے زخموں پر نمک پاشی ہے۔ پارلیمان کے اس عظیم بل کے پاس ہونے کے بعد بلوچستان میں بے گناہوں کے قتل میں اضافہ ہوا ہے۔ بلوچستان پر کئی’ آل پارٹیزکانفرنسیں‘ منعقد ہو چکی ہیں جن سے یہاں کے مظلوم عوام کوکسی طور سکون نہیں ملا۔ اب وزیر اعظم نے ایک اور ایسی کانفرنس بلائی ہے جو بنیادی طور پر امریکی کانگریس میں ہوئی سماعت کا رد عمل ہے۔ پاکستان کے حکمران سیاست دانوں کا ایک اورفریب ریاست کی جانب سے ڈھائے گئے مسائل پر بلوچستان کے عوام سے معافیاں مانگنا ہے۔ لیکن ہر معذرت خواہی کے بعد مظالم میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ لیکن بلوچستان کے محنت کش عوام اور نوجوانوں کو صرف ریاستی جبر کاہی سامنا نہیں بلکہ غربت، بھوک، ناخواندگی کے ساتھ ساتھ صحت اور دیگربنیادی سہولیات کی عدم دستیابی ان کے مصائب میں اضافہ کررہے ہیں۔ بلوچستان کے وسیع علاقے ابھی تک قرونِ وسطیٰ جیسے حالات میں ہیں۔ بلوچستان کو نوآبادی بنانے کے خلاف1948ء سے کئی مسلح بغاوتیں ہو چکی ہیں لیکن وہ ریاستی جبر کو شکست دینے میں ناکام رہی ہیں۔ خود ارادیت بلوچستان کے عوا م کا حق ہے۔ لیکن اس نظام اور اور اس کی محافظ ریاست کو شکست دینے کے لیے بلوچستان میں قومی آزادی کی جدوجہد کو سارے خطے کے محنت کش طبقات کی طبقاتی جدوجہد سے ساتھ جوڑنا پڑے گا،وہ محنت کش جو خود اس استحصالی نظام کا شکار ہیں۔ ایک سی چھوٹی قومی ریاست اور موجودہ جغرافیائی سرحدوں کے اندر رہتے ہوئے محکوم محنت کشوں کی آزادی ممکن نہیں۔جنوبی ایشیا کی رضاکارانہ سوشلسٹ فیڈریشن ہی نجات کا واحد راستہ ہے۔</p>
<p class="Urdu"><a href="http://www.dailytimes.com.pk/default.asp?page=2012\02\19\story_19-2-2012_pg3_4" target="_blank">ڈیلی ٹائمز19فروری2012</a></p>
<p class="Urdu"><script type="text/javascript">// <![CDATA[
(function(d, s, id) {
  var js, fjs = d.getElementsByTagName(s)[0];
  if (d.getElementById(id)) return;
  js = d.createElement(s); js.id = id;
  js.src = "//connect.facebook.net/en_US/all.js#xfbml=1";
  fjs.parentNode.insertBefore(js, fjs);
}(document, 'script', 'facebook-jssdk'));
// ]]&gt;</script></p>
<div class="fb-like" data-send="true" data-width="450" data-show-faces="true"></div>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.struggle.com.pk/baluchistan-apologies-wont-do/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>تصویروں کے کچھ اور رخ</title>
		<link>http://www.struggle.com.pk/%d8%aa%d8%b5%d9%88%db%8c%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%da%a9%da%86%da%be-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b1%d8%ae/</link>
		<comments>http://www.struggle.com.pk/%d8%aa%d8%b5%d9%88%db%8c%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%da%a9%da%86%da%be-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b1%d8%ae/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 21 Feb 2012 12:30:54 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[ ]]></category>
		<category><![CDATA[Black Economy]]></category>
		<category><![CDATA[Debt Crisis]]></category>
		<category><![CDATA[Economic Crisis]]></category>
		<category><![CDATA[Inflation]]></category>
		<category><![CDATA[Socialism]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.struggle.com.pk/?p=922</guid>
		<description><![CDATA[تحریر۔قمرالزماں خاں:- طریقہ کوئی بھی ہو وقت کے تعین کی بحث میں پڑے بغیر ہم کہتے ہیں کہ بالآخر پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں چلنے والی موجودہ قومی حکومت ختم ہوجائے گی۔ہم فرض کرلیتے ہیں کہ پاکستان میں ’’ مخصوص طریقوں ‘‘ کے استعمال ’’حقیقی طاقتوں‘‘اور انکے فرنٹ لائن اداروں کے ہتھکنڈوں اور میڈیا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="fb-like" data-send="true" data-width="450" data-show-faces="true"></div>
<p class="Urdu">تحریر۔قمرالزماں خاں:-</p>
<p class="Urdu"><a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/02/show_image_NewsSP.php_.jpg" target="_blank"><img class="alignright" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/02/show_image_NewsSP.php_.jpg" alt="" width="222" height="137" /></a>طریقہ کوئی بھی ہو وقت کے تعین کی بحث میں پڑے بغیر ہم کہتے ہیں کہ بالآخر پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں چلنے والی موجودہ قومی حکومت ختم ہوجائے گی۔<span id="more-922"></span>ہم فرض کرلیتے ہیں کہ پاکستان میں ’’ مخصوص طریقوں ‘‘ کے استعمال ’’حقیقی طاقتوں‘‘اور انکے فرنٹ لائن اداروں کے ہتھکنڈوں اور میڈیا کے فریق بن جانے کے بعد کسی نہ کسی طرح صدر مملکت آصف علی زرداری کو بھی مسند اقتدار سے علیحدہ کردیا جاتا ہے۔اب میدان صاف ہے۔کرپٹ ،نااہل اور سامراج کے پپٹ موجودہ حکمران گروہ ایوان اقتدار سے بے دخل کردیے گئے ہیں۔(یہاں پر ہم انتہائی مبالغے سے کام لیتے ہوئے فرض کرلیتے ہیں) کہ بالکل ہی برعکس طبع و کردار کے حاملین کا ڈیرہ قصر صدارت اور وزیر اعظم ہاؤس میں ہے تو نتائج کیا نکلیں گے؟مندرجہ ذیل سنجیدہ مسائل کا کیا حل ہے اور ان مسائل کے مضمرات کے لئے کسی بھی نئی حکومت کے پاس کونسا پروگرام یا فارمولہ ہے اس کا جائیزہ لینا ضروری ہے۔<br />
2007ء سے بتدریج مگر تیزی سے گراوٹ کی طرف جاتی معیشت جس کو 2008ء سے شروع ہونے والی عالمی کساد بازاری اور معاشی بحران کے ضعف سے بھی نقصان پہنچ رہا ہے(جسکی بحالی کے عالمی ماہرین معیشت کے مطابق 2020ء تک امکانات نہیں ہیں)کیسے بحال ہوسکے گی؟ عالمی سطح پر ببل اکانومی کے پھٹنے اور قرضوں،بازار حصص کے جوئے اور پراپرٹی کی خرید وفروخت کے جعلی ابھار پر معیشت کو استوار کرنے والی قوتوں کو تاریخ کے بدترین بحران کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔جس کی زد میں مضبوط معیشتیں اپنی کمزوری کی انتہاؤں پر پہنچ چکی ہیں۔ملک اور کمپنیاں دیوالیہ ہورہی ہیں،بے روزگاری کی شرح میں تاریخی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔عام آد می کی قوت خرید دن بدن کم ہوتی جارہی ہے منڈیاں سکڑ رہی ہیں اور کھپت میں کمی کے رجحان کا غلبہ ہے۔اس پس منظر میں دینا بھر میں پیداور اور تجارت میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔کھپت کے کم ہونے پر امریکہ اور یورپ میں درآمدات میں کمی کرنی پڑرہی ہے۔پاکستان جیسے معمولی برآمدات والے ملک کو بھی اس بحران کی وجہ سے سنگین نتائج بھگتنا پڑرہے ہیں۔پاکستانی تجارتی توازن میں برآمدات کے رک جانے کی وجہ سے زرمبادلہ کے بحران کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔عالمی معاشی بحران کا سب سے زیادہ خمیازہ محنت کش طبقے کو بھگتنا پڑرہا ہے۔ سرمایہ دارنظام کے ماہرین نے اپنے بحران کا رخ مزدوروں کی طرف موڑتے ہوئے ان کے روزگار،اجرتوں اور سہولیات پر حملہ کرکے عمومی زندگی کو پستی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ پاکستانی تارکین وطن جو اپنے ملک کو زرمبادلہ مہیا کرنے والا ایک بڑا ذریعہ ہیں اب روزمرہ زندگی بسر کرنے اور اپنے جسم و جان کار شتہ برقرار رکھنے کے لئے محنت کی منڈی میں خود کو روزانہ زیادہ بہیمانہ استحصال کے لئے پیش کرنے پر مجبور ہیں۔بچتوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔لہذا’’ ترسیلات زر‘‘ جو اس وقت 11ارب ڈالر ہیں میں کمی کے امکانات ہیں اور عالمی معیشت کی بحالی تک اس میں مثبت تبدیلی ممکن نہیں ہوگی۔زرمبادلہ کے ٹھٹھرکر رہ جانے کے ٹھوس عوامل کی موجودگی میں تجارت اور ادائیگیوں کے عمل میں پاکستانی روپے کی قدر کا کم ہونا ناگزیر ہے جو کہ ہوررہا ہے اور ہر دفعہ کرنسی کی پستی کے ساتھ قرضوں کے حجم میں اضافہ ہوجاتا ہے اور اسی طرح کا اضافہ ہردرآمد ہونے والی جنس کی قیمتوں میں ہوجاتا ہے۔یہ عامل بطور خاص تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا جاتا اور اسکے ردعمل میں تیل کے استعمال والے تمام شعبوں کی قیمتوں میں خود بخود اضافہ ہوجاتا ہے۔بجلی اور بجلی کے استعمال والے تمام شعبوں کی مصنوعات یا خدمات،ٹرانسپورٹ کے کرائے اور ہر نقل و حمل کے ذریعے مارکیٹ میں آنے والی چیز مہنگی ہوجاتی ہیں۔<br />
دنیا میں نظام اگر ’’آزاد منڈی‘‘ کا رہے گا تو یہ مسئلہ بھی رہے گا!!! اس کا حل کیا ہے اور کس کے پاس ہے؟ کم از کم موجودہ حکمران طبقہ اس کا جواب دینے سے قاصر ہے۔<br />
<a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/02/Pakistan-Economy-Crashed.gif" target="_blank"><img class="alignright" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/02/Pakistan-Economy-Crashed.gif" alt="" width="212" height="139" /></a>فرسودہ اور زائد المعیادانفراسٹرکچر،تجارتی مسائل،سامراجی بندشوں،صنعتوں کی اکثریت کا زرعی مقاصد کے ساتھ منسلک ہونا ( دراصل صنعتی انقلاب کی عدم موجودگی) اور ملکی آمدن اور اخراجات میں 100% فرق کی وجہ سے خسارے کو پورا کرنے کے لئے ملکی اور غیرملکی قرضوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے یہ عمل آدھی صدی سے جاری و ساری ہے جس کی وجہ سے ملکی قرضے68کھرب روپے اور غیر ملکی قرضے61.8ارب ڈالر سے تجاوز کرچکے ہیں۔کل بجٹ کا قریباََآدھا حصہ ان قرضوں کے سود اور ادائیگیوں پر صرف ہوجاتا ہے ۔غیرملکی قرضوں کے عوضانے کے طور پر نہ صرف خارجہ پالیسی سامراجی نقطہ نگاہ سے تشکیل دینی پڑتی ہے بلکہ ملک کی اندرونی پالیسیاں بالخصوص معاشی پالیساں بھی سامراجی اداروں کی شرائط اور مرضی کے مطابق وضع کرنا پڑتی ہیں۔ان شرائط کی رو سے تعلیم ،صحت اور دیگر بنیادی شعبوں پر حکومتی رعائت کا خاتمہ،عوام الناس پر بالواسطہ ٹیکسوں کا نہ رکنے والا حملہ جاری رکھنا،’’انکم سرمایہ دار کوجائے مگر ٹیکس صارف سے لیا جائے‘‘ سکیم کے تحت بجلی،گیس،آٹا،چینی ،چائے پتی،دودھ،خوردنی تیل،پیٹرولیم مصنوعات،موبائل فون کارڈزغرض ،ہر چیز پر کئی مرحلوں میں مختلف ڈیوٹیز اور ٹیکسز وصول کئے جاتے ہیں اور کئی شعبوں جیسے بجلی کے ہر ایک یونٹ پر سات مختلف ٹیکس، چارج،سرچارج ٹیکس وصول کئے جاتے ہیں۔اس سارے عمل کی وجہ سے ہر دس افراد میں سے چار غربت کی لکیر سے نیچے گر چکے ہیں۔دوسری طرف امراء سے ٹیکس لینا اس لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود اقتدار سے محروم نہیں ہوتے اور انکے مفادات کا تحفظ کرنے والے ہر پارلیمنٹ میں 90فی صد سے بھی زیادہ تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔اسی کے ساتھ سامراجی اداروں کی ایک شرط ملکی صنعتوں کے انہدام اور پاکستان کی معیشت کو پرچون معیشت میں ڈھالنا شامل ہے۔ایک طرف نج کاری اور ڈاؤن سائزنگ کا مطالبہ کیا جاتا ہے تاکہ صنعتیں منہدم ہوسکیں۔ تو دوسری طرف عالمی سرمایہ کار ہر ملک کے اند رصنعتی ڈھانچے قائم کرنے کی بجائے ہر طے شدہ تجارتی بلاک میں ایک مرکزی ملک( جو خود بڑی منڈی بھی ہو) کا تعین کر کے اس میں صنعتیں لگا کرباقی چھوٹی معیشتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس کو پسندیدہ تجارتی ملک تسلیم کرکے اسکی مصنوعات کو بغیر درآمد ی ڈیوٹیوں اور ٹیکسوں کے قبول کریں۔ایسے معاہدے کوپاکستان قبول کرچکا ہے۔جس کے ذریعے نام نہاد قومی معیشت یا قومی صنعت گدھے کے سینگوں کی طرح غائب ہونے جارہی ہے۔یاد رہے کہ موجودہ صنعتی ترقی منفی ایک فی صد ہے۔<br />
یہ کہا جانا کہ نئی کسی بھی آنے والی حکومت کے لئے بد عنوانی کو ختم کرنا ممکن ہوگا طوطا مینا کی کہانی کے مصداق ہے۔ ملک میں اگر اقتدار کی تبدیلی موجودہ نظام معیشت کے تحت ہی ہوتی ہے تو بدعنوانی جو اس نظام کی آکسیجن ہے میں روزبروز اضافہ ہونا ضروری ہے ورنہ منافعوں ،اثاثوں اور مراعات یافتہ طبقے کی پرآسائش زندگی میں بہتری نہیں ہوسکے گی ،ایسا ہونے پر’’ حکمران طبقے کی کونسل کے مستقل اراکین ‘‘کسی پارٹی یا حکومت کی کیوں حمائت کریں گے جو ان کو عیاشیوں سے بھر پور جداگانہ زندگیوں سے محروم کردے۔ کسی فرد واحد کی دیانت داری پورے نظام کی ھئیت نہیں تبدیل نہیں کرسکتی ایسا دعوی کرنا خود سمیت ہر کسی کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔حقیقت تو یہی ہے کہ کثیر القومی اجارہ داریوں کے سامنے ملکی سرمایہ داراور صنعتکاروں ( جنکی حیثیت اس سامراجی نظام میں گماشتہ کی ہے) کا ٹھہرنا محال ہے۔ان کا وجود بنکوں کے قرضوں،گیس،بجلی،اور ٹیکس کی چوری کی وجہ سے ممکن ہے۔اور اگر مندرجہ بالا چوریوں کو روک دیا جائے تو ملکی سرمایہ دار کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا۔دوسری طرف چوری برقرار رہے گی تو اس چوری کو برقرار رکھنے کے لئے پارلیمنٹ کا رکن بننا،ریاست کی تکون کے ساتھ چوتھے ستون تک رسائی کے لئے تمام (ناجائز)ذرائع بروئے کار لانا پڑتے ہیں۔ان چوریوں اور سینہ زوریوں کا تحفظ کیا جاتا ہے اور جواز فراہم کی جاتا ہے۔چوریوں کے تحفظ کے لئے ریاست کے آئینی قانونی ڈھانچوں کو یا تو مسخ کیا جاتا ہے یا متوازی اقدامات کئے جاتے اور اس سارے عمل کے سماج پر اثرات مرتب ہوتے ہیں اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے اصول کو تقویت ملتی ہے۔<br />
بدعنوانی کے ساتھ ساتھ پاکستان کی معیشت میں 73فی صد حصہ کالی دولت کا ہے اگر اس کو ختم کردیا جاتا ہے توکمزورمعیشت اور ریاستی ڈھانچہ زمین بوس ہوجائے گا اگر موجود کالی معیشت جو غیر ادا شدہ ٹیکسز سے حاصل شدہ دولت،سمگلنگ،اسلحے اور منشیات کے کاروبارپر مبنی ہے ،قائم رہتی ہے تو اسکے مضمرات نہ صرف معیشت بلکہ سیاست کے ساتھ ساتھ سماج کے تمام شعبوں میں سرائیت کرجاتے ہیں ا ور ایک نیا سماجی رنگ ڈھنگ معرض وجود میں آجاتا ہے جیسا کہ اس وقت ہے۔کالی معیشت اپنی اخلاقیات اور ثقافت کو جنم دیتی ہے جو جرائم،بے اصولی،قانون شکنی ،منافقت اوردروغ گوئی کی نفسیات کے ساتھ بے پناہ دیگر برائیوں کو پروان چڑھاتی ہے۔کالی معیشت اور مددگار ریاستی ،سیاسی ،سماجی اداروں کی موجودگی میں کوئی معاشرہ مثبت ارتقاء کی طرف نہیں بڑھ سکتا۔حکومتیں اسی کالی دولت کی مدد سے بنتی و گرتی ہیں اور کالے دھن کے مفادات کے گرد ہی گھومتی رہتی ہیں۔سب کچھ بدل کر بھی کچھ نہیں بدل سکتا ۔<br />
حکومت اگر بدل جاتی ہے اور ’’نئے فرشتے‘‘گدی نشین ہوجاتے ہیں تو کیا ان میں اتنی ہمت ہے کہ وہ پرائی جنگ یعنی’’ دھشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ جیسی نام نہاد اصطلاح سے قطع تعلق کرسکیں؟اگر کوئی اسٹیبلشمنٹ اور سامراج کے روٹھنے اور مان جانے کے کھیل کو سمجھے بغیر کسی عارضی غصے کو مستقل پالیسی سمجھ کر اپنی سیاسی گیم کی منصوبہ بندی کررہا ہے تو اس کو جان لینا چاہئے کہ وہ کسی بہت ہی عارضی پیش منظر کے سحر کا شکار ہوگیا ہے۔سامراجی اطاعت کے بغیر ہمارے لئے ’’عظیم قوتیں‘‘ بہت ہی نحیف ہو کربہت بڑے انتشاروخلفشار کا شکارہوجائیں گی۔دریا میں رہتے ہوئے مگر مچھ سے بیر نہیں رکھا جاسکتا ۔اگر سرمایہ داری نظام ہی ہمارے مقتدر اور حکمران طبقوں کا پسندیدہ نظام ہے تو پھر اسکے اپنے اصول ہیں اور ہر کسی کو اس کے تابع ہو کر ہی چلنا پڑے گا۔<br />
کیا نئی حکومت سامراجی مددگار مقتدر حلقوں کے اثر رسوخ ،مفادات،احکامات اور پالیسیوں سے متصادم اپنی کوئی آزادنہ سوچ کے مطابق پالیسی وضع کرسکے گی؟ کیا افغانستان میں مداخلت اور سامراج کی اعانت جیسی ’’دہری‘‘ پالیسی پر نظرثانی کرنے کی اجاز ت’’<br />
منتخب،جمہوری،آزاد اور خود مختار پارلیمنٹ‘‘ کو ہوگی یا ہوسکتی ہے؟ نظر ثانی کرنے کی پاداش میں کیا انجام ہوگا اور اگر بلی چوہے جیسا موجودہ کھیل جاری رہتا ہے تو پھر تبدیلی حکومت کے کیا معنے ہونگے؟<br />
معاشی بدحالی،بدعنوانی کی ناگزیریت،کالے دھن کی حاکمیت،سامراجی اطاعت،عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ اور وصول شدہ رقم کو قرضوں کے سود اور اقساط میں ادائیگی کے ناگزیر قوانین اگر آنے والی حکومت میں بھی جاری رہنے ہیں اور لازم طور پر رہیں گے توپھر عوام ، سیاست دان ،عدلیہ اور مقتدر قوتیں گالی کس کو دیں گے؟ زرداری اور گیلانی تو جاچکے ہوں گے!!!! یہ ایک خطرناک منظر نامہ ہوگا۔یہی ایک باریک ،پراسرار مگر طاقتور راز ہے جس کے سبب موجودہ حکومت پچھلے چار سالوں سے مسلسل برقرار ہے،حالانکہ اس کے جانے کی پیش گوئی ہر رات الیکٹرونک میڈیا پر بیٹھے ناکام نجومی دیتے چلے آرہے ہیں۔معاشی ،تاریخی اور معروضی حقائق واضع کرتے ہیں کہ نظام کی تبدیلی کے بغیر آنے والی کوئی بھی ’’نئی‘‘ حکومت کچھ بھی نیا نہیں کرسکے گی بلکہ وہ پچھلی آلودگیوں میں زیادہ لتھڑ کر اور زیادہ تعفن پھیلانے کا باعث بنے گی مگر سب سے خطرناک عامل ہو رد عمل ہوگا جو نئی حکومت کی ناکامی سے جنم لے گا،امیدیں جب ناامیدی کے سامنے کھڑی ہونگی تو پھر غم غصے میں بدل سکتا ہے اور غصہ کچھ کرنے کی ٹھان سکتا ہے۔قیادتیں مسترد ہوسکتی ہیں اور خلاء کو خود رو قیادتیں پر کر سکتی ہیں۔ خاموشی کو زبان مل سکتی ہے۔محکوم کچھ کرنے کی ٹھان سکتے ہیں۔زنجیریں جھٹک کر غلامی کو مزید ماننے سے انکار کردینے کا بس ایک اعلان ہی کافی ہے پھر وہ سب ممکن ہوجائے گا جس کو صدیوں سے ناممکن قرار دے کر ظلم کے اس نظام کو کروڑوں لوگوں کا مقدر بنادیا گیا ہے۔</p>
<p class="Urdu"><script type="text/javascript">// <![CDATA[
(function(d, s, id) {
  var js, fjs = d.getElementsByTagName(s)[0];
  if (d.getElementById(id)) return;
  js = d.createElement(s); js.id = id;
  js.src = "//connect.facebook.net/en_US/all.js#xfbml=1";
  fjs.parentNode.insertBefore(js, fjs);
}(document, 'script', 'facebook-jssdk'));
// ]]&gt;</script></p>
<div class="fb-like" data-send="true" data-width="450" data-show-faces="true"></div>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.struggle.com.pk/%d8%aa%d8%b5%d9%88%db%8c%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%da%a9%da%86%da%be-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b1%d8%ae/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>خانیوال میں محنت کشوں کی بستیاں مسمار کرنے پر احتجاج</title>
		<link>http://www.struggle.com.pk/%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%8c%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ad%d9%86%d8%aa-%da%a9%d8%b4%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%b3%d8%aa%db%8c%d8%a7%da%ba-%d9%85%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%b1-%da%a9/</link>
		<comments>http://www.struggle.com.pk/%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%8c%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ad%d9%86%d8%aa-%da%a9%d8%b4%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%b3%d8%aa%db%8c%d8%a7%da%ba-%d9%85%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%b1-%da%a9/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 19 Feb 2012 16:42:42 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Reports]]></category>
		<category><![CDATA[Workers' Struggle]]></category>
		<category><![CDATA[Khanewal]]></category>
		<category><![CDATA[Law]]></category>
		<category><![CDATA[State Oppression]]></category>
		<category><![CDATA[Workers Struggle]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.struggle.com.pk/?p=916</guid>
		<description><![CDATA[رپورٹ ؛پاکستان ٹریڈیونینڈیفنس کمپین:- ایک یونانی فلسفی نے کہا تھا کہ قانون مکڑی کا جالا ہوتا ہے جسے طاقتور چیر کے رکھ دیتا ہوتا ہے جبکہ کمزوراس میں پھنس جایا کرتے ہیں ہرطبقاتی سماج اپنی معیشت اپنی سیاست اپنی اقدار اوراپنے عدل وانصاف میں طبقاتی مفادات و تضادات کے تحت اور تابع ہواکرتاہے۔سماج کے بالا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="fb-like" data-send="true" data-width="450" data-show-faces="true"></div>
<p class="Urdu">رپورٹ ؛پاکستان ٹریڈیونینڈیفنس کمپین:-</p>
<p class="Urdu"><a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/02/DSC01464.jpg" target="_blank"><img class="alignright" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/02/DSC01464.jpg" alt="" width="194" height="145" /></a>ایک یونانی فلسفی نے کہا تھا کہ قانون مکڑی کا جالا ہوتا ہے جسے طاقتور چیر کے رکھ دیتا ہوتا ہے جبکہ کمزوراس میں پھنس جایا کرتے ہیں ہرطبقاتی سماج اپنی معیشت اپنی سیاست اپنی اقدار اوراپنے عدل وانصاف میں طبقاتی مفادات و تضادات کے تحت اور تابع ہواکرتاہے۔<span id="more-916"></span>سماج کے بالا ڈھانچے بھی اسی طبقاتی برتری کے حصول کی تگ ودو ہی کیلئے سرگرم رہتے ہوتے ہیں ۔<br />
حالیہ دنوں میں خاص طورپر پاکستان میں عدل وانصاف کے ادارے شہہ سرخیوں کا موضوع بنے چلے آرہے ہیں لیکن یہ شہہ سرخیاں حکمران طبقات اور ان کے اداروں کی باہمی لڑائی اور قتدار کی بندربانٹ کے کھیل کا ہی اظہار ہیں ۔اور یہ لڑائیاں ان کے باہمی طبقاتی مفادات کا ہی ایک حصہ ہیں ۔حکمران طبقے کے تضادات کے اس کھلواڑ میں اس بار عدل وانصاف ضرورت سے زیادہ سرگرم ہوتا نظر آرہاہے ۔کچھ ہی عرصہ پہلے پاکستان کی سول سوسائٹی نے عدلیہ بچاؤ تحریک چلائی تھی ،جس کے مقاصد میں باربار یہ جھوٹ بولا جاتارہاکہ اس کے بعد پاکستان کی ریاست ’’ماں‘‘ بن جائے گی اور یہ ماں ا پنے بچوں کے ساتھ شفقت اور برابری سے پیش آنے لگے گی۔لیکن اس تحریک کی ’’شاندار‘‘ کامیابی کے بعد یہ ماں کسی طور بھی ماں تو نہ بن سکی لیکن ایک وحشی قسم کی ڈائن ضرور سامنے آگئی جو کہ اپنے ہی بچوں کا خون پی کر خود کو زندہ رکھنے پر تلی ہوتی ہے ۔<br />
پچھلے کچھ دنوں سے خانیوال شہر میں یہ ریاست اپنے کچھ اداروں کے ذریعے وہاں تقریباًچالیس سالوں سے قائم کچی بستی کو مسمار کرنے پر تلی ہوئی ہے ۔اور اب تک دو سو سے زائدکچے گھر مسمار کر کے ان کے مکینوں کو کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبورکردیاگیاہے ،جبکہ مزید سات سو کچے گھروں کو مسمار کرنے کی تیاری زوروں پر ہے ۔ظلم کی حد یہ ہے کہ ان بے گھر کئے جانے والے غریب مزدوروں کوکوئی بھی متبادل جگہ فراہم کیے یا کوئی معاوضہ دیے بغیرہی ان پر قیامت ڈھا دی گئی ہے ۔مجبور اور لاچار سینکڑوں بچے اور خواتین کھلے آسمان تلے زندہ دروگورکر دیے گئے ہیں اور کئے جارہے ہیں۔<br />
پاکستان کے آئین کی شق نمبر 3کے تحت ریاست اپنے ہر شہری کی جان ومال کے تحفظ اور روزگار کی فراہمی کی ضامن قرار دی گئی ہے لیکن کہاں کا آئین کہاں کا تحفظ اور کہاں کی ضمانت ! ریاست کو ’’ماں ‘‘ کہنے والے ادارے ہوں کہ روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگانے والے حکمران ؛ خود کو خادم اعلیٰ قرار دینے والے خودساختہ ہیروہوں یا پھر ٹیلیویژن سکرینوں پر برسنے والی انصاف کی نام نہاد سونامی ہو۔سب کے سب اپنی دکانیں چمکانے میں لگے ہوئے ہیں ۔<br />
پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپین ملتان نے کچی بستی کے متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے خانیوال کا وزٹ کیاجو کہ اپنے ساتھ ہونے والے اس ظلم پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔عام غریب انسانوں کی یہ کھلی توہین عدل وانصاف کے نام پر کی جارہی ہے اور کوئی بھی سیاسی پارٹی یا نام نہاد سول سوسائٹی ان مظلوموں کی مدد تو کجا ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے سے ڈری ہوئی ہے۔خانیوال کے ان متاثرہ محنت کشوں نے اپنی پنچایتیں تشکیل دی ہیں جو کہ اپنے حقوق اور اپنی جدوجہد کیلئے لائحہ عمل تشکیل دیں گی ۔عدل وانصاف کے ایوانوں سے غریب محنت کشوں کو بے گھراور دربدرکیا جانا عوام کی ایسی توہین ہے جو کہ ایک طبقاتی سماج کا خاصا چلی آرہی ہے ۔طبقاتی جدوجہدہی واحد رستہ اورذریعہ ہے جس سے اس سمیت ہر ناانصافی کا خاتمہ ممکن ہو گا۔<br />
پاکستان ٹریڈیونین ڈیفنس کمپین نے اپنے ایک ہنگامی اجلاس میں اس بربریت کی شدید مذمت کی ہے اور متاثرہ محنت کشوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مسمار شدہ سبھی مکانات کو دوبارہ تعمیر کیاجائے ؛مزید گھروں کو مسمار کرنے کا سلسہ فوری طورپر بند کیا جائے ۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپین پاکستان سمیت دنیا بھر کے محنت کشوں اور ان کی تنظیموں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس ریاستی بربریت کا شکار ہونے والے ہزاروں بے گھر محنت کشوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کریں۔</p>
<div style="text-align: center;"><embed type="application/x-shockwave-flash" src="https://picasaweb.google.com/s/c/bin/slideshow.swf" width="400" height="267" flashvars="host=picasaweb.google.com&#038;hl=en_GB&#038;feat=flashalbum&#038;RGB=0x000000&#038;feed=https%3A%2F%2Fpicasaweb.google.com%2Fdata%2Ffeed%2Fapi%2Fuser%2F116459874014772347895%2Falbumid%2F5710803383881953617%3Falt%3Drss%26kind%3Dphoto%26hl%3Den_GB" pluginspage="http://www.macromedia.com/go/getflashplayer"></embed></div>
<div id="fb-root"></div>
<p><script>(function(d, s, id) {
  var js, fjs = d.getElementsByTagName(s)[0];
  if (d.getElementById(id)) return;
  js = d.createElement(s); js.id = id;
  js.src = "//connect.facebook.net/en_US/all.js#xfbml=1";
  fjs.parentNode.insertBefore(js, fjs);
}(document, 'script', 'facebook-jssdk'));</script></p>
<div class="fb-like" data-send="true" data-width="450" data-show-faces="true"></div>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.struggle.com.pk/%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%8c%d9%88%d8%a7%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ad%d9%86%d8%aa-%da%a9%d8%b4%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%b3%d8%aa%db%8c%d8%a7%da%ba-%d9%85%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%b1-%da%a9/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>باترتیب بد نظمی</title>
		<link>http://www.struggle.com.pk/%d8%a8%d8%a7%d8%aa%d8%b1%d8%aa%db%8c%d8%a8-%d8%a8%d8%af-%d9%86%d8%b8%d9%85%db%8c/</link>
		<comments>http://www.struggle.com.pk/%d8%a8%d8%a7%d8%aa%d8%b1%d8%aa%db%8c%d8%a8-%d8%a8%d8%af-%d9%86%d8%b8%d9%85%db%8c/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 16 Feb 2012 17:43:15 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[World]]></category>
		<category><![CDATA[ ]]></category>
		<category><![CDATA[America]]></category>
		<category><![CDATA[Extremism]]></category>
		<category><![CDATA[Fundamentalism]]></category>
		<category><![CDATA[Imperialism]]></category>
		<category><![CDATA[Lal Khan]]></category>
		<category><![CDATA[Religion]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.struggle.com.pk/?p=909</guid>
		<description><![CDATA[تحریر: لال خان:- (ترجمہ: عمران کمیانہ) کینشین معیشت کے مشہور امریکی ماہر جان کینتھ گلبرتھ نے بھارتی جمہوریت کے بارے میں ایک بار کہا تھاکہ یہ’’ دنیا کا سب سے منظم انتشار ہے‘‘۔اگر پاکستانی ریاست اور سماج کا مشاہدہ کیا جائے تو پتاچلتا ہے کہ یہ بھی ارادتاً پیدا کردہ باترتیب بد نظمی و انتشار [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="fb-like" data-send="false" data-layout="standard" data-width="450" data-show-faces="false" data-action="like" data-colorscheme="light"></div>
<p class="Urdu">تحریر: لال خان:-<br />
(ترجمہ: عمران کمیانہ)</p>
<p class="Urdu"><a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/02/Fundamentalism-in-Pakistan.jpg" target="_blank"><img class="alignright" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/02/Fundamentalism-in-Pakistan.jpg" alt="" width="237" height="117" /></a>کینشین معیشت کے مشہور امریکی ماہر جان کینتھ گلبرتھ نے بھارتی جمہوریت کے بارے میں ایک بار کہا تھاکہ یہ’’ دنیا کا سب سے منظم انتشار ہے‘‘۔<span id="more-909"></span>اگر پاکستانی ریاست اور سماج کا مشاہدہ کیا جائے تو پتاچلتا ہے کہ یہ بھی ارادتاً پیدا کردہ باترتیب بد نظمی و انتشار کے دردِزہ میں مبتلا ہے۔گزشتہ تین دہائیوں سے یہ افرا تفری اور قتل و خون اسلامی بنیاد پرستوں کی سر پرستی میں جاری و ساری ہے اوراس سلسلے میں بنیاد پرستی کو ریاست کی مکمل آشیر باد حاصل ہے۔حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستانی ریاست نے یہ پالیسی اپنے آقا امریکی سامراج کے اشارے پر شروع کی تھی۔1980ء اور 90ء کی دہائی میں پاکستان میں ماسکو نواز اور بیجنگ نواز بائیں بازو کے انہدام سے پیدا ہونے والا خلا دراصل رجعت پسندی نے پرُ کیا اور ضیاء الحق نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے مذہبی بنیاد پرستی کوخوب استعمال کیا۔جبکہ امریکیوں نے اس سفاک آمر کو افغانستان میں جاری ’ڈالر جہاد‘ کو چلانے اور اس خطے میں اپنے سامراجی عزائم کی تکمیل کے لئے استعمال کیا، خاص طور پر سر د جنگ کے آخری عرصہ میں یہ پالیسی شدت اختیار کر گئی کیونکہ امریکیوں کو خود سوویت یونین کے انہدام کی توقع نہیں تھی۔<br />
مشرقِ وسطیٰ اور اسلامی دنیا میں امریکیوں نے خاص طور پر مذہبی تعصب کے ابھار کو اپنی خارجہ پالیسی کا حصہ بنایا۔انڈونیشیا میں ہونے والا حالیہ تاریخ کا بد ترین قتلِ عام امریکی سی آئی اے نے اپنے پالتومذہبی جنونیوں کے ہاتھوں ہی کروایا۔30ستمبر 1965ء کو معروف قوم پرست رہنما سوئیکارنو کو ایک فوجی بغاوت کے ذریعے معزول کرنے کے بعد سامراجیوں نے انہی رجعت پسند عناصر کو فوجی آمر جنرل سہارتو کی قیادت میں انڈونیشیا میں موجود بائیں بازو کو کچلنے کیلئے استعمال کیا۔کمیو نسٹ پارٹی آف انڈونیشیا(PKI)سوویت بلاک کے باہر دنیا کی سب سے بڑی کمیونسٹ پارٹی تھی جس کے تیس لاکھ با ضابطہ ممبران کے ساتھ ساتھ دس لاکھ سیاسی ہمدرد مختلف تنظیموں اور ٹریڈ یونینوں میں موجود تھے۔ستمبر 1965ء سے جنوری 1966ء تک مذہب کے ان ٹھیکیداروں کے ہاتھوں دس لاکھ سے زیادہ ’کافر سرخے‘ اور ان کے خاندان ذبح ہوئے۔زیادہ تر مذہبی جنونیوں کا تعلق انڈونیشیا کی مشہور بنیاد پرست جماعت نہدۃالعلماء کے یوتھ ونگ ’انسور ‘سے تھا۔اسی سال کے آغاز میں برطانوی سفیر سر انڈریو گلکرسٹ نے لندن بھیجے گئے ایک تار میں لکھا’’میںآپ پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ انڈونیشیا میں ’معمولی گولا باری‘ ایک موزوں تبدیلی کیلئے ضروری ہے۔‘‘ مارک کرٹس نے ’’جمہوری قتلِ عام‘‘ کے نام سے ’دی اکالوجسٹ‘ کے اداریے میں انکشاف کیا ’’1962ء میں سی آئی ا ے کی ایک یاد داشت میں بڑے اطمینان سے بیان کیا گیا کہ امریکی صدر کینیڈی اور برطانوی وزیرِ اعظم ہیرولڈ میکملن نے صورتحال اور دستیاب مواقع کے مطابق صدر سوئیکارنو کو ہٹانے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔‘‘دیگر مشرقی ممالک میں بھی اسلامی بنیاد پرستوں اور سامراج کے گٹھ جوڑ کی تاریخ کچھ مختلف نہیں ہے۔<br />
تاہم پیچیدہ صورتحال اس وقت جنم لیتی ہے جب ننگے استحصال اور موقع پرستی پر مبنی ان قوتوں کے مفادات میں لوٹ مار کے دوران ٹکراؤ کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔حتیٰ کہ آج بھی طالبان کے ایک سے زیادہ دھڑے ایسے ہیں جن کے امریکی سامراج کے ساتھ ہمیشہ سے قریبی مراسم استوار رہے ہیں۔طالبان کوئی یکجا اکائی نہیں ہیں اور نہ ہی اسلامی بنیاد پرستوں اور سامراج کے مابین کو ئی واضح نظریاتی اختلاف موجود ہے۔تضاد تب پیدا ہوتا ہے جب سامراج کی سر پرستی ایک سے زیادہ بنیاد پرست گروہوں کو حاصل ہوتی ہے۔جیسے ہی ’مقدس جنگجوؤں‘ کے کسی گروہ کو سامراجی پشت پناہی ملتی ہے تو اس گروہ کے اندر ’مالِ غنیمت‘ کی تقسیم اور حصہ داری پر دھڑے بندی کا آغاز ہوجاتا ہے۔وہ ایک ہی وقت میں لڑائی اور مذاکرات دونوں جاری رکھتے ہیں۔ یہ بھلا کیسانظریاتی تضاد ہے؟تاہم کوئی بھی تحریک جو ان کے مشترکہ سرمایہ دارانہ معاشی مفادات کے لئے خطرہ بنتی ہے تو اسے کچلنے کے لئے یہ ہمیشہ متحد رہے ہیں اور رہیں گے۔مشرقِ وسطیٰ میں جب عوامی آتش فشاں پھٹا اور اس خطے میں سامراج کے مفادات کو خطرہ لاحق ہوا تو اسلامی پارٹیاں ایک بار پھر اپنے آقاؤں کی خدمت گزاری کے لئے پیش پیش نظر آئیں۔جیسے ہی انقلاب کے زلزلے نے سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادوں کو ہلانا شروع کیا اور لوگ اپنے سماجی و معاشی مسائل حل کروانے سڑکوں پر آئے تو سامراج نے اسلامی بنیاد پرستوں سے مذاکرات کا آغاز کر دیا ۔مصر اور تیونس میں اسلامی بنیاد پرستوں سے ان کے معاملات جلد طے پا گئے جبکہ لیبیا کے معاملے میں انہوں نے راتوں را ت القاعدہ سے تعلق رکھنے والوں اور گوانتانامو کے سزایافتہ بے شمار افراد کو ’آزادی پسند جنگجوؤں‘ کی صفوں میں شامل کروا دیا۔شام کے معاملے میں یہ بات انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ سعودی عرب، قطر اور دوسری خلیجی ریاستوں کے جابر اور امریکہ کی ٹٹّو حکومتیں انتہائی بے شرمی کے ساتھ ’جمہوری شام کے دوست‘ بن کر ایک بار پھر سامراج کی دلالی کر رہی ہیں اوران کے ذریعے سے جاہل رجعتی عناصر کی پشت پناہی کر کے انہیں ’آزاد شامی فوج‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے ۔<br />
پاکستان میں مذہبی دہشت گردی کے حامی اپنی مکروہ اختراعات کا پرچار کسی ندامت و پشیمانی کے بغیر کر رہے ہیں۔وہ کھلم کھلا جہادی دہشتگردی اور معصوم انسانوں کے قتلِ عام کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔ عام آدمی پہلے ہی سماجی اور معاشی بدحالی کا شکار ہے اور اب مذہبی قصائیوں اور فرقہ وارانہ منافرت نے اس کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ان حالات میں سامراجی ایک بار پھر یہ کوشش کر رہے دائیں بازو اور اسلام پسندوں کا ایک اتحاد قائم کر کے اسے ایک سیاسی قوت کے طور پر مسلّط کیا جائے تاکہ سرمائے کی غلامی کو طول دیا جا سکے۔فوج، عدلیہ اور تباہ حال ریاست کے کچھ دوسرے دھڑے عوامی تحریکوں کو دبانے اورسماجی انتشار پیدا کر کے کسی ممکنہ انقلابی موج کا رخ موڑنے کیلئے ان عناصر کو استعمال کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔وہ ’جمہوریت‘ اور ’ترقی مخالف‘ کرداروں کے تنازعہ پر مبنی سامراجی ناٹک سے بھی خوب اچھی طرح واقف ہیں۔آخر آئی ایس آئی بھی تو اس ڈالر جہاد کا حصہ تھی جس میں سی آئی اے نے ان مذہبی جنگجوؤں کو پروان چڑھایا تھا۔<br />
مذہب کا کردار ہمیشہ سے ایک سا نہیں رہا ۔اس عہد میں یہ ایک کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے ، نہایت منافع بخش کاروبار!امریکیوں نے ان بنیاد پرست عناصر اور ریاست میں موجود ان کے سر پرستوں کی خوب تربیت کی ہے کہ کس طرح منشیات کی خریدوفروخت اور دوسرے ناجائز طریقے اپنا کر نا صرف لامحدود دولت کمائی جا سکتی ہے بلکہ ’جہاد‘ کے خرچے بھی پورے کئے جا سکتے ہیں۔دنیا کے بیشتر دوسرے خطوں میں سامراجی جنگوں کے دوران یہی طریقہ کار استعمال کئے جاتے رہے ہیں۔ملا اشرافیہ اور اسلامی پارٹیاں بہت امیر ہیں۔گاؤں کا مولوی اب جاگیردار کے اناج اور مذہبی رسومات کی آمدن سے گزارہ نہیں کرتا۔مسجدیں خوب پھل پھول رہی ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف مذہبی منافرت کا زہر اگل کر چندہ جمع کرنے کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ ہمارے ’آزاد خیال، سیکولر اور جمہوری حکمران بھی سماجی بغاوتوں کا رخ موڑنے کیلئے مذہبی تعصب کا ہی سہارا لیتے ہیں۔’’اعتدال پسند اسلام‘‘ کا یہ نظریہ بے معنی و غیر معقول ہے۔اعتدال پسند اور شدّت پسند اسلام کے درمیان لکیر بہت ماند ہے۔رائیونڈ میں ہونے والے تبلیغی اجتماع پر حاضری دینے والے سرمایہ دار،جرنیل،بیوروکریٹ اور سیاستدان دراصل حکمران طبقے کی رجعتی سوچ کو واضح کرتے ہیں۔کیا تبلیغی جماعت اعتدال پسند ہے؟ایک جدید سرمایہ دار انہ ریاست کو سیکولر ہونا چاہئے تاہم سرمایہ داری کے نامیاتی بحران میں ریاست رجعتیت اور ترقی مخالف عناصر کو ہوا دینے پر مجبور ہو گئی ہے۔</p>
<div class="Urdu"><a href="http://dailytimes.com.pk/default.asp?page=2012\02\12\story_12-2-2012_pg3_4" target="_blank">ڈیلی ٹائمز ، 12فروری 2012</a></div>
<p><script type="text/javascript">// <![CDATA[
 (function(d, s, id) {   var js, fjs = d.getElementsByTagName(s)[0];   if (d.getElementById(id)) return;   js = d.createElement(s); js.id = id;   js.src = "//connect.facebook.net/en_US/all.js#xfbml=1";   fjs.parentNode.insertBefore(js, fjs); }(document, 'script', 'facebook-jssdk'));
// ]]&gt;</script></p>
<div class="fb-like" data-send="false" data-layout="standard" data-width="450" data-show-faces="false" data-action="like" data-colorscheme="light"></div>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.struggle.com.pk/%d8%a8%d8%a7%d8%aa%d8%b1%d8%aa%db%8c%d8%a8-%d8%a8%d8%af-%d9%86%d8%b8%d9%85%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>3</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>آل پاکستان پروگریسو یوتھ الائنس: بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کے خلاف لاہور میں احتجاجی ریلی اور مظاہرہ</title>
		<link>http://www.struggle.com.pk/%d8%a2%d9%84-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1%d9%88%da%af%d8%b1%db%8c%d8%b3%d9%88-%db%8c%d9%88%d8%aa%da%be-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b3-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%b3/</link>
		<comments>http://www.struggle.com.pk/%d8%a2%d9%84-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1%d9%88%da%af%d8%b1%db%8c%d8%b3%d9%88-%db%8c%d9%88%d8%aa%da%be-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b3-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%b3/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 13 Feb 2012 19:12:18 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Reports]]></category>
		<category><![CDATA[Baluchistan]]></category>
		<category><![CDATA[Lahore]]></category>
		<category><![CDATA[Protest]]></category>
		<category><![CDATA[State Terrorism]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.struggle.com.pk/?p=904</guid>
		<description><![CDATA[رپورٹ: کامریڈ آفتاب خان آل پاکستان پروگریسو یوتھ الائنس کے زیرِ اہتمام بلوچستان میں معصوم عوام اور سیاسی کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف لاہور میں ایک احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی کاآغاز نسبت روڈ سے ہوا جو لکشمی چوک میں پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔ اس احتجاجی ریلی کی قیادت پروگریسو یوتھ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="fb-like" data-send="true" data-width="450" data-show-faces="true"></div>
<p class="Urdu">رپورٹ: کامریڈ آفتاب خان<br />
<a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/02/Lahore-Rally-against-state-terrorism-and-target-killing-in-Baluchistan-12.jpg" target="_blank"><img class="alignright" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/02/Lahore-Rally-against-state-terrorism-and-target-killing-in-Baluchistan-12.jpg" alt="" width="219" height="123" /></a>آل پاکستان پروگریسو یوتھ الائنس کے زیرِ اہتمام بلوچستان میں معصوم عوام اور سیاسی کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف لاہور میں ایک احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔<span id="more-904"></span> ریلی کاآغاز نسبت روڈ سے ہوا جو لکشمی چوک میں پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔ اس احتجاجی ریلی کی قیادت پروگریسو یوتھ الائنس کے مرکزی آرگنائزر امجد شاہسوار، بی ایس او لاہور زون کے آرگنائزر میر ظریف رند، PTUDC کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری پارس جان، JKNSF لاہور برانچ کے سابق چیئرمین کامریڈ مشتاق اور نو منتخب چیئرمین ریاض بلوچ نے کی ۔ ریلی کا اختتام لکشمی چوک میں ہوا۔ جہاں پر زبردست نعرہ بازی کرتے ہوئے کارکنان نے ٹارگٹ کلنگ کی بھرپور مذمت کی۔اس موقع پر رہنماؤں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ دارانہ نظام کی زوال پذیری کی وجہ سے پاکستان میں انسانیت سسک رہی ہے اور یہاں کے عوام مسائل کی بھرمار میں زندگی گزار رہے ہیں۔ یہاں کے حکمران ان مسائل کے حل کے لئے کسی بھی جدوجہد کو برداشت کرنے اور سامنا کرنے سے قاصر ہیں اور اس کو کچلنے کے لئے فوج کشی تک کرنے سے گریز نہیں کرتے جیسا کہ آج بلوچستان میں ہو رہا ہے۔ لیکن یہ ظلم ہمیشہ کے لئے برداشت نہیں کیا جا سکتا، حکمران طبقات کو احساس ہونا چاہئے کے وہ اس ظلم اور بربریت کو زیادہ دیر تک عام عوام سے چھپا نہیں سکتے اور نہ ہی علاقائی اور صوبائی بنیادوں پر عوام میں پھیلائی گئی اس تقسیم اور تعصب کو زیادہ دیر تک برقرار رکھ سکتے ہیں۔ آل پاکستان پروگریسو یوتھ الائنس اس خونریزی کی بھرپور مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے فوری طور پر اس ٹارگٹ کلنگ کا خاتمہ کیا جائے۔</p>
<div style="text-align: center;"><object width="400" height="267" classid="clsid:d27cdb6e-ae6d-11cf-96b8-444553540000" codebase="http://download.macromedia.com/pub/shockwave/cabs/flash/swflash.cab#version=6,0,40,0"><param name="src" value="https://picasaweb.google.com/s/c/bin/slideshow.swf" /><param name="flashvars" value="host=picasaweb.google.com&amp;hl=en_GB&amp;feat=flashalbum&amp;RGB=0x000000&amp;feed=https%3A%2F%2Fpicasaweb.google.com%2Fdata%2Ffeed%2Fapi%2Fuser%2F116459874014772347895%2Falbumid%2F5708685257891497521%3Falt%3Drss%26kind%3Dphoto%26hl%3Den_GB" /><param name="pluginspage" value="http://www.macromedia.com/go/getflashplayer" /><embed width="400" height="267" type="application/x-shockwave-flash" src="https://picasaweb.google.com/s/c/bin/slideshow.swf" flashvars="host=picasaweb.google.com&amp;hl=en_GB&amp;feat=flashalbum&amp;RGB=0x000000&amp;feed=https%3A%2F%2Fpicasaweb.google.com%2Fdata%2Ffeed%2Fapi%2Fuser%2F116459874014772347895%2Falbumid%2F5708685257891497521%3Falt%3Drss%26kind%3Dphoto%26hl%3Den_GB" pluginspage="http://www.macromedia.com/go/getflashplayer" /></object></div>
<p><script type="text/javascript">// <![CDATA[
 (function(d, s, id) {   var js, fjs = d.getElementsByTagName(s)[0];   if (d.getElementById(id)) return;   js = d.createElement(s); js.id = id;   js.src = "//connect.facebook.net/en_US/all.js#xfbml=1";   fjs.parentNode.insertBefore(js, fjs); }(document, 'script', 'facebook-jssdk'));
// ]]&gt;</script></p>
<div class="fb-like" data-send="true" data-width="450" data-show-faces="true"></div>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.struggle.com.pk/%d8%a2%d9%84-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1%d9%88%da%af%d8%b1%db%8c%d8%b3%d9%88-%db%8c%d9%88%d8%aa%da%be-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b3-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%b3/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>مقبول بٹ شہید کی28ویں برسی کے موقع پر جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیر اہتمام سیمینار و احتجاجی ریلیاں</title>
		<link>http://www.struggle.com.pk/%d9%85%d9%82%d8%a8%d9%88%d9%84-%d8%a8%d9%b9-%d8%b4%db%81%db%8c%d8%af-%da%a9%db%8c28%d9%88%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%b1%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%88%d9%82%d8%b9-%d9%be%d8%b1-%d8%ac%d9%85%d9%88/</link>
		<comments>http://www.struggle.com.pk/%d9%85%d9%82%d8%a8%d9%88%d9%84-%d8%a8%d9%b9-%d8%b4%db%81%db%8c%d8%af-%da%a9%db%8c28%d9%88%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%b1%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%88%d9%82%d8%b9-%d9%be%d8%b1-%d8%ac%d9%85%d9%88/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 13 Feb 2012 12:01:19 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Reports]]></category>
		<category><![CDATA[JKNSF]]></category>
		<category><![CDATA[Kashmir]]></category>
		<category><![CDATA[Maqbool Butt]]></category>
		<category><![CDATA[Protests]]></category>
		<category><![CDATA[Revolution]]></category>
		<category><![CDATA[Seminar]]></category>
		<category><![CDATA[Socialism]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.struggle.com.pk/?p=896</guid>
		<description><![CDATA[مقبول بٹ شہیداور شہدائے چکوٹھی کی برسی کے موقع پر جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (JKNSF)کے زیر اہتمام پورے ملک میں مہنگائی ، بیروزگاری ، غربت اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف احتجاجی مظاہرے، سیمینار اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔ راولاکوٹ رپورٹ : کامریڈ حارث جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیر اہتمام مقبول [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="fb-like" data-send="true" data-width="450" data-show-faces="true"></div>
<p class="Urdu"><a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/02/Maqbool-Butt.jpg" target="_blank"><img class="alignright" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/02/Maqbool-Butt.jpg" alt="" width="122" height="152" /></a>مقبول بٹ شہیداور شہدائے چکوٹھی کی برسی کے موقع پر جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (JKNSF)کے زیر اہتمام پورے ملک میں مہنگائی ، بیروزگاری ، غربت اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف احتجاجی مظاہرے، سیمینار اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔<span id="more-896"></span></p>
<p class="Urdu"><span style="color: #ff0000;">راولاکوٹ</span></p>
<p class="Urdu">رپورٹ : کامریڈ حارث<br />
جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیر اہتمام مقبول بٹ شہید اور شہدائے چکوٹھی کے یوم شہادت کے موقع پر لوڈشیڈنگ،مہنگائی، بیروزگاری، طبقاتی نظام تعلیم اور استحصالی نظام کیخلاف احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی کی قیادت مرکزی سیکرٹری جنرل کامریڈ خلیل بابر اور مرکزی چیف آرگنائزر کامریڈ رضوان نے کیا۔ ریلی کے شرکاء انقلاب انقلاب سوشلسٹ انقلاب، کالی رات جاوے ہی جاوے، سرخ سویرا آوے ہی آوے، لوٹ کھسوٹ کے راج کو بدلو، چہرے نہیں سماج کو بدلو کے فلک شگاف نعرے لگارہے تھے۔ ریلی شہر کا چکر لگانے کے بعد ظہیر چوک میں جلسہ عام کی شکل اختیار کر گئی، جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہ مقبول بٹ شہید اور شہدائے چکوٹھی کے مشن کی تکمیل آج خطے میں درپیش عوامی مسائل کے خاتمے کی جدوجہد سے ہی کی جا سکتی ہے۔ جے کے این ایس ایف اس خطے میں غربت ، مہنگائی، بیروزگاری، اور طبقاتی استحصال کے خلاف علم بغاوت بلند کئے ہوئے ہے، ہمیں مقبول بٹ شہید کی جدوجہد کو آج کے عہد کے مطابق سمجھتے ہوئے مستقبل کی جدوجہد کا تعین کرنا ہوگا۔ مقبول بٹ شہید اور شہدائے چکوٹھی کی شہادتوں کا انتقام ہم اس نظام سے لیں گے ،آج سرمایہ دارانہ نظام عالمی طور انسانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن چکا ہے، پوری دنیا تحریکوں کی لپیٹ میں ہے، عوام سڑکوں پر ہیں اور اس نظام سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں، آج جس خطے میں ہم اپنی زندگیاں بسر کر رہے ہیں یہ بھی اس دنیا سے کٹا ہوا نہیں ہے اور نہ ہی کوئی الگ حیثیت رکھتا ہے، ہمیں پوری دنیا میں ابھرنے والی ان تحریکوں سے سبق سیکھنا ہو گا۔ این ایس ایف کا ہر نوجوان محنت کشوں اور طلبہ کی ہر پرت تک جا رہا ہے ، اور این ایس ایف ہی وہ واحد قوت ہے جو اس خطے میں بسنے والے عوام کے مسائل کے حقیقی حل کا انقلابی پروگرام رکھتی ہے، اور یہ سمجھتی ہے کہ کشمیر کی قومی آزادی کی تحریک کو بھارت اور پاکستان کے محنت کش طبقے کی تحریکوں کے ساتھ طبقاتی بنیادوں پر جوڑتے ہوئے برصغیر کی سوشلسٹ فیڈریشن کا قیام ہی اس خطے کے عوام کو مسائل سے چھٹکارا دلا سکتا ہے اور ہم یہ جدوجہد آخری فتح تک جاری و ساری رکھیں گے۔ جلسہ سے جے کے این ایس ایف کے مرکزی سیکرٹری جنرل کامریڈ خلیل بابر، مرکزی چیف آرگنائزر کامریڈ رضوان، مرکزی چیئرمین شعبہ نشرواشاعت کامریڈ شہزاد ایوب، بشارت علی، اخلاق رحیم، کاشف عباس، ابرار لطیف ،احتشام، دانیال، خلیق ارشاد اور دیگر نے خطاب کیا۔ جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض کامریڈ حارث نے ادا کئے۔</p>
<p class="Urdu"><span style="color: #ff0000;"> کوٹلی</span></p>
<p class="Urdu">کوٹلی میں مقبول بٹ شہید کی برسی این ایس ایف کے زیر اہتمام انقلابی جوش و خروش سے منائی گئی۔اس سلسلے میں ایک ریلی نکالی گئی جس کا آغاز بوائز کالج کے گراؤنڈ سے دن ۱۱بجے ہوا۔ریلی کی قیادت NSFکے مرکزی سینئر نائب صدرکامریڈ مدثر چوہدری اور مرکزی ڈپٹی آرگنائزرساجد رحمان نے کی۔شرکاء نے بینرز اٹھا رکھا تھا جن پر لکھا تھا کہ ہم مقبول بٹ شہید کو سرخ سلام پیش کرتے ہوئے مہنگائی، طلبہ یونین پر پابندی ، بے روزگاری اور سرمایہ داری کے خلاف جنگ کا اعلان کرتے ہیں۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے NSF کے مرکزی قائدین نے کہا کہ ہم سامراج کے خلاف مقبول بٹ کی نا قابل مصالحت جدوجہد کو کامیابی تک جاری رکھیں گے۔ ریلی سے کا لج یونٹ کے صدر شعیب عزیز اور سٹی کوٹلی سے عثمان، افضال، اظہر،اکرام، وقار، فرہان،شیراز ، نوید اور دیگر انقلابی نوجوانوں نے بھی خطاب کیا اور سوشلسٹ انقلاب کی کامیابی تک جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔</p>
<p class="Urdu"><span style="color: #ff0000;">مظفرآباد</span></p>
<p class="Urdu">رپوٹ:خواجہ ابرار<br />
11 فروری مقبول بٹ شہید کی 28ویں برس اور شہدائے چکوٹھی کی 22ویں برسی کے موقع پرJKNSFکا مریڈز نے مظفرآباد میں غربت، مہنگائی، لوڈشیڈنگ ،سامراجی جبر ،تقسیم کشمیر طلباء یونین پر پابندی کے خلاف عظیم الشان احتجاجی ریلی کا اہتمام کیا ریلی کا آغاز صبح 10بجے اپراڈہ سے ہوا ریلی میں گڑھی دوپٹہ ،کہوڑی،پہٹکہ،اور مظفرآبادشہر کے تمام وارڈز اور کالجز سے نوجوانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ریلی یونیورسٹی روڈ ۔سی ایم ایچ۔گیلانی چوک سے ہوتی ہوئی سنٹر پریس کلب پہنچی دوران ریلی کارکنوں کے انقلابی نعروں سرخ ہے سرخ ہے ایشیاء سرخ ہے ،خون مقبول بٹ خون چکوٹھی سے ایشیاء سرخ ہے۔عرب انقلاب زندہ باد سرمایہ داری مردہ با د مہنگائی بیروز گاری ،دھشت گردی ورلڈبنک ہائے ہائے لوٹ کسوٹ کے راج کو بدلو چہرے نہیں سماج کو بدلو اور سوشلسٹ انقلاب زندہ باد کے نعرے لگائے گے ریلی سنٹر پریس کلب پہنچ کر جلسہ عام کی شکل اختیار کرگی ریلی سے جے کے این ایس ایف کے مرکزی صدر راشد شیخ،سی سی ممبر وکیل مغل،ضلعی آرگنائزر کامریڈ وقاص ،کامریڈبشیر،PTUDLکے رہنما کامریڈ نوید،PYOکے ڈویثرنل سیکرٹری اطلاعات دانش کاظمی،کامریڈ بلال راجہ،مہتاب اعوان،حفیظ احمد ،عمران شفیع،زاہد مغل،منظور قریشی ،نگاش کاظمی،و دیگر نے خطاب کے دوران کہا کہ مقبول بٹ کی جدوجہد قومی آزادی اور سماجی نا انصافی کے گرد گوئی ہے اور آج NSFقومی آزادی کی جدوجہد کو طبقاتی بنیادوں پراستوار کرتے ہوئے جدید سائنس نظریات سے لیس ہو کر لڑ رہی ہے اور یہ سمجھتی ہکہ کشمیر کی قومی آزادی اور تمام مسائل کا واحد حل صرف طبقاتی جدوجہد کے ذریعے سرمایہ داری کا خاتمہ کرتے ہوئے سو شلسٹ انقلاب برپا کر کے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے مقررین نے حالیہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ،جامع کشمیر میں فیسوں میں اضافہ کی مذمت کی اور ڈاکٹرز کے مطالبات کی حمایت کا اعلان کیا اور عرب انقلاب سمیت دنیا بھر میں موجودتحریکو کی بھر پور حمایت کا اعلان کیا۔اس دوران سٹیج کے فرائض کا مریڈ جمیل خواجہ نے ادا کئے۔</p>
<p class="Urdu"><span style="color: #ff0000;">کراچی</span></p>
<p class="Urdu">مقبول بٹ شہید اور شہدائے چکوٹھی کی لازوال قربانیاں رنگ لائیں گی۔ کشمیری عوام کی آزادی اور خوشحالی کا راستہ عالمی محنت کش طبقے کے انقلاب کے ساتھ وابستہ ہے۔ موجودہ صورتحال کو پیشِ نظر انقلابی تحریکیں جلد اس سماج میں پھٹ کر اپنا اظہار کریں گی۔ایک انقلابی قیادت کے فقدان کے خاتمے اور انقلابی قیادت کو متبادل کے طور تعمیر کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس کے رہنما کامریڈ فارس نے مقبول بٹ کی برسی کے موقع پر کراچی پریس کلب میں ایک مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مظاہرے کا انعقاد مقبول بٹ شہید کیے یومِ شہادت کے موقع پر مہنگائی، بیروزگاری، لوڈشیڈنگ نجکاری، طلبا یونین پر پابندی، سرمایہ دارانہ استحصال اور سامراجی غلامی کے خلاف اعلانِ جنگ کے طور پر کیا گیا انہوں نے کہا کے کشمیری عوام کی نجات پاکستان اور بھارت کے محنت کشوں کی نجات سے ہی منسلک ہے ایک انقلابی تنظیم کے زریعے ہی تمام تر سامراجی سازشوں سے لڑا جا سکتا ہے۔ ان کے علاوہ جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے رہنما کامریڈ تشنہ اور شعیب عمر نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مقبول بٹ کے افکار اور مقاصد کو تعبیر دینے کے لیے نوجوان سوشلزم کے انقلابی نظریات سے اپنے آپ کو لیس کریں۔ جب تک سرمایہ دارانہ نظام<br />
رہے گا امارت اور غربت کی کشمکش رہے گی۔ سوشلسٹ انقلاب کے زریعے سرمایہ داری کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے اور غیر طبقاتی سماج کا قیام عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ سب سے آخر میں PTUDC کے مرکزی صدرکامریڈ ریاض حسین لنڈ نے خطاب کیا اور مقبول بٹ شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ تمام تر مسائل سے چھٹکارے کے لیے سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کو تیز کیا جائے۔ ان کے علاوہ شو میکر ایسو سی ایشن کے رہنما کامریڈ ہر دل کمار، کامریڈ زاہد، کامریڈ شیراز اور کامریڈ شہریار نے بھی خطاب کیا۔</p>
<p class="Urdu"><span style="color: #ff0000;">لاہور</span></p>
<p class="Urdu">رپورٹ :کامریڈ غفار<br />
جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس کے زیرِ اہتمام شہیدِ کشمیر مقبول بٹ اور شہدائے چکوٹھی کی برسی کے موقع پر لیبر بختیار ہال میں لاہور برانچ کا کنونشن اورایک عظیم و شان سیمینار منعقد کیا گیا جس کا عنوان ’’کشمیر اور انقلابِ برِ صغیر ‘‘ تھا۔پروگرام کے مہمان خصوصی پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے سابق سیکرٹری جنرل چوہدری غلام عباس تھے جبکہ صدارت لاہور برانچ کے چیئر مین کامریڈ مشتاق نے کی۔ پروگرام میں سینکڑوں کی تعداد میں نوجوانوں نے شرکت کی ۔مختلف طلباء تنظیموں سے نوجوانوں نے پروگرام میں شرکت کی جن میں PSF ، BSO(Pajjar) ،JKNSF، BNT اور PTUDC کے رہنماؤں نے شرکت کی ۔اس موقع پر نئی کابینہ کا انتخا ب عمل میں لایا گیاجس کے مطابق غفار چیئر مین سٹڈی سرکل،اعجاز ڈپٹی آرگنائزر،شہباز آرگنائزر،آفتاب خان سیکرٹری جنرل، آفتاب احمدجوائنٹ سیکرٹری ،مقصود ڈپٹی سیکرٹری جنرل،تنویر سیکرٹری مالیات،انجم سیکرٹری نشرواشاعت،شیراز گلشن سینئر وائس چیئر مین ،آفاق وائس چیئر مین اور کامریڈریاض چیئر مین منتخب ہوئے جن کا حلف کامریڈ مشتاق نے لیا۔ مقررین نے اپنے خطاب کے دوران مقبول بٹ شہید ،شہدائے چکوٹھی اور دنیا بھر کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ہمیں اپنے انقلابی شہداء کی جدوجہد کو موجودہ عہد میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔آج عالمی طور پر سرمایہ دارانہ نظام ناکام ہو چکا ہے اس نظام کے اندر رہتے ہوئے کسی قسم کی آزادی ممکن نہیں۔قومی آزادی کی تحریکوں کو محنت کش طبقے کی عالمی تحریک سے جوڑتے ہوئے آگے بڑھ کر سوشلسٹ انقلاب برپا کرنے کی ضرورت ہے۔ایک منصوبہ بند معیشت ہی قومی وطبقاتی استحصال سے نجات دلا سکتی ہے۔پاکستان کے تمام صوبوں میں بسنے والے محنت کش عوام کا دکھ بھی وہی ہے جو کشمیری عوام کا ہے۔حکمران طبقے نے رنگ ،نسل ،علاقے کی بنیاد پر محنت کشوں کو تقسیم کر رکھا ہے۔ہمیں ان تمام تر تعصبات سے بالا تر ہو کر مشترکہ مفادات کے خصول کیلئے مل کر آگے بڑھنا ہو گا۔تمام مقررین نے بلوچستان میں معصوم عوام اور سیاسی کارکنوں کے قتلِ عام کی بھر پور مذمت کی اور بلوچی عوام کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی کیااور حکومت وقت سے مطالبہ کیا کے فوری طور پر ٹارگٹ کلنگ کو بند کرتے ہوئے بلوچی عوام کے تمام تر مسائل کو حل کیا جائے۔مقررین میں پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے سابق سیکرٹری جنرل چوہدری غلام عباس کے علاوہ (BSO(Pajar لاہور زون کے آرگنائزر میر ظریف رند،PPP لاہورکے راہنما راسخ ٹھاکر، آل پاکستان پروگریسیو یوتھ الائنس کے مرکزی آرگنائزر کامریڈ امجد شہسوار ،PTUDC کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات کامریڈ پارس جان، لاہور برانچ کے چیئر مین کامریڈ مشتاق، نومنتخب چیئر مین ریاض بلوچ ، این ایس ایف کے رہنما جلیل خان ،YFIS کے مرکزی رہنما راشد خالد، BNT سندھ کے صدر اعجاز بھگیو، PSFپنجاب یونیورسٹی کے صدر سمیت دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔</p>
<p><script type="text/javascript">// <![CDATA[
  (function(d, s, id) {   var js, fjs = d.getElementsByTagName(s)[0];   if (d.getElementById(id)) return;   js = d.createElement(s); js.id = id;   js.src = "//connect.facebook.net/en_US/all.js#xfbml=1";   fjs.parentNode.insertBefore(js, fjs); }(document, 'script', 'facebook-jssdk'));
// ]]&gt;</script></p>
<div style="text-align: center;"><object width="400" height="267" classid="clsid:d27cdb6e-ae6d-11cf-96b8-444553540000" codebase="http://download.macromedia.com/pub/shockwave/cabs/flash/swflash.cab#version=6,0,40,0"><param name="src" value="https://picasaweb.google.com/s/c/bin/slideshow.swf" /><param name="flashvars" value="host=picasaweb.google.com&amp;hl=en_GB&amp;feat=flashalbum&amp;RGB=0x000000&amp;feed=https%3A%2F%2Fpicasaweb.google.com%2Fdata%2Ffeed%2Fapi%2Fuser%2F116459874014772347895%2Falbumid%2F5708581336629571649%3Falt%3Drss%26kind%3Dphoto%26hl%3Den_GB" /><param name="pluginspage" value="http://www.macromedia.com/go/getflashplayer" /><embed width="400" height="267" type="application/x-shockwave-flash" src="https://picasaweb.google.com/s/c/bin/slideshow.swf" flashvars="host=picasaweb.google.com&amp;hl=en_GB&amp;feat=flashalbum&amp;RGB=0x000000&amp;feed=https%3A%2F%2Fpicasaweb.google.com%2Fdata%2Ffeed%2Fapi%2Fuser%2F116459874014772347895%2Falbumid%2F5708581336629571649%3Falt%3Drss%26kind%3Dphoto%26hl%3Den_GB" pluginspage="http://www.macromedia.com/go/getflashplayer" /></object></div>
<div class="fb-like" data-send="true" data-width="450" data-show-faces="true"></div>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.struggle.com.pk/%d9%85%d9%82%d8%a8%d9%88%d9%84-%d8%a8%d9%b9-%d8%b4%db%81%db%8c%d8%af-%da%a9%db%8c28%d9%88%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%b1%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%88%d9%82%d8%b9-%d9%be%d8%b1-%d8%ac%d9%85%d9%88/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور میں موت کی سوداگری! ذمہ دار کون؟</title>
		<link>http://www.struggle.com.pk/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d9%b9%db%8c-%d9%b9%db%8c%d9%88%d9%b9-%d8%a2%d9%81-%da%a9%d8%a7%d8%b1%da%88%db%8c%d8%a7%d9%84%d9%88%d8%ac%db%8c-%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85/</link>
		<comments>http://www.struggle.com.pk/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d9%b9%db%8c-%d9%b9%db%8c%d9%88%d9%b9-%d8%a2%d9%81-%da%a9%d8%a7%d8%b1%da%88%db%8c%d8%a7%d9%84%d9%88%d8%ac%db%8c-%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 13:08:58 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[ ]]></category>
		<category><![CDATA[Deaths]]></category>
		<category><![CDATA[Medicine]]></category>
		<category><![CDATA[PIC]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.struggle.com.pk/?p=882</guid>
		<description><![CDATA[تحریر ۔قمرالزماں خاں:- پنجاب کی اپوزیشن جو وفاق اور تین صوبوں میں حکومت میں ہے کا پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مہلک ادویات کی فراہمی کی بنا پر 133 ہلاکتوں پر احتجاج اور اسکے جواب میں نام نہاد خادم اعلی کا رد عمل دونوں ہی خاصے مضحکہ خیز ہیں۔’’خادم اعلی ‘‘ تو فرماتے ہیں کہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="fb-like" data-send="true" data-width="450" data-show-faces="true"></div>
<p class="Urdu">تحریر ۔قمرالزماں خاں:-</p>
<p class="Urdu"><a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/02/PIC_Deaths_Free_Medicine.jpg" target="_blank"><img class="alignright" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/02/PIC_Deaths_Free_Medicine.jpg" alt="" width="245" height="161" /></a>پنجاب کی اپوزیشن جو وفاق اور تین صوبوں میں حکومت میں ہے کا پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مہلک ادویات کی فراہمی کی بنا پر 133 ہلاکتوں پر احتجاج اور اسکے جواب میں نام نہاد خادم اعلی کا رد عمل دونوں ہی خاصے مضحکہ خیز ہیں۔<span id="more-882"></span>’’خادم اعلی ‘‘ تو فرماتے ہیں کہ ’’آپ یقین کریں میں حلفیہ کہتا ہوں کہ ڈینگی کی وبا بھی اسلام آباد میں بیٹھی ایک اعلی شخصیت کی سازش کا نتیجہ تھی اور پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں انسانی جسم کے خون کے پلیٹ لٹس کو ختم کردینے والی ادویات کی تقسیم بھی ایک سازش کا نتیجہ ہے‘‘۔یہ بیان انہوں نے متعدد انکوائیری کمیٹیوں کی تشکیل کے بعد اور ان میں سے بیشتر کی رپورٹس آنے سے قبل ہی داغ دیا ہے۔ممکن ہے کہ زہریلی ادویات کا معاملہ کسی سازش کا ہی نتیجہ ہو مگر کسی پختہ ثبوت کے بغیر یہ الزام کس طرح عائد کیا جاسکتا ہے اور پھر اس کا رخ اسی مخصوص سمت میں جو ہر چلنے والے تیر کا آج کل نشانہ بنی ہوئی ہے!! ’’ خادم اعلی ‘‘ کا ڈینگی کی وبا کے متعلق بیان ان کی اپنی شخصیت ،گھنبیرتا طاری کرنے والے لہجے، تدبر،ذہانت،سیاست میں سپورٹس مین سپرٹ اور کسی الزام کی زد میں ہونے پر انکے اعصاب کی کیفیت کا بھانڈا پھوڑنے کے علاوہ کسی قسم کے انکشاف کے قابل نہیں ہے۔ چوبیس سالوں کی ایک مخصوص طرح کی سیاسی تاریخ رکھنے والے وزیر اعلی پنجاب سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اٹھائیس ہزار سے زائد غریب شہریوں کو موت الملک سے ملوانے والی دوائی دینے کی غلطی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے یا 133(سردست)قیمتی جانوں کی تلفی پراپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں ایک مذاق سے زائد کچھ اور نہیں ہے۔یہ تو 133لوگوں کی اموات کی بات ہے اگر تعداد اس سے کئی گنا زیا دہ بھی ہوجائے تو حکمران طبقے کی مختلف قسم کی تمام پرتوں سے کسی اخلاقیات کی توقع کرنا گناہ عظیم ہوگا۔وطن عزیز میں کسی بھی سنگین نوعیت کی غلطی یا جرم کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا خاص طور پر حکمرانوں کا وہ حصہ جو اس غلطی کا براہ راست ذمہ دار ہو وہ ایک لمحہ کے لئے بھی کسی پشیمانی کا شکار ہوئے بغیر یا تو تاویلات گھڑنا شروع کردیتا ہے یا پھر اپنے گناہ کو کسی اور کے سر پر تھوپ کر خود گنگا اشنان کرلیتا ہے۔پھر بلیم گیم کا ایک نا ختم ہونے والا ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے کہ اصل ایشو کہیں دب کر رہ جاتا ہے۔<br />
پنجاب حکومت کی اپوزیشن کا سارا زور صرف ایک نقطے پر ہے کہ چونکہ پنجاب میں درجنوں محکموں سمیت صحت کے شعبے میں بھی وزیر تقرر نہ کیا گیا اور محکمہ صحت کا چارج بھی شہباز شریف کے پاس ہے اسلئے اس شعبے کی کارکردگی ناقص ہے اور موجودہ اموات اور ’’ادویات سکینڈل‘‘کی ذمہ داری وزیر اعلی پر ہے۔بادی النظر میں تو یہ بات درست نظر آتی ہے کہ خود جان لیوا بیماری میں مبتلا وزیر اعلی شہباز شریف ایک وقت میں درجنوں محکموں کی ذمہ داری اپنے پاس رکھیں گے تو ان محکموں میں عمومی اور روزمرہ کے کاموں میں بھی مسائل پیدا ہونے کا احتمال ہے۔ان محکموں کی کارگزاری بہتر بنانے یا پھر کوئی نئے پراجیکٹ قائم کرنے کا تو کوئی موقع نہیں نکل سکتا۔بیوروکریسی تو لگا بندھا کام کرتی ہے ،پالیسی بنانا تو سیاسی قیادت کا فریضہ ہوتا ہے مگر تعلیم،صحت اور دیگراہم شعبے بغیر کسی وزیر کے چل رہے ہیں۔اس معاملے میں تو شہباز شریف نے ایک موقف تو یہ اختیار کیا کہ وہ صوبے کے پیسے بچانے کے لئے وزرا کی فوج بھرتی کرنے سے اجتناب برت رہے ہیں۔ مگران کے کچھ پروجیکٹس جیسے ’’سستی روٹی سکیم‘‘،’’ییلو کیب سکیم نمبر2‘‘ ،’’جاتی عمرہ موٹر جانے والی مہنگی شاہراہوں کی تعمیر‘‘،’’دانش سکول سسٹم ‘‘،ایک ہی شہر لاہورکے مخصوص حصوں میں وسائل کا بھاری اور غیر محتاط استعمال،انکی اور بڑے بھائی کی سیکورٹی اور پروٹوکول کا لڑکھڑاتی معیشت پر بوجھ اور وزیر اعلی کے نہ رکنے والے غیر ملکی دوروں کے اخراجات انکی کفائیت شعاری کے دعوے کی نفی کرتے نظر آتے ہیں۔صرف وزراء کے تقرر نہ کرنے سے توبہت معمولی رقم بچتی ہے اصل رقم تو ان وزارتوں بیوروکریٹک ڈھانچوں پر ضائع ہوتی ہیں جو قائم و دائم ہیں۔<br />
صوبہ پنجاب بالخصوص شہر لاہورکے پسماندہ حصوں کے غریب ترین لوگوں میں جان لیوا ادویات کی فراہمی اور انسانی جانوں کے تلفی پر تو بہت بحث ہورہی ہے اور ہونی بھی چاہئے مگرروزانہ وارسینکڑوں کے حساب سے ہونے والی ان تمام مریضوں کی اموات کو اس بحث میں نہیں لایا جارہا جن کی رسائی ادویات تک ہے ہی نہیں،جو دور دراز شہروں ،قصبوں اور ان سرکاری اسپتالوں کے برآمدوں ،وارڈوں میں مر رہے ہیں جہاں ادویات(معیاری یا غیر معیاری) سال میں صرف ایک یا دو دفعہ فراہم کی جاتی ہیں باقی عرصے میں لوگوں کواللہ کے حوالے کردیا جاتا ہے۔اسپتالوں کے دروازوں پرخالی جیب لواحقین دوائی کی پرچی تھامے جس بے بسی کاشکار ہیں اس موضوع کو اس لئے نہیں چھیڑا جارہا ہے کیوں کہ اس بحث سے اس بوسیدہ نظام کے تمام تانے بانے عام آدمی کے سامنے آشکار ہوجائیں گے۔اس ضمن میں پاکستان کا حکمران طبقہ اور اسکے حلیف حصے جو مختلف ٹیلی وژن چینلز پر بیٹھے اس کی مدد کررہے ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ مسائل کی وجوہات کی بجائے صرف مسائل پر ہی بحث و تکرار کرکے لوگوں کو الجھاتے رہیں۔چینلز کی لڑائی تو لسی میں پانی ڈال کر روز بڑھا دی جاتی ہے مگر دوسری طرف عوام ہیں کے ان کو اس’’ آزاد میڈیا‘‘ کی وجہ سے کسی قسم کا ریلیف ملنے کی بجائے ان کی زندگی اور زیادہ مشکل ہوتی جارہی ہے۔پاکستان جہاں صحت اور تعلیم دونوں انتہائی اہم شعبوں میں مجموعی طور پر بجٹ سے 0.75فی صد حصہ رکھا جاتا ہے اس رقم کو اگر بالکل درست بھی خرچ کیا جائے تو صحت کے شعبے میں بیس کروڑ عوام کو روزانہ ایک ڈسپرین بھی مہیا کرنا ممکن نہیں ہے۔پنجاب حکومت میں اگر صحت کی وزارت میں کوئی وزیر ہوتا بھی تو وہ کیا کرسکتا تھا؟ تبادلے اور کک بیکس کے علاوہ کسی وزیر کے پاس کرنے کو ہے ہی کیا؟ جن صوبوں میں صحت کی وزارتوں میں باقاعدہ وزیر مسند اقتدار میں براجمان ہیں کیا ان صوبوں کے عوام کی صحت کے مسائل حل ہوچکے ہیں۔ہر روز سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں لوگ ان عمارتوں کے کمروں اوربرآمدوں میں اپنی جان کی بازی ہار جاتے ہیں جن کو اسپتال کہا جاتا ہے اس کی وجہ ناقص ادویات نہیں بلکہ ادویات اور درست علاج کی سہولیات کی عدم موجودگی ہے۔پاکستان میں صحت اور تعلیم کو حکومتی سطح پر جس قسم کی توجہ میسر ہے یہ شرمناک ہے۔ لاہور میں قائم ٹیچنگ ہسپتالوں میں بھی ہر روز درجنوں لوگ بغیر دوائی اور انتہائی بنیادی آلات کی عدم دستیابی کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں دیہی علاقوں میں قائم عمارات کو کسی طور پر اسپتال کہنا مناسب نہیں۔وہاں اگر ڈاکٹر تعینات ہیں تو وہ وہاں ہفتے میں چھ دن کی بجائے پراکسی ڈیوٹی کو ترجیح دیتے ہیں ان اسپتالوں کا جملہ انتظام نان ڈاکٹر سٹاف نے سنبھالا ہوتا ہے ۔ان اسپتالوں میں نہ تو جان بچانے والی ادویات ہوتی ہیں اور نہ ہی وہ ضروری سامان جو طب کے شعبے کے لئے درکار ہوتا ہے۔تحصیل اسپتال کی سطح تک بھی لیبارٹریز ناقص حالت میں موجود ہیں جن میں بیشتر ٹسٹ کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے اور جو ٹسٹ ان لیبارٹریز میں کئے جاتے ہیں ان کا معیار کسی طور پر تسلی بخش نہیں ہوتا۔ ،ایکسرے پے منٹ پر ہوتے ہیں۔الڑا ساؤنڈ مشینوں کا استعمال صرف گائناکالوجیکل شعبے تک محدود ہوتا ہے۔ تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال میں عام طور پر چند شعبے ہی فعال ہوتے ہیں۔ان اسپتالوں میں ٹراما سنٹرز یا تو موجود نہیں ہیں اگر ہیں تو وہاں پہنچنے والے مریض کی جان بچانے کی بجائے وقت ضائع کرنے کے بعد کسی بڑے شہر کے اسپتال کے لئے ریفر کردیا جاتا ہے۔اس سطح کے اسپتالوں میں دل ،گردے اور مثانے کے امراض ،ہڈی جوڑنے ،جلدی بیماریوں ،دمہ سمیت الرجی کی بیماریوں، یرقان کی مختلف قسموں سمیت معدے کے امراض،بچوں کے علیحدہ سے وارڈ،سانپ ،کتا ،جانوروں کے کاٹنے یا دیگر زہر خوانی کے حادثات،آگ سے جھلس جانے والے مریضوں سمیت بہت سے شعبوں کا سرے سے وجود ہی نہیں ہوتا۔سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹروں کے پرائیویٹ کلینکس مریضوں سے بھرے ہوتے ہیں یہ وہی مریض ہوتے ہیں جو سرکاری اسپتالوں کا چکر کاٹ کر یہاں پہنچتے ہیں ڈاکٹر وہی ہوتا ہے مگر اس کا رویہ ،لہجہ ،زبان اور کردار بدل چکا ہوتا ہے۔بھاری بھرکم اجرتیں وصول کرنے کے باوجود یہ ناقص ہیلتھ پالیسی کی بنا پریہ ڈاکٹرز محکمہ صحت کو جونکوں کی طرح چوس رہے ہیں۔بیشتر ڈاکٹروں بالخصوص سیئنرز کا محکمہ صحت سے تعلق مہینے بعد بھاری وظیفہ وصول کرنے تک محدود ہے۔ پاکستان میں سیاست دانوں سے زیادہ کمانے والی مخلوق’’ مسیحا‘‘ کہلاتی ہے۔<br />
پنجاب میں صوبائی وزیر صحت ہوتا تو کیا کرتا؟ کیا وہ ہلاکت آمیز ادویات کی ترسیل کوروک سکتا تھا؟ اس کی صلاحیت اور اختیارات کے ساتھ اس کی نیت کا مسئلہ نظر انداز کرنے والی بات نہیں ہے مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ ریاست پاکستان طب اور تعلیم کے شعبے کو نجی شعبے کے سپرد کرکے خود کو عمل ان شعبوں سے عملاََ لاتعلق کرچکی ہے ۔پاکستان کے کروڑوں لوگ نجی شعبے کے منافع خوروں کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں جو ان کو خونی گدھوں کی طرح نوچ رہے ہیں۔ فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی بھرمار اور خاص طور پر فاٹا کے علاقوں میں کسی قانون اور نگرانی سے ماورا ادویات ساز ادارے کیا کیا گل کھلا سکتے ہیں یہ بات ہی ہولناک تھی مگر ملک کے بڑے شہروں میں قائم دوا ساز ادارے جن کی ادویات سرکاری اسپتالوں میں لاکھوں مریضوں کو روزانہ دی جارہی ہیں ان کے معیار کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ایک ہی سالٹ پر مختلف ناموں سے ادویات بنانے والی کمپنیوں کے ہول سیل ریٹس میں آسمان اور زمین کا فرق ہے ۔ ایک دوائی ہول سیل ریٹ پر 85روپے کی ملتی ہے تو دوسری اسی قسم کی دوائی کے ہول سیل نرخ 6روپے ہیں مگر مریض کو دونوں ادویات 100روپے کی ملتی ہیں۔اب ان دو مختلف فارماسیوٹیکل اداروں سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ جب یہ دوائی 6روپے میں مہیا کی جاسکتی ہے تو وہ 85روپے میں کیوں بیچ رہے ہیں اگر ان ادویات کے خام مال اور کوالٹی میں فرق ہے تو مریضوں کو ہلکے میٹریل والی ادویات وہ بھی مہنگے میٹریل کے نرخوں سے کیوں بیچنے کی اجازت دی گئی ہے۔اس طرح ہول سیل نرخوں کے فرق والی ادویات کی تعداد ہزاروں میں ہے مگر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔<a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/02/Diffrence-of-Medicine-Retail-Price-between-Multinational-and-Pakistani-Companies.gif" target="_blank"><img class="aligncenter" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/02/Diffrence-of-Medicine-Retail-Price-between-Multinational-and-Pakistani-Companies.gif" alt="" width="582" height="432" /></a>یہاں پر گڈ گورنس اور بیڈ گورنس سب ہی حمام میں ننگے دکھائی دیتے ہیں۔مجھے نہیں لگتا کہ شرح منافع کے موجودہ نظام معیشت اور آزاد منڈی کے ہوتے ہوئے صارفین،مریضوں ،خریداروں اور عام لوگوں کے حقوق کا کسی بھی طور تحفظ کیا جاسکتا ہے۔قانون ساز اداروں میں مالکان اور سرمایہ دار بیٹھے ہوئے ہیں وہ کیسے اپنے بے پناہ مالیاتی مفادات کا راستہ روکنے والے قوانین کو بنانے اور ان عمل درآمد کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔اس کے لئے محنت کش طبقے کی تحریک کی ضرورت ہے جوزخموں پر مرحم رکھنے کے عوض رقم طلب کرنے والے اس نظام کو اکھاڑ کر ہر انسان کے مفادات کا یکساں تحفظ کرنے والے نظام کو رائج کرے۔</p>
<div id="fb-root"></div>
<p><script>(function(d, s, id) {
  var js, fjs = d.getElementsByTagName(s)[0];
  if (d.getElementById(id)) return;
  js = d.createElement(s); js.id = id;
  js.src = "//connect.facebook.net/en_US/all.js#xfbml=1";
  fjs.parentNode.insertBefore(js, fjs);
}(document, 'script', 'facebook-jssdk'));</script></p>
<div class="fb-like" data-send="true" data-width="450" data-show-faces="true"></div>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.struggle.com.pk/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d9%b9%db%8c-%d9%b9%db%8c%d9%88%d9%b9-%d8%a2%d9%81-%da%a9%d8%a7%d8%b1%da%88%db%8c%d8%a7%d9%84%d9%88%d8%ac%db%8c-%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>صادق آباد میں سیمینار</title>
		<link>http://www.struggle.com.pk/%d8%b5%d8%a7%d8%af%d9%82-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%db%8c%d9%85%db%8c%d9%86%d8%a7%d8%b1/</link>
		<comments>http://www.struggle.com.pk/%d8%b5%d8%a7%d8%af%d9%82-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%db%8c%d9%85%db%8c%d9%86%d8%a7%d8%b1/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 12:10:34 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Reports]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[Seminar]]></category>
		<category><![CDATA[Socialism]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.struggle.com.pk/?p=872</guid>
		<description><![CDATA[رپورٹ: قمرالز ماں خاں:- سرمایہ داری نظام کی وجہ سے دنیا کی پچھتر فی صد آبادی غربت کی لکیر سے نیجے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے ۔پاکستان کا حکمران طبقہ طفیلی ہے ان کے پاس پاکستان کے عوام کو بہتر زندگی دینے کا خواب تک بھی نہیں ہے ۔چونسٹھ سالوں سے چہرے بدلے مگر [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="fb-like" data-send="true" data-width="450" data-show-faces="true"></div>
<p class="Urdu">رپورٹ: قمرالز ماں خاں:-</p>
<p class="Urdu" style="text-align: center;"><a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/02/Sadiqabad_Seminar_Socialism_Capitalism.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/02/Sadiqabad_Seminar_Socialism_Capitalism.jpg" alt="" width="582" height="192" /></a>سرمایہ داری نظام کی وجہ سے دنیا کی پچھتر فی صد آبادی غربت کی لکیر سے نیجے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے ۔پاکستان کا حکمران طبقہ طفیلی ہے ان کے پاس پاکستان کے عوام کو بہتر زندگی دینے کا خواب تک بھی نہیں ہے ۔<span id="more-872"></span>چونسٹھ سالوں سے چہرے بدلے مگر نظام سامراجیت پر مبنی رہا ۔موجودہ نظام کے اندر اصلاحات ناممکن ہیں صرف سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے لوگوں کی قسمت بدلی جاسکتی ہے۔پاکستان میں سات کروڑ تیس لاکھ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی بسر کررہے ہیں۔چودہ کروڑ پاکستانیوں کا پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔ اسی فیصد بیماریاں غربت کی وجہ سے ہیں جبکہ اسی فیصد لوگ علاج معالجے کے لئے غیر سائنسی طریقہ کار اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔تیس فیصدسے زائد ادویات جعلی تیار ہورہی ہیں۔پچھلے دس سالوں میں گیارہ ہزار ارب روپے غریبوں سے امیروں کی جیبوں میں منتقل ہوئے۔پچھلے ساڑھے تین سالوں میں دوکروڑ ستر لاکھ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔پچھلے چار سالوں میں چار گورنر سٹیٹ بنک اور چار وزیر خزانہ بدلنے کی وجہ معیشت کا ناقابل اصلاح ہونا ہے۔موجودہ حکومت بدعنوان نظام کی وجہ سے کرپٹ اور ناکام ہے نظام بدلے بغیر حکومتیں کامیاب نہیں ہوسکتیں۔ان خیالات کا اظہار انٹرنیشنل مارکسٹ رجحان کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے مرکزی وائس چئیرمین قمرالزماں خاں،انفرمیشن سیکریٹری پارس جان،حیدر چغتائی،عباس تاج،حنیف میسرانی،جام عبدالصمد ایڈوکیٹ،شاہد آذر اور عبدالوکیل ایڈوکیٹ نے کیا۔مقررین نے کہا فوج جن تضادات اور کمزوریوں کا شکار ہے وہاں وہ براہ راست حکمرانی نہیں کرسکتی اسی لئے دیگر اداروں کے اشتراک سے حکومت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جارہی ہے۔بلوچستان میں مسخ شدہ لاشیں اور بلوچ نوجوانوں کی گم شدگی پر کچھ اداروں کی خاموشی انکی منافقت کو بے نقاب کررہی ہے۔سرمایہ دارانہ نظام کے رہتے ہوئے عام لوگوں کو انکے حقوق نہیں دیے جاسکتے بے شک جتنے صوبے بنا دیے جائیں کمزور معیشت پہلے صوبوں کے بوجھ سے لڑکھڑا رہی ہے اگلے کچھ سالوں تک موجودہ ریاستی مشینری کی تنخواہیں دینا مشکل ہوجائیں گی۔اگر تارکین وطن کی رقومات میں کمی آگئی جو ملک معاشی طور پر دیوالیہ ہوجائے گا۔نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں روزانہ ساڑھے چار ارب روپے خرچ کئے جارہے ہیں ،2010ء میں اس جنگ کی وجہ سے پاکستان کوسترہ ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔سامراج کی تابعداری میں رہتے ہوئے کوئی حکومت بھی آزاد خارجہ پالیسی کا تصور نہیں کرسکتی۔موجودہ سرمایہ دارانہ نظام ضعیف ہوچکا ہے اس کی موجودگی کی وجہ محنت کش طبقے کی تحریک کا عدم وجود ہونا ہے،تحریک چلی تو بنیاد پرستی اور قومی شاونزم کا وجود تک مٹ جائے گا۔محنت کش طبقے کی تحریک کے خوف سے اسٹیبلشمنٹ اپنے مختلف مہروں کو حرکت میں لاکر پارٹیاں بنانے، جلسے اور کانفرنسز کرانے میں مصروف ہے۔انہوں نے کہا کہ عرب انقلابات اور امریکہ سمیت یورپ میں سرمایہ داری کے خلاف تحریکوں نے رجعتی عناصر کی نیند حرام کردی ہے۔محنت کش طبقہ جب حرکت میں آیا تو وہ اپنی نسلوں کے استحصال کا بدلہ لے گا۔ایسے میں انقلابی پارٹی کی موجودگی سوشلسٹ انقلاب کو کامیابی سے ہمکنار کر سکتی ہے۔</p>
<p><script type="text/javascript">// <![CDATA[
 (function(d, s, id) {   var js, fjs = d.getElementsByTagName(s)[0];   if (d.getElementById(id)) return;   js = d.createElement(s); js.id = id;   js.src = "//connect.facebook.net/en_US/all.js#xfbml=1";   fjs.parentNode.insertBefore(js, fjs); }(document, 'script', 'facebook-jssdk'));
// ]]&gt;</script></p>
<div class="fb-like" data-send="true" data-width="450" data-show-faces="true"></div>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.struggle.com.pk/%d8%b5%d8%a7%d8%af%d9%82-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%db%8c%d9%85%db%8c%d9%86%d8%a7%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>پاکستان تناظر 2012</title>
		<link>http://www.struggle.com.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b8%d8%b1-2012/</link>
		<comments>http://www.struggle.com.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b8%d8%b1-2012/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 07 Feb 2012 13:16:03 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[ ]]></category>
		<category><![CDATA[Congress 2012]]></category>
		<category><![CDATA[IMT]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistan Perspective]]></category>
		<category><![CDATA[The Struggle]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.struggle.com.pk/?p=861</guid>
		<description><![CDATA[طبقاتی جدو جہد کی 31ویں کانگریس ، 10-11مارچ 2012 کو ہونے جا رہی ہے۔ہم اپنے قارئین کے لئے اس کانگریس کی دوسری مجوزہ دستا ویز پاکستان تناظر 2012شائع کر رہے ہیں۔PDFفائل پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔ //]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="fb-like" data-send="true" data-width="450" data-show-faces="true"></div>
<p class="Urdu" style="text-align: center;"><a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/02/Pakistan_Perspectives_2012.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/02/Pakistan_Perspectives_2012.jpg" alt="" width="620" height="471" /></a>طبقاتی جدو جہد کی 31ویں کانگریس ، 10-11مارچ 2012 کو ہونے جا رہی ہے۔ہم اپنے قارئین کے لئے اس کانگریس کی دوسری مجوزہ دستا ویز <span style="color: #ff0000;">پاکستان تناظر 2012</span>شائع کر رہے ہیں۔<span id="more-861"></span>PDFفائل پڑھنے کے لئے <a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/02/Pakistan-Perspectives.pdf" target="_blank">یہاں کلک کریں۔</a></p>
<p><script type="text/javascript">// <![CDATA[
  (function(d, s, id) {   var js, fjs = d.getElementsByTagName(s)[0];   if (d.getElementById(id)) return;   js = d.createElement(s); js.id = id;   js.src = "//connect.facebook.net/en_US/all.js#xfbml=1";   fjs.parentNode.insertBefore(js, fjs); }(document, 'script', 'facebook-jssdk'));
// ]]&gt;</script></p>
<div class="fb-like" data-send="true" data-width="450" data-show-faces="true"></div>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.struggle.com.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b8%d8%b1-2012/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>یخ بستہ روس میں انقلاب کی تپش</title>
		<link>http://www.struggle.com.pk/%db%8c%d8%ae-%d8%a8%d8%b3%d8%aa%db%81-%d8%b1%d9%88%d8%b3-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%86%d9%82%d9%84%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%be%d8%b4/</link>
		<comments>http://www.struggle.com.pk/%db%8c%d8%ae-%d8%a8%d8%b3%d8%aa%db%81-%d8%b1%d9%88%d8%b3-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%86%d9%82%d9%84%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%be%d8%b4/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 05 Feb 2012 11:02:23 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[World]]></category>
		<category><![CDATA[ ]]></category>
		<category><![CDATA[Bolshevism]]></category>
		<category><![CDATA[February 4]]></category>
		<category><![CDATA[Protests]]></category>
		<category><![CDATA[Russia]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.struggle.com.pk/?p=849</guid>
		<description><![CDATA[تحریر: عمران کامیانہ:- ماسکو میں کل (۴ فروری) کو لاکھوں لوگ ایک بار پھر سخت سرد موسم کے باوجود سڑکوں پر نکل آئے اور صدر پیوٹن کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے شفاف الیکشن کروانے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین’’پیوٹن سے پاک روس‘‘کے بینرزاٹھائے ہوئے تھے ۔وہ ولادیمیر پیوٹن اور مرکزی ایکشن کمیشن کے سربراہ کے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="fb-like" data-send="true" data-width="450" data-show-faces="true"></div>
<p class="Urdu">تحریر: عمران کامیانہ:-</p>
<p class="Urdu"><a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/02/Russia_Protest_February_4-18.jpg" target="_blank"><img class="alignright" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/02/Russia_Protest_February_4-18.jpg" alt="" width="256" height="184" /></a>ماسکو میں کل (۴ فروری) کو لاکھوں لوگ ایک بار پھر سخت سرد موسم کے باوجود سڑکوں پر نکل آئے اور صدر پیوٹن کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے شفاف الیکشن کروانے کا مطالبہ کیا۔ <span id="more-849"></span>مظاہرین’’پیوٹن سے پاک روس‘‘کے بینرزاٹھائے ہوئے تھے ۔وہ ولادیمیر پیوٹن اور مرکزی ایکشن کمیشن کے سربراہ کے فوری استعفے اور سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔<br />
یاد رہے کہ ۴ دسمبر کو ہونے والے الیکشن میں صدر پیوٹن کی پارٹی نے مبیّنہ طور پر بڑے پیمانے پر دھاندلی کی تھی جس کے بعد عوام میں حکومت کے خلاف غم و غصّہ ایک آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑا اور<a href="http://www.struggle.com.pk/%d8%b1%d9%88%d8%b3-%d8%a8%d8%a7%d9%84%d8%b4%d9%88%db%8c%da%a9-%d9%85%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%ab-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%b9%da%be%d8%a7%d9%86/" target="_blank"> بڑے مظاہرے</a> دیکھنے میں آئے۔ کل کے مظاہروں میں منفی18ڈگری درجہ حرارت کے باوجود 120000سے زیادہ افراد نے شرکت کی ہے جس کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ کریملن کے در و دیوار پر ایک لرزہ طاری ہے۔مظاہرین کو قابو میں رکھنے کے لئے 10000سے زائد پولیس اہلکار بھی موجود تھے تاہم تشدد کا کو ئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق مظاہرین میں بڑی تعداد میں کمیونسٹ پارٹی کے حامی موجود تھے جنہوں نے سوویت یونین کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔ اس کے علاوہ قوم پرست اور لبرل عناصر کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شریک تھے۔<br />
1991میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد روس میں طبقاتی خلیج بہت زیادہ بڑھی ہے۔ سرمایہ داری کی بحالی کے بعد غربت ، بیروز گاری اور جرائم میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے اور اب سرمایہ دارانہ جمہوریت کا خواب بھی چکنا چور ہو چکا ہے۔ان تمام حالات کی وجہ سے خاص طور پر نوجوانوں میں بہت زیادہ بے چینی پائی جاتی ہے اور وہ ایک بار پھر اپنے مسائل کا حل سوشلزم میں تلاش کر رہے ہیں۔حالیہ انتخابات میں کمیونسٹ پارٹی کے ووٹوں کا دوگنا ہونا کوئی حادثہ نہیں ہے بلکہ لوگوں میں یہ سوچ تقویت پکڑتی جا رہی ہے کہ سٹالنزم کے تمام تر سیاسی اور سماجی مسائل کے باوجود سوویت روس میں زندگی کئی گنا سہل تھی۔<br />
مظاہرین میں شامل ایک نوجوان انجینئر نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ اس طرح کیا کہ ’’پیوٹن کی سربراہی میں تمام تر چور اقتدار میں آ چکے ہیں، حکمران لوگوں سے بات تک کرنا گوارہ نہیں کرتے۔ ہمیں اقتدار میں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو ہمارے مسائل پر بات کریں۔‘‘<br />
اطلاعات کے مطابق اگلا بڑا مظاہرہ 5مارچ کو ہوگا ۔جبکہ دوسری طرف سیاسی حلقوں کی تمام تر توجہ 4 مارچ کو ہونے والے صدارتی الیکشن پر مرکوز ہے جس میں پیوٹن کے ساتھ ساتھ تین دوسرے امیدوار حصّہ لیں گے۔صدر پیوٹن نے اعتراف کیا ہے کہ وہ انتخابات کے پہلے مرحلے میں شائد 50%ووٹ حاصل نہ کر سکیں جس سے ان کی ’’اتھارٹی‘‘ کو سخت دھچکا لگے گا۔</p>
<div style="text-align: center;"><object width="400" height="267" classid="clsid:d27cdb6e-ae6d-11cf-96b8-444553540000" codebase="http://download.macromedia.com/pub/shockwave/cabs/flash/swflash.cab#version=6,0,40,0"><param name="src" value="https://picasaweb.google.com/s/c/bin/slideshow.swf" /><param name="flashvars" value="host=picasaweb.google.com&amp;hl=en_GB&amp;feat=flashalbum&amp;RGB=0x000000&amp;feed=https%3A%2F%2Fpicasaweb.google.com%2Fdata%2Ffeed%2Fapi%2Fuser%2F116459874014772347895%2Falbumid%2F5705600866877040113%3Falt%3Drss%26kind%3Dphoto%26hl%3Den_GB" /><param name="pluginspage" value="http://www.macromedia.com/go/getflashplayer" /><embed width="400" height="267" type="application/x-shockwave-flash" src="https://picasaweb.google.com/s/c/bin/slideshow.swf" flashvars="host=picasaweb.google.com&amp;hl=en_GB&amp;feat=flashalbum&amp;RGB=0x000000&amp;feed=https%3A%2F%2Fpicasaweb.google.com%2Fdata%2Ffeed%2Fapi%2Fuser%2F116459874014772347895%2Falbumid%2F5705600866877040113%3Falt%3Drss%26kind%3Dphoto%26hl%3Den_GB" pluginspage="http://www.macromedia.com/go/getflashplayer" /></object></div>
<p><script type="text/javascript">// <![CDATA[
      (function(d, s, id) {   var js, fjs = d.getElementsByTagName(s)[0];   if (d.getElementById(id)) return;   js = d.createElement(s); js.id = id;   js.src = "//connect.facebook.net/en_US/all.js#xfbml=1";   fjs.parentNode.insertBefore(js, fjs); }(document, 'script', 'facebook-jssdk'));
// ]]&gt;</script></p>
<div class="Urdu" data-send="true" data-width="450" data-show-faces="true">
<p>متعلقہ:</p>
<p><a title="Permanent Link to کیا سوویت یونین کے انہدام سے سوشلزم کی ناکامی ثابت نہیں ہوتی ہے؟" href="http://www.struggle.com.pk/%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%b3%d9%88%d9%88%db%8c%d8%aa-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%86%db%81%d8%af%d8%a7%d9%85-%d8%b3%db%92-%d8%b3%d9%88%d8%b4%d9%84%d8%b2%d9%85-%da%a9%db%8c/" rel="bookmark" target="_blank">کیا سوویت یونین کے انہدام سے سوشلزم کی ناکامی ثابت نہیں ہوتی ہے؟</a><br />
<a title="Permanent Link to روس: بالشویک میراث کی نئی اٹھان" href="http://www.struggle.com.pk/%d8%b1%d9%88%d8%b3-%d8%a8%d8%a7%d9%84%d8%b4%d9%88%db%8c%da%a9-%d9%85%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%ab-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%b9%da%be%d8%a7%d9%86/" rel="bookmark" target="_blank">روس: بالشویک میراث کی نئی اٹھان</a></p>
</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="fb-like" data-send="true" data-width="450" data-show-faces="true"></div>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.struggle.com.pk/%db%8c%d8%ae-%d8%a8%d8%b3%d8%aa%db%81-%d8%b1%d9%88%d8%b3-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%86%d9%82%d9%84%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%be%d8%b4/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

