<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>The Struggle &#124; طبقاتی جدوجہد</title>
	<atom:link href="http://www.struggle.com.pk/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.struggle.com.pk</link>
	<description>Voice of Socialism in Pakistan Peoples Party &#38; Labor Movement</description>
	<lastBuildDate>Mon, 20 May 2013 09:27:08 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.2.1</generator>
		<item>
		<title>پاکستان: لڑکھڑاتی معیشت، سسکتی انسانیت</title>
		<link>http://www.struggle.com.pk/pakistan-crying-humanity-collapsing-economy/</link>
		<comments>http://www.struggle.com.pk/pakistan-crying-humanity-collapsing-economy/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 20 May 2013 09:26:01 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[ ]]></category>
		<category><![CDATA[Austerity Cuts]]></category>
		<category><![CDATA[Economic Crisis]]></category>
		<category><![CDATA[Elections 2013]]></category>
		<category><![CDATA[IMF]]></category>
		<category><![CDATA[Load Shedding]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistan Peoples Party]]></category>
		<category><![CDATA[Poverty]]></category>
		<category><![CDATA[Privatization]]></category>
		<category><![CDATA[Revolution]]></category>
		<category><![CDATA[Socialism]]></category>
		<category><![CDATA[Unemployment]]></category>
		<category><![CDATA[Zulfiqar Ali Bhutto]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.struggle.com.pk/?p=6272</guid>
		<description><![CDATA[[تحریر: جاوید ملک] گیارہ مئی کو پاکستان کی تاریخ میں ہونے والے دسویں انتخابات بلاشبہ پاکستان کے تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات تھے۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے قومی وصوبائی اسمبلی کے امیدواروں کے لیے الیکشن کے اخراجات کی مد میں مخصوص رقوم مختص کی گئی تھیں مگر ہر امیدوار نے مختلف ذرائع سے الیکشن [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fpakistan-crying-humanity-collapsing-economy%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:100px;margin-top:5px;"></iframe><p class="Urdu">[تحریر: جاوید ملک]<br />
گیارہ مئی کو پاکستان کی تاریخ میں ہونے والے دسویں انتخابات بلاشبہ پاکستان کے تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات تھے۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے قومی وصوبائی اسمبلی کے امیدواروں کے لیے الیکشن کے اخراجات کی مد میں مخصوص رقوم مختص کی گئی تھیں مگر ہر امیدوار نے مختلف ذرائع سے الیکشن کمیشن کی طرف سے طے کی جانے والی رقم سے کئی گنا بڑھ کر زیادہ خرچ کیا اور پیسے کے ذریعے لڑے جانے والے ان انتخابات میں ایک رپورٹ کے مطابق 131 ارب روپے خرچ کیے گئے، عین ممکن ہے انتخابی مہم میں لٹایا جانے والا پیسہ اس سے کہیں زیادہ ہو، تاہم مختلف نان ایشوز پر بے تکان بحثوں میں مصروف میڈیا کے دانشور وں نے دانستہ اس امر سے چشم پوشی کی۔ ان انتخابات کے نتیجہ میں مسلم لیگ ن قومی اسمبلی کے علاوہ پنجاب اور بلوچستان کے اندر اپنی حکومتیں بنانے کی پوزیشن میں آچکی ہے۔ عمومی طور پر سماج کی وہ پرتیں جنہیں ذرائع ابلاغ اور ہمارے لیڈر انتخابات کے ذریعے تبدیلی کی یقین دہانیاں کرا چکے ہوتے ہیں وہ خود کواس امید کی ڈور کے ساتھ باندھ لیتے ہیں کہ نئی آنے والی حکومت پہلے سے جاری جبر اذیت بیروزگاری مہنگائی اور دوسرے مسائل پر ناصرف قابو پائے گی بلکہ ان کی زندگیوں میں کسی حد تک آسانیاں پیدا کر دے گی۔ مگر ایک ایسا نظام جس کی بنیادیں منہدم ہوتی جارہی ہوں اور جس کے اندر کوئی بھی اعشاریہ مثبت ترقی کی طرف نہ بڑھ <a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/Pakistan-election-manifesto-cartoon.jpg" target="_blank"><img class="alignleft" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/Pakistan-election-manifesto-cartoon.jpg" alt="" width="339" height="254" /></a>رہا ہو بھلا کس طرح کسی ملک اور اس ملک میں بسنے والے عوام کے لیے بہتری کی کوئی سبیل پید اکر سکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ انتخابات سے پہلے ہی پاکستان کی تمام بڑی چھوٹی پارٹیوں میں سے کسی ایک پارٹی نے بھی ایسا منشور یا پروگرام نہیں دیا جس میں توانائی کے بحران، مہنگائی، بیروزگاری، لاعلاجی جسے سلگتے مسائل کے حل کے لئے کوئی ٹھوس پروگرام پیش کیا گیا ہو۔ مفت تعلیم، علاج، رہائش اور دیگر بنیادی سہولتیں دینے کا کوئی باقائدہ پروگرام دینا تو دور کی بات ایسا کوئی وعدہ بھی نہیں کیا گیا۔<br />
گزشتہ پانچ سال تک پاکستان کے اندر محنت کش طبقے کی روائتی پارٹی یعنی پاکستان پیپلزپارٹی نے پاکستان کے پسے ہوئے طبقات کی معاشی سماجی بربادی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔ محنت کش ہی پیپلز پارٹی کی حقیقی طاقت رہے ہیں اور ہمیشہ تبدیلی کے خواب کی تعبیر کے لیے اسے اقتدار میں لیکر آتے رہے ہیں، لیکن پیپلز پارٹی قیادت نے انہیں ہمیشہ مایوس کیا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کے گیارہ کروڑ سے زائد عوام کو دووقت کی روٹی میسر نہیں ہے جولائی 2008ء سے لیکر دسمبر 2012ء تک ملک کے مجموعی قرضوں میں تیز رفتاراضافہ ہوا ہے۔ اب یہ قرضے 15000 ارب روپے کی حد کو چھور ہے ہیں۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ افراط زر میں گزشتہ چھ سال کے دوران کوئی کمی نہیں لائی جاسکی اور یہ ہندسہ ان سالوں میں دس فیصد سے زیادہ ہی رہا ہے۔ دوسری طرف حکمران طبقات نے عالمی مالیاتی اداروں کی تابعداری کرتے ہوئے جہاں پر جو استحصالی پالیسیاں روارکھیں اس کے نتیجے میں گزشتہ بارہ برسوں میں تقریباً 12000 ارب روپے غریب اور سفید پوش طبقے سے سرمایہ دار اور کالا دھن رکھنے والی اقلیت کی طرف منتقل ہوگئے۔ اس خطیر رقم کا اکثر حصہ بیرونی ممالک کے بینکوں میں منتقل کیا جاچکا ہے۔ اس عرصے میں توانائی کے بحران او ر عوامی مفادات کی پالیسیوں کو نظر انداز کرنے کیوجہ سے تیل کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں اور درآمدات مسلسل بڑھتی رہیں۔ ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کے مطابق آئندہ بجٹ میں بجٹ خسارہ 2100 ارب روپے کے تاریخی حجم تک پہنچ سکتا ہے۔<br />
<a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/Pakistan-inflation-cartoon.jpg" target="_blank"><img class="alignleft" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/Pakistan-inflation-cartoon.jpg" alt="" width="333" height="249" /></a>موجودہ گلے سڑے سرمایہ دارانہ نظام کے اندر یورپ امریکہ اور دوسرے سرمایہ دار ممالک گزشتہ چار سال سے مالی بحران سے باہر آنے کی بجائے اس کی دلدل میں مسلسل دھنستے چلے جارہے ہیں، اس تناظر میں بھلا یہ کیسے کہا اور کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان جیسی کمزور اور غیر ملکی قرضوں کے سہارے چلنے والی معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکے؟ یہ ایک دیوانے کے خواب سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی آج اس پیپلزپارٹی کی ضد بن چکی ہے جس کی بنیادی 30 نومبر1967ء کو ذوالفقار علی بھٹو اور اس کے دیگر اٹھائیس ساتھیوں نے لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر میں رکھی تھی۔ سوشلسٹ بنیادوں پر بننے والی اس پارٹی کو راتوں رات ایوب آمریت کو اکھاڑ پھینکنے والی محنت کشوں کی تاریخی تحریک نے ملک کی سب سے بڑی پارٹی بنا دیا تھا۔ مگر اس وقت پارٹی کے اندر ایک انقلابی کیڈر کے فقدان نے پاکستان کے عوام کو اس ملک کا اصل حکمران بنانے کی بجائے اس روایت کا حصہ بنا دیا جسے لوگ پاکستان پیپلزپارٹی کے نام سے جانتے ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی آج ان نظریاتی بنیادوں سے ہٹ چکی ہے اور مکمل طور پر عالمی سامراج کی نمائندہ بن چکی ہے۔ یہ عمل کو ئی ایک رات میں نہیں ہو ابلکہ جب 10 اپریل 1986ء کو بینظیر بھٹو لاہور ایئر پورٹ پر اتریں اور وہاں پر لاکھوں افراد نے ان کا تاریخی استقبال کیا۔ اس موقع پر انہوں نے واضح کر دیا تھا کہ وہ ’’بدلے کی سیاست‘‘ نہیں کریں گی۔ جبکہ دوسری طرف پاکستان میں اجارہ دار طبقہ اور امریکی سامراج پیپلزپارٹی سے کم اور اس کے اندر موجود محنت کشوں کی روایت سے ہمیشہ خوفزدہ رہا اور انہوں نے پیپلزپارٹی کو ضرورت پڑنے پر شریک اقتدار تو کیا مگر مکمل اقتدار کبھی نہیں دیا۔ پیپلزپارٹی کی لیڈر شپ، جو بھٹو کی بنائی ہوئی پیپلزپارٹی کے نظریات کو خیر باد کہہ چکی تھے، نے دھڑا دھڑ پارٹی کے اندر ضیاء الحق کے قریبی ساتھیوں، سرمایہ داروں اور کالا دھن رکھنے والوں کو خوش آمدید کہنا شروع کر دیا۔ اس طرح 1988ء، 1993ء اور پھر 2008ء میں جو پیپلزپارٹی ہمیں دیکھنے کو ملتی رہی اس کی نظریاتی شکل مسخ سے مسخ تر ہوتی چلی گئی اور آج صورتحال یہ ہے کہ پوری پارٹی کے اندر سوشلسٹ بنیادوں پر پارٹی ڈھانچہ بنانے اور پھر محنت کشوں کو اقتدار میں لانے کا پروگرا م پر کام کرنا تو دور کی بات ایسا سوچنے والوں کو بھی پارٹی سے نکال باہر کیا جاتا ہے۔ پیپلزپارٹی کے بنیادی نعرے ’’سوشل ازم ہماری معیشت‘‘ کو پارٹی منشور سے خارج کر دیا گیا ہے اور آج یہی وجہ ہے کہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی سندھ تک سمٹ کر رہ چکی ہے۔<br />
ایشین مارکسسٹ ریویو کے مطابق 1970ء میں پاکستان پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے منتخب ہونے والے ہر امیدوار کا الیکشن پر ہونے والا خرچہ اوسطاً 32 روپے فی کس تھا جبکہ 2013ء کے انتخابات میں نظریاتی طور پر تباہ حال پارٹی کو ملک کے سب سے زیادہ کالا دھن رکھنے والوں کو ٹھیکے پر دے دیا گیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ منو بھائی نے گزشتہ دنوں ایک جیالے کی کتھا یوں لکھی کہ ’’جب اس نے ووٹ ڈالنے کے لیے بیلٹ پیپر حاصل کیا تو اس نے سب سے پہلے تیر کے نشان کو آنکھوں سے لگایا، پھر چوما اور پھر بلے پر مہر لگا دی۔‘‘ یہ پیپلزپارٹی کے کسی ایک حامی کی کیفیت نہیں ہے بلکہ ہر اس محنت کش کو درپیش صدمے اور مشکلات کی عکاسی ہے جس کی تین نسلوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ دوسری طرف پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت نے اس ملک کے اندر شعوری طور پر جو نظریاتی بحران پیدا کیا، اسے غریب دشمن طبقات نے خوب استعمال کیا۔ اس کا اندازہ الیکشن سے قبل اور الیکشن سے بعد ٹیلی ویژن کی سکرینوں پر بیٹھے کف اڑاتے اور سطحی دلائل کی بھرمار کرتے ہوئے ان دانشوروں کو بھی دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے اور اخبارات کے کالم سیاہ کرنے والے بڑے صحافیوں کی تحریریں بھی روز یہی تاثر دے رہی ہیں کہ اب آئندہ معرکہ پاکستان کے محنت کشوں یا امریکی سامراج کے گماشتگوں کے درمیان نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ہی ہوگا۔ امریکی میڈیا کی طرح یورپی میڈیا بھی اس تاثر کو بھرپور طریقے سے پھیلا رہا ہے تاکہ محنت کشوں کے اندر پنپنے والے غم وغصے سے اس نظام کو بچایا جاسکے اور یہاں پر آنے والے دنوں میں دائیں بازو کی حکومتوں کے ذریعے جبر کی کیفیت کو برقرار رکھ کر تیزی سے پرائیوٹائزیشن کی جائے۔ بجلی اور دوسری چند ایک اشیاء پر محنت کشوں کو جو مراعات تاحال میسر ہیں ان کا خاتمہ کیا جاسکے اور اس طرح محنت کشوں کے جسموں سے خون کے <a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/imf-dakoos-vs-pakistan.jpg" target="_blank"><img class="alignleft" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/imf-dakoos-vs-pakistan.jpg" alt="" width="339" height="240" /></a>آخری قطرے بھی نچوڑ لیے جائیں۔ سرمایہ داری کے ایک سنجیدہ تجزیہ نگار اپنے تازہ ترین مضمون میں لکھتے ہیں کہ آنے والی حکومت کو پانچ ارب ڈالر کے قرض کے لیے فوری طور پر آئی ایم ایف سے رجوع کر لینا چاہیے اور ملک کے اندر قومی اداروں کی نجکاری کو معاشی ایجنڈے کا بنیادی حصہ بنایا جائے، پہلے ان اداروں کو بیل آؤٹ پیکج دیکر ان میں سے ملازمین کو نکالا جائے اور جب یہ ادارے اپنے پیروں پر کھڑے ہوجائیں تو انہیں فوری فروخت کر دیا جائے۔ اسی طرح توانائی اور ووسرے شعبوں میں دی جانے والی سبسڈی کا فوری طور پر خاتمہ کرنا لازم ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب پوری دنیا میں ٹریکل ڈاؤن معیشت کی یہ پالیسی ناکام ہوچکی ہے اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک کے ساتھ ساتھ دنیا کے دیگر خطوں میں پھر سے بڑے اداروں کو قومی ملکیت میں لینے کے شاندار نتائج نکل رہے ہیں تو پھر پاکستان میں یہ نسخہ کیمیا آزمانا کیوں لازم ہے؟ اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ یہ نسخہ عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں کی واپسی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ان کے منافعوں میں بڑھوتری کاباعث بھی ہے اور یہی نسخہ کیمیا تاریخ کے دھارے میں تاخیر سے داخل ہونے والے یہاں کے حکمرانوں کی لوٹ مار کو بھی تحفظ فراہم کرتا ہے جنہوں نے سیاست کو تجارت بنادیا ہے اور یہ ساری تجارت ریاست کو دن بدن مسمار کرتی چلی جارہی ہے۔<br />
مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی لیڈر شپ کی غداریوں کی وجہ سے محنت کش طبقے کے اندر پائی جانے والی عمومی بے حسی یا جمود کی یہ کیفیت کیا مسلسل رہے گی؟ اس کا واضح جوا ب یہ ہے کہ ایسا تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ حالات بدلتے ہیں اور حالات و واقعات انسانوں کو تبدیل کرکے رکھ دیتے ہیں۔ انسانوں کی تبدیل ہوتی ہوئی سوچیں انہیں اپنی اور اپنی نسلوں کی بقاء کے لیے تحریکوں میں آنے پر مجبور کر دیتی ہیں، جیسا ہم اس وقت یورپ <a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/Poverty-Line-in-Pakistan-2012.jpg" target="_blank"><img class="alignleft" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/Poverty-Line-in-Pakistan-2012.jpg" alt="" width="337" height="229" /></a>سمیت دنیا کے بہت سارے خطوں میں دیکھ رہے ہیں۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ جب آنے والے دنوں میں لوڈشیڈنگ، معاشی بدحالی، لاقانونیت، اور بیروزگاری سے تباہ حال محروم لوگوں پر کٹوتیوں کے ساتھ ساتھ مزید مہنگائی کے بم گرائے جائیں گے، جب صحت اور تعلیم پہلے سے زیادہ مہنگی ہوگی، جب امیر اور غریب کی خلیج اور تیزی سے وسیع ہو گی تو پھر ان کے پاس تحریکوں میں اترنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ ایسے میں پاکستان پیپلزپارٹی کا کردار کیا ہوگا؟ پیپلزپارٹی اس وقت موقع پرست قیادت، سامراج اور ریاستی اشرافیہ کے خونی پنجوں میں جکڑی ہوئی ہے۔ پیپلزپارٹی کی قیادت سے کسی اچھائی کی توقع رکھناخام خیالی ہوگی۔ ہاں اس امر کے زیادہ امکانات ہیں کہ آنے والا وقت پیپلزپارٹی کے اندر ایک واضح طبقاتی لکیر کھینچ دے گااور پیپلزپارٹی کو دہائیوں تک اپنا نجات دہندہ سمجھنے والا محنت کش طبقہ اس کی موقع پرست اور غدار قیادت کو پارٹی سے نکال باہر کرے گا۔ پاکستان کے محنت کش اور نوجوان انقلابی تحریک کا حصہ بن کر پاکستان سے اس نظام کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اکھاڑ پھینکیں گے جس کے زیر اثر گندم ایکسپورٹ کرنے والے ملک کے بارہ کروڑ افراد کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہے۔</p>
<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fpakistan-crying-humanity-collapsing-economy%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:100px;margin-top:5px;"></iframe>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.struggle.com.pk/pakistan-crying-humanity-collapsing-economy/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>بلوچستان کی بیگانگی</title>
		<link>http://www.struggle.com.pk/balochistan-alienation/</link>
		<comments>http://www.struggle.com.pk/balochistan-alienation/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 17 May 2013 15:32:26 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[ ]]></category>
		<category><![CDATA[Balochistan]]></category>
		<category><![CDATA[Freedom]]></category>
		<category><![CDATA[Liberation]]></category>
		<category><![CDATA[National Question]]></category>
		<category><![CDATA[Socialism]]></category>
		<category><![CDATA[Socialist Federation of Sub Continent]]></category>
		<category><![CDATA[State Oppression]]></category>
		<category><![CDATA[State Terrorism]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.struggle.com.pk/?p=6254</guid>
		<description><![CDATA[[تحریر: لال خان] گزشتہ ہفتے منعقد ہونے والے ’صاف اور شفاف‘ عام انتخابات میں کچھ پولنگ سٹیشنوں پر سو فیصد سے زیادہ اور کچھ جگہوں پر دو سو فیصد ٹرن آؤٹ دیکھنے میں آیا۔ بلوچستان میں خاص طور پر صورتحال اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز رہی۔ڈیلی ٹائمز میں چھپی ایک رپورٹ کے مطابق ’’اگرچہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fbalochistan-alienation%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:100px;margin-top:5px;"></iframe><p class="Urdu">[تحریر: لال خان]<br />
<a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/elections-in-baluchistan-cartoon1.jpg" target="_blank"><img class="alignleft" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/elections-in-baluchistan-cartoon1.jpg" alt="" width="341" height="244" /></a>گزشتہ ہفتے منعقد ہونے والے ’صاف اور شفاف‘ عام انتخابات میں کچھ پولنگ سٹیشنوں پر سو فیصد سے زیادہ اور کچھ جگہوں پر دو سو فیصد ٹرن آؤٹ دیکھنے میں آیا۔ بلوچستان میں خاص طور پر صورتحال اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز رہی۔ڈیلی ٹائمز میں چھپی ایک رپورٹ کے مطابق ’’اگرچہ الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹ ڈالنے کی شرح 50 فیصد سے زیادہ تھی، تاہم مقامی بلوچ سیاسی کارکنان کے مطابق یہ شرح محض 3 فیصد رہی۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ عسکریت پسندوں کی جانب سے دھمکیوں اور بلوچستان نیشنل فرنٹ، بلوچ ری پبلیکن پارٹی جیسی قوم پرست جماعتوں کی جانب سے بلوچ اکثریتی علاقوں میں پہیہ جام ہڑتالوں کی وجہ سے انتخابات سے قبل جلسے جلوس ممکن نہیں ہو سکے اور الیکشن کے روز صوبے بھر میں ووٹ ڈالنے والوں کی شرح بہت ہی کم رہی۔‘‘<br />
1948ء میں بلوچستان کے زیادہ تر حصے کو دھوکہ دہی اور فوجی جارحیت کے ذریعے پاکستان میں شامل کیا گیا اور تب سے یہ صوبہ میدان جنگ بنا ہوا ہے جہاں مسلسل خلفشار اور مسلح لڑائیاں معمول بن چکی ہیں۔1970ء کی دہائی تک قومی آزادی کی ان جنگوں میں بائیں بازو کے رجحانات اور سوشلسٹ نظریات حاوی تھے۔ امریکی سامراج اور ایرانی بادشاہت کی حمایت سے فوجی جارحیت کے ذریعے اس جدوجہد کو بے دردی سے کچلا گیا۔حالیہ عرصے میں بلوچستان میں ریاستی جبر میں اضافہ ہوا ہے۔دوسری طرف سوویت یونین کے انہدام کے بعد سے قومی آزادی کی تحریکیں دنیا بھر میں نظریاتی تذبذب کا شکار ہیں، بلوچستان میں بھی صورتحال مختلف نہیں ہے۔</p>
<div class="mceTemp">
<dl id="" class="wp-caption alignleft" style="width: 345px;">
<dt class="wp-caption-dt"><a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/baloch-activists-wall-chalking-against-elections.jpg" target="_blank"><img src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/baloch-activists-wall-chalking-against-elections.jpg" alt="" width="335" height="224" /></a></dt>
<dd><span style="font-size: large;">بلوچ حریت پسند الیکشنوں کے خلاف وال چاکنگ کرتے ہوئے</span></dd>
</dl>
</div>
<p class="Urdu">حالیہ انتخابات کے نتائج بد انتظامی کا شکار ہو گئے ہیں جس کی وجہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور سامراجی آقاؤں کے مابین در پردہ تنازعات ہیں۔ایک دائیں بازو کی جماعت کا اقتدار پر مکمل قبضہ پاکستانی ریاست اور سامراجی آقاؤں کے لئے خطرنات صورتحال کو جنم دے سکتا ہے کیونکہ اس صورت میں سامراجی اداروں کے تباہ کن احکامات، پچھلے پانچ سالوں کی نسبت، زیادہ بے دردی سے سماج پر مسلط کرنے کی کوشش کی جائے گی جس سے سطح کے نیچے پنپتا ہوا عوامی غم و غصہ اشتعال انگیز سطح تک پہنچ سکتا ہے۔اسی طرح ریاست اور سیاسی اشرافیہ کے مابین اندرونی تضادات بھی پھٹ سکتے ہیں، اس صورت میں بھی سماج میں عدم استحکام اور انتشار بڑھے گا اور یہ سامراجیوں اور حکمران طبقے کے مفادات کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ایسا دکھائی دے رہا کہ مسلم لیگ (ن) بلوچستان کی صوبائی حکومت میں پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے ساتھ شریک اقتدار ہو گی۔پختون اور پنجابی سیاسی جماعتوں کے بلوچستان میں برسر اقتدار آنے سے قومی سوال حل ہونے کی بجائے مزید پیچیدہ ہوگا۔ریاست کے کچھ مخصوص حصے ہمیشہ سے بلوچستان میں بلوچ پشتون تنازعے کو ہوا دے رہے ہیں لیکن فی الحال اس عمل کو بہت آگے تک نہیں لے جایا گیا، لیکن موجودہ صورتحال میں یہ جعلی تنازعہ بے قابو ہو کر بلوچستان کے عوام کو برباد کردینے والی خونریز لڑائی میں ایک نئی جہت کا اضافہ کر سکتا ہے۔اپنے پیش رو کی طرح نواز شریف بھی’آغازِ حقوقِ بلوچستان‘ جیسا گھِسا پِٹاڈھونگ رچائے گا۔یہ ریاست کے مختلف اداروں کی جانب سے روا رکھے گئے ننگے قومی جبر اور ریاستی استبداد پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش ہو گی۔<br />
<a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/Balochistan-declaration.jpg" target="_blank"><img class="alignleft" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/Balochistan-declaration.jpg" alt="" width="334" height="210" /></a>پہلے ہی بلوچستان کے عوام، دو درپردہ (پراکسی) جنگوں کے ہاتھوں تاراج ہو رہے ہیں۔ماضی میں قومی و سماجی آزادی کے حصول کے لیے بلوچ نوجوانوں اور مجبور عوام کی یہ لڑائی جابر ریاستی قوتوں کے خلاف تھی لیکن موجودہ عہد میں کئی دوسرے عناصر کی شمولیت نے صورتحال کو بہت پیچیدہ بنا دیا ہے۔سامراجی قوتوں کے چیلے مختلف نظریاتی لبادے اوڑھ کر (مثلاً لشکرِ جھنگوی وغیرہ) ریاست سے بھی کہیں زیادہ جبر اور بربریت کر رہے ہیں۔ہزارہ برادری کا درندہ صفت قتلِ عام اسی پاگل پن کی پیداوار ہے۔ان جنونی دہشت گرد گروہوں کو نہ صرف پاکستانی ریاست کے کچھ حصوں کی حمایت حاصل ہے بلکہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کی رجعتی بادشاہتیں بڑے پیمانے پر ان سنی فرقہ وارانہ تنظیموں کی معالی معاونت کرتی ہیں۔ شیعہ جنونی تنظیموں کی معاونت ایرانی ملا ریاست کرتی ہے۔<br />
2008ء کے عالمی مالیاتی انہدام کے بعد سے سرمایہ دارانہ نظام کے بڑھتے ہوئے بحران کے باعث کارپوریٹ کمپنیاں گِدھوں کی طرح وسائل کی لوٹ مار اورمختلف زمینی خطوں کا بلادکار کرنے کے لیے نئے علاقوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔معدنی وسائل سے مالا مال بلوچستان بھی ان گدھوں کے شکاروں میں سے ایک ہے۔چینیوں نے پاکستانی ریاست کے اندربہت کلیدی جگہ بنا لی ہے۔اس کاواضح ثبوت یہ حقیقت ہے کہ پاکستانی فوج اسلحے اور سازو سامان کا 42 فیصد چین جبکہ 36 فیصد امریکہ سے خریدتی ہے۔چینی اشرافیہ سونے، تانبے، لتھیئم اور دیگر معدنی زخائر میں اپنی سرمایہ کاری اور کنٹرول کو بڑھانا چاہتی ہے جن کی مالیت  1.5 ہزارسے لیکر 3 ہزار ارب ڈالر ہے۔ چینی، بلوچستان کی معدنی دولت لوٹنے کے لئے بے قرار ہیں، ساتھ ہی ساتھ وہ گوادر کی بندر گاہ کے ذریعے خلیج اور مشرقِ وسطیٰ کی منڈیوں تک زیادہ منافع بخش تجارتی راستے بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔گوادر سینکیانگ شاہراہ، جسے نئی شاہراہِ ریشم بھی کہا جارہا ہے، کی تعمیر سے چین اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان تجارتی فاصلہ 2000  کلو میٹر کم ہو جائے گا۔چین کا خطے میں بڑھتا ہوا اثرورسوخ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے ناقابل قبول ہے۔<br />
<a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/great-game-in-balochistan-Small.jpg" target="_blank"><img class="alignleft" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/great-game-in-balochistan-Small.jpg" alt="" width="338" height="295" /></a>بلوچستان میں جاری نئے عظیم کھیل (Great Game) میں سعودی عرب و ایران، امریکی و چینی سامراج، مغربی کانکنی کی کمپنیاں، ہندوستانی اور روسی کارپوریشنیں، سب حصہ دار ہیں۔امریکی سامراج کچھ آزادی پسند مسلح گروہوں کی پشت پناہی بھی کررہا ہے۔گزشتہ برس ریاست کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے دائیں بازو کے امریکی رکنِ پارلیمان ڈانا رور بیکر، جو پارلیمانی سب کمیٹی برائے خارجہ امور کا رکن بھی ہے، نے امریکی کانگریس میں ایک قراداد پیش کی جس کی رو سے’’بلوچستان کے عوام کو حقِ خود ارادیت اور علیحدہ ملک کا حق حاصل ہونا چاہیے۔‘‘افغانستان اور عراق کو تاراج کرنے والے امریکی سامراج کے ایک نمائندے کا ایسا بیان، بلوچستان کے نوجوانوں اور مجبور عوام کی توہین ہے جو نسل در نسل اپنی قومی اور سماجی و معاشی نجات کے لیے جدوجہد کرتے اور عظیم قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں۔جدوجہد میں شامل بلوچ نوجوان آج ایک بار پھر 1960ء اور1970ء کی دہائی کے انقلابی نظریات کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔وہ سامراج کی مکارانہ لفاظی اور دعووں کے فریب میں نہیں آئیں گے۔تاریخ گواہ ہے کہ سامراج نے ہمیشہ قومی سوال کو ملک بنانے اور توڑنے کے لیے استعمال کیا ہے جس کا مقصد منڈیوں کو پھیلانا، بے منافعوں کے حصول، وسائل کی لوٹ مار اور دولت پر قبضے کے لیے سیاسی بالادستی کا حصول ہوتا ہے۔<br />
پاکستان کی نئی حکومت ملکی تاریخ کے بدترین سماجی اور معاشی حالات میں بر سرِ اقتدار آ رہی ہے۔سرمایہ دارانہ نظام میں رہتے ہوئے بلوچستان میں غربت، ذلت اور محرومی میں اضافہ ہو گا۔قومی محرومی اور سماجی و معاشی استبداد کے جذبات مسلح جدوجہد اور پاکستانی ریاست سے نفرت کو ہوا دیں گے۔ کئی مخالف قوتوں کی کئی سمتوں اور کئی محاذوں پر جاری لڑائی کے بیچ میں مسلم لیگ نواز کی حکومت جلد ہی خود کو دلدل میں دھنسا ہوا پائے گی۔ سیاسی حل اور مذاکرات کے ذریعے امن کا حصول تقریباً نا ممکن ہے اور اس کے نتیجے میں ریاستی تشدد، ظلم اور جبر میں اضافہ ہو گا۔سرمایہ داری کے اندر رہتے ہوئے بلوچ نوجوان اور عوام اپنے قومی اور معاشی حقوق کبھی بھی حاصل نہیں کر سکتے۔بلوچستان میں جاری ظلم میں بھی وہی رجعتی قوتیں ملوث ہیں جو ملک کے دیگر حصوں میں بہیمانہ طبقاتی جبر اور استحصال کر رہی ہیں۔قومی آزادی کی جدوجہد کے دریا کو طبقاتی جدوجہد کے ساگر میں شامل ہونا ہو گا۔صرف ان بنیادوں پر ہی جابر حکومتوں اورریاستی نظام کا تختہ الٹا جا سکتا ہے۔یہ انقلابی فتح جنوبی ایشیا کی رضاکارانہ سوشلسٹ فیڈریشن کے قیام کی بنیاد بنے گی جہاں ہر قومیت کو حقِ خود ارادیت کے استعمال کی مکمل آزادی حاصل ہو گی۔</p>
<p class="Urdu">متعلقہ:<a title="Permanent Link to خون میں ڈوبا بلوچستان" href="http://www.struggle.com.pk/mayhem-in-balochistan/" rel="bookmark" target="_blank"><br />
خون میں ڈوبا بلوچستان</a><a title="Permanent Link to بلوچستان: ریاستی جبر کیخلاف ابھرتے انقلابی رحجانات" href="http://www.struggle.com.pk/balochistan-revolution-against-state-oppression/" rel="bookmark" target="_blank"><br />
بلوچستان: ریاستی جبر کیخلاف ابھرتے انقلابی رحجانات</a><a title="Permanent Link to پاکستان: سلگتی ہوئی جہنم سے چھٹکارا کون دلائے گا؟" href="http://www.struggle.com.pk/pakistan-who-would-relieve-masses/" rel="bookmark" target="_blank"><br />
پاکستان: سلگتی ہوئی جہنم سے چھٹکارا کون دلائے گا؟</a><a title="Permanent Link to بلوچستان میں یوم مئی کی تقاریب" href="http://www.struggle.com.pk/may-day-2012-balochistan/" rel="bookmark"><br />
بلوچستان میں یوم مئی کی تقاریب</a><a title="Permanent Link to کوئٹہ میں سیاسی کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ" href="http://www.struggle.com.pk/%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%db%8c-%da%a9%d8%a7%d8%b1%da%a9%d9%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%b9%d8%a7%d8%b1%da%af%d9%b9-%da%a9%d9%84%d9%86%da%af-%da%a9/" rel="bookmark" target="_blank"><br />
کوئٹہ میں سیاسی کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ</a></p>
<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fbalochistan-alienation%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:100px;margin-top:5px;"></iframe>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.struggle.com.pk/balochistan-alienation/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>نیسلے خانیوال میں یوم مئی 2013ء کے موقع پر ریلی</title>
		<link>http://www.struggle.com.pk/may-day-2013-in-kabirwala/</link>
		<comments>http://www.struggle.com.pk/may-day-2013-in-kabirwala/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 15 May 2013 18:42:22 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[May Day]]></category>
		<category><![CDATA[Reports]]></category>
		<category><![CDATA[Kabirwala]]></category>
		<category><![CDATA[Khanewal]]></category>
		<category><![CDATA[Nestle]]></category>
		<category><![CDATA[Unilever]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.struggle.com.pk/?p=6248</guid>
		<description><![CDATA[[رپورٹ: ذیشان شہزاد] دنیا بھر کے محنت کشوں کے شانہ بشانہ Nestle  کبیر والہ اور ٹی فیکٹری Unilever کے مزدوروں نے بھی یکم مئی 2013ء کے موقع پر ایک شاندار ریلی کا انعقاد کیا جس میں 1500 سے زائد مزدوروں نے شرکت کی۔ ریلی کی قیادت محمد حسین بھٹی (صدر CBA نیسلے) نے کی۔ ریلی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fmay-day-2013-in-kabirwala%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:100px;margin-top:5px;"></iframe><p class="Urdu">[رپورٹ: ذیشان شہزاد]<br />
<a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/May-Day-2013-Nestle-Kabirwala.jpg" target="_blank"><img class="alignleft" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/May-Day-2013-Nestle-Kabirwala.jpg" alt="" width="338" height="254" /></a>دنیا بھر کے محنت کشوں کے شانہ بشانہ Nestle  کبیر والہ اور ٹی فیکٹری Unilever کے مزدوروں نے بھی یکم مئی 2013ء کے موقع پر ایک شاندار ریلی کا انعقاد کیا جس میں 1500 سے زائد مزدوروں نے شرکت کی۔ ریلی کی قیادت محمد حسین بھٹی (صدر CBA نیسلے) نے کی۔ ریلی کا آغاز نیسلے فیکٹری گیٹ کبیروالہ سے ہوا جو لاہور موڑ خانیوال شہرمیں داخل ہوئی، ٹی چوک اور RC چوک سے ہوتی ہوئی سنگلاں والا چوک پرپہنچی۔ مزدوروں سے خطاب کرتے ہوئے شہزاد جاوید نے کہا کہ اب مزدوروں کے جاگنے کا وقت ہے، جو پوری دنیا میں 99 فیصد ہیں، جبکہ محض 1 فیصد حکمران طبقہ ان کا استحصال کر رہا ہے۔ مزدوروں کا رہن سہن، ضروریات، تعلیمی ادارے یہاں تک کہ قبرستان بھی امیروں سے الگ ہیں۔ استحصال پر مبنی طبقاتی نظام کا خاتمہ کر کے ہی ہماری مصیبتوں اور عذابوں کا مداوا ہو سکتا ہے۔ ریلی اپنے مخصوص روٹ جسونت نگر، اعوان چوک، مکی چوک، کالونی نمبر 3 سے ہوتی ہوئی فاروقِ اعظم چوک پر اختتام پذیر ہوئی، جہاں بڑے جلسہ عام کا اہتمام کیا گیا۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے محمد حسین بھٹی نے کہا کہ سرمایہ داروں نے ہمارا خون نچوڑ نچوڑ کر اپنی تجوریاں بھر لی ہیں جبکہ مزدورمسلسل غربت کی اتھاہ گہرائیوں میں دھنستے چلے جا رہے ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزدوروں کی معاشی مشکلات میں اضافہ سرمایہ داری نظام کا خاصہ ہے اور مزدوروں کو تقسیم کر کے نہ صرف سرمایہ دار ہم مزدوروں پر اپنا جبر قائم رکھتے ہیں بلکہ اس میں مسلسل اضافہ بھی کرتے جاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ مزدوروں نے اپنا خون دے کر <a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/May-Day-2013-Nestle-Kabirwala-1.jpg" target="_blank"><img class="alignleft" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/May-Day-2013-Nestle-Kabirwala-1.jpg" alt="" width="335" height="252" /></a>سرمایہ داروں سے اپنے حقوق حاصل کیے ہیں۔ 1886ء میں شکاگو کے مزدوروں نے منظم ہو کر اعلانِ بغاوت کیا تھاجو ہمارے لیے آج بھی مشعلِ راہ ہے۔ جب مزدور متحد ہو کر نظام کو چیلنج کریں گے تو دنیا کی کوئی بھی طاقت انہیں شکست نہیں دے سکتی۔ یومِ مئی کا دن تجدید عہد کا دن ہے کہ اس طبقاتی نظام کوختم کرنے کے لئے مزدوروں کو متحداور منظم ہو ناپڑے گا۔ انسانیت کو غربت، بیروزگاری اور جہالت سے با ہر نکالنے کے بعد ہی انسان کو انسانیت کی معراج پر پہنچایا جاسکتا ہے۔ جلسے اور ریلی میں ’’مزدور مزدور، بھائی بھائی‘‘ اور ’’ہم نہیں مانتے، ظلم کے ضابطے‘‘ کے نعرے گونجتے رہے۔</p>
<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fmay-day-2013-in-kabirwala%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:100px;margin-top:5px;"></iframe>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.struggle.com.pk/may-day-2013-in-kabirwala/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>الیکشن 2013ء: کیا تبدیل ہوا ہے؟</title>
		<link>http://www.struggle.com.pk/election-2013-what-changed/</link>
		<comments>http://www.struggle.com.pk/election-2013-what-changed/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 15 May 2013 11:20:58 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[ ]]></category>
		<category><![CDATA[Elections 2013]]></category>
		<category><![CDATA[Imran Khan]]></category>
		<category><![CDATA[Muslim League]]></category>
		<category><![CDATA[Nawaz Sharif]]></category>
		<category><![CDATA[Political Change]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.struggle.com.pk/?p=6238</guid>
		<description><![CDATA[[تحریر: قمرالزماں خاں] گیارہ فروری کو الیکڑونک میڈیا سارا دن انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا رہا۔ یہ کھلی چھوٹ میڈیا کو اس لئے بھی حاصل تھی کہ الیکشن کمیشن نے میڈیا کو اپنا حصہ قرار دیا ہوا تھا۔ گو سیاسی پارٹیوں کو 72 گھنٹے پہلے ’’انتخابی مہم‘‘ ختم کرنے کا کہا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Felection-2013-what-changed%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:100px;margin-top:5px;"></iframe><p class="Urdu">[تحریر: قمرالزماں خاں]<br />
گیارہ فروری کو الیکڑونک میڈیا سارا دن انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا رہا۔ یہ کھلی چھوٹ میڈیا کو اس لئے بھی حاصل تھی کہ الیکشن کمیشن نے میڈیا کو اپنا حصہ قرار دیا ہوا تھا۔ گو سیاسی پارٹیوں کو 72 گھنٹے پہلے ’’انتخابی مہم‘‘ ختم کرنے کا کہا گیا تھا مگر الیکٹرونک میڈیا کے ’’بگ باس‘‘ اس قانون سے ماوراء رائے عامہ کو ’’راہ راست‘‘ پر لانے اور ’’صراط مستقیم‘‘ پر گامزن کرنے میں مصروف رہے۔ ایک درجن چینلوں پر سو سے زائد ’’اینکر پرسن اور ماہرین‘‘ جب طے ہی کردیں کہ انتخابی نتائج ممکنہ طور پر کیا ہوسکتے ہیں تو پھر عام آدمی (جو بھاری بھرکم اینکرز سے ویسے ہی مرعوب ہوتا ہے) کا فیصلہ بھی وہی ہوگا جس کی طرف ذہین و فطین ’’تجزیہ نگار‘‘ راغب کرنے کی کوشش میں مصروف ہوتے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر صاحب نے تو پولنگ کے سٹارٹ میں ہی شرح ووٹنگ 60 فی صد قرار دی تھی جس کا علم ان کو کسی’’ غیبی قوت‘‘ نے دیا تھا یا یہ ان کی ضعیف مگر ’تجربہ کار‘ حسوں کا کمال تھا، معلوم نہیں۔ <a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/Election-rigging-pakistan-cartoon.jpg" target="_blank"><img class="alignleft" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/Election-rigging-pakistan-cartoon.jpg" alt="" width="338" height="279" /></a>ٹرن آؤٹ کو ساٹھ فی صد کرنے کا ’’ٹاسک‘‘ پورا کرنے کے لئے پورے ملک میں ایسے ایسے ’’کمالات‘‘ دکھائے گئے کہ دنیا دنگ رہ گئی۔ ایسے اعداد و شمار کثرت سے آچکے ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ رجسٹرڈ ووٹوں سے کئی گنا ووٹ ڈالے یا ڈلوائے گے۔ اس وقت پورے ملک میں عام انتخابات کے ’’فری اینڈفیئر‘‘ نہ ہونے پر مظاہرے ہورہے ہیں۔ جس معاشی نظام کے زیر اثر یہ الیکشن ہوئے اگر وہ سارے کا سار ا لوٹ کھسوٹ، بدیانتی اور جعل سازی کے ذریعے چل رہا ہے تو اس نظام کے انتخابات کیسے دیانت دارانہ اور منصفانہ ہوسکتے ہیں؟ کراچی اور حیدر آباد میں تو کھلے عام ’’ٹھپے‘‘ لگائے گئے مگر اندرون سندھ، جنوبی پنجاب اور تخت لاہور سمیت اپر پنجاب میں ہر قسم کے ’’فن ‘‘ کا مظاہر ہ کرکے جیت کو یقینی بنایا گیا۔ میڈیا ہیوی ویٹس نے پولنگ کے ٹائم میں ایک گھنٹہ توسیع کراکے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اور پھر اسکے بعد بقول عمران خان، نواز شریف کی تقریر کے بعد نتائج میں تبدیلی کا وسیع پیمانے پر بندوبست کیا گیا۔ بلوچستان میں انتخابات کو ’’قومی مفاد یا مصلحت‘‘ کے تحت جمہوری عمل قراردیا جائے تو اور بات ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ پورے بلوچستان میں خوف کا عالم تھا، پشتون بیلٹ میں طالبان اور انکے قریبی حامیوں کا دباؤ تھا اور بلوچ بیلٹ میں چھاپہ ماروں نے ووٹروں اور امیدواروں کو اپنی دہشت سے یرغمال بنائے رکھا۔<br />
پاکستان کے 2013ء کے انتخابات میں ’’تبدیلی‘‘ اور ’’انقلاب‘‘ کے نعروں کو بہت استعمال کیا گیا مگر عملی طور پر کسی قسم کی غیر متوقع تبدیلی نظر نہیں آئی۔ دعووں کے برعکس ’’سونامی‘‘ نہ آسکی، پیپلز پارٹی اور اسکے اتحادیوں کی شکست وریخت اور مایوس کن کیفیت پی ٹی آئی کے ووٹ بڑھانے اور کچھ سیٹیں حاصل کرنے کا باعث بنی۔ ان انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کا ہارنا نوشتہ دیوار تھا۔ پانچ سال تک عوام کا گوشت نوچا گیا، مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ کے ساتھ ساتھ بدعنوانی کے ریکارڈ بنائے گئے، لوگوں کو روزگار دینے کی بجائے بے نظیر انکم پروگرام کی بھیک کا راستہ اختیار کیا گیا۔ ملازمتیں بیچ کر جیبیں بھری گئیں۔ پارٹی ڈھانچے مضبوط بنانے کی بجائے بالائی سطح پر مسلط چند افراد کی خوشامد کرنے والے مافیا کو ترجیح دی گئی اور نت نئے فیوڈل لارڈز اور ’’خاندان‘‘ ڈھونڈ کر پارٹی کے سر پر مسلط کئے گئے۔ لہذا شکست فاش ان کا مقدر تھی۔ اس میں نہ تو کوئی حیرانی والی بات ہے اور نہ ہی اس شکست کو کسی ’’انقلاب‘‘ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ جہاں تک تبدیلی کی بات ہے تو کچھ بھی نہیں بدلا۔ مسلم لیگ( نواز) میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ ان کی سیاست کا سٹائل، افسر شاہی پر انحصار، ملک کے تمام شعبوں میں عمومی ترقی اور بہتری کی بجائے ’’شوبازی‘‘ اوردکھاوے کی سکیموں پر انحصار جیسی پالیسیاں جاری و ساری رہیں گی۔ پارٹیوں کی تخصیص سے ہٹ کرجوجیت کر آئے ان میں 80 فی صد سے زیادہ پرانے چہرے ہی ہیں۔ یہ وہی جاگیردار، سرمایہ دار، انگریز راج کے تلوے چاٹ کر اقتدار میں آنے والے حکمران طبقے کے جانے پہچانے ’’گھرانے‘‘ ہیں جو پچھلی چھ دہائیوں سے سیاست کے میدان میں حاوی چلے آرہے ہیں، ہر اسمبلی کی زینت ہوتے ہیں اور تقریباََ تمام جماعتوں کی رکنیت کا کبھی نہ کبھی مزا چکھ چکے ہیں۔<br />
انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد، توقع کے مطابق منقسم مینڈیٹ سامنے آیا ہے۔ تمام صوبوں میں مختلف سیاسی پارٹیوں کی حکومتیں بننے کے امکانات ہیں، اس صورتحال میں ’’آزاد‘‘ اراکین کو ساتھ ملانے کے لئے ان کو ’’خوش‘‘ کیا جائے گا اور دوسری پارٹیوں کو ساتھ ملاکر ’’مفاہمت‘‘ کی رسوائے زمانہ پالیسی کو پھرسے آزمایا جائے گا۔ عمران خان اور نواز شریف کے درمیان ’صلح‘ کے عمل کا آغاز ہو چکا ہے اور اس سلسلے میں نواز شریف صاحب کو تین سال بعد ایک حدیث بھی یاد آگئی ہے جس کی رو سے دو ’’مسلمان بھائی‘‘ تین دن سے زیادہ ناراض نہیں رہ سکتے، گویاالیکشن کیمپین اور اس سے پہلے ایک دوسرے کے خلاف استعمال کی جانے والی گھٹیا اور بازاری زبان، تنقید اور سیاسی حملے محض ذاتی دشمنی کا شاخسانہ تھے۔ تھوک کر چاٹنے کا فن پاکستان کے حکمران طبقات اور سیاستدانوں سے بہتر شاید ہی کوئی جانتا ہو۔ نواز شریف نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ’’عمران خان سے صلح ہو گئی ہے اور اب فرینڈلی میچ کھیلا جائے گا‘‘، یعنی ہمیشہ کی طرح بند دروازوں کے پیچھے ’’میچ فکسنگ‘‘ کر کے حکومت اپوزیشن کا کھیل کھیلا جائے گا اور میڈیا ہر ’باؤنڈری‘ یا ’وکٹ‘ پر تالیاں بجائے گا۔ عوام کے حقیقی مسائل کو منظر عام سے ہٹانے کا اس سے بہتر طریقہ کیا ہو سکتا ہے؟<br />
الیکٹرونک میڈیا قبل از وقت ہی وزارتیں باٹنے میں مصروف ہے، یقینی طور پرانکی طاقت ور رائے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکے گا۔ ’’ اینکرز پرسنزاور ذہین تجزیہ نگاروں‘‘کے تجویز کردہ وزارتوں کے قلم دان انہی کو ملنے کا امکان ہے جن کی نشاندہی کردی گئی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ معترضین کے مطابق دھاندلی زدہ اور فیض یافتگان کے مطابق تاریخی ’’شفاف اور غیر جانبدار‘‘ الیکشن کی تکمیل کے بعد کیا عوام کی قسمت بھی بدلے گی یا ملک اور قوم کے عظیم تر مفاد میں ان پر ٹیکسوں اور قیمتوں کے اضافوں کا بہت بڑا حملے کیا جائے گا۔ فارمولہ بہت سادہ ہے! اگر لوگ وہی ہیں، سوچ <a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/zardari-hands-over-broken-country-to-nawaz-sharif.jpg" target="_blank"><img class="alignleft" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/zardari-hands-over-broken-country-to-nawaz-sharif.jpg" alt="" width="335" height="252" /></a>وہی ہے، نظریات اور فلسفہ بھی وہی ہے، طریقہ کار اور انتظام اور نظام بھی وہی ہے تو نتائج بھی وہی نکلیں گے جن کو پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام بھگتتے بھگتتے اب ہانپنا شروع ہوگئے ہیں۔ اگر منڈی کی معیشت کے موجودہ نظام کے اندر رہ کر نئی حکومت کام کرے گی تو ان کو ’’آزاد معیشت‘‘ کے قوانین کی اسی طرح غلامی کرنا ہوگی جس طرح ماضی کی (نواز شریف کی دونوں حکومتوں سمیت) تمام حکومتیں کرتی آئی ہیں۔ اگر ماضی کی حکومتوں کی کارکردگی بھیانک اورانکی پالیسیوں کاانجام تباہی تھا تو پھر موجودہ حکومت کے بارے میں خواہ مخواہ کی خوش گمانیوں کی لہر بھی زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ سکے گی۔</p>
<p class="Urdu">متعلقہ:<a title="Permanent Link to جمہوریت کے سوداگر" href="http://www.struggle.com.pk/democratic-businessmen/" rel="bookmark" target="_blank"><br />
جمہوریت کے سوداگر</a><a title="Permanent Link to عوامی مفادات سے عاری انتخابات" href="http://www.struggle.com.pk/election-devoid-of-social-content/" rel="bookmark" target="_blank"><br />
عوامی مفادات سے عاری انتخابات</a></p>
<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Felection-2013-what-changed%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:100px;margin-top:5px;"></iframe>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.struggle.com.pk/election-2013-what-changed/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>اعوان سپورٹس سیالکوٹ میں انتظامیہ کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف مزدور تحریک کا آغاز</title>
		<link>http://www.struggle.com.pk/workers-struggle-at-awan-sports/</link>
		<comments>http://www.struggle.com.pk/workers-struggle-at-awan-sports/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 14 May 2013 18:09:54 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Reports]]></category>
		<category><![CDATA[Workers' Struggle]]></category>
		<category><![CDATA[Awan Sports]]></category>
		<category><![CDATA[PTUDC]]></category>
		<category><![CDATA[Sialkot]]></category>
		<category><![CDATA[Workers Struggle]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.struggle.com.pk/?p=6234</guid>
		<description><![CDATA[[رپورٹ: PTUDC سیالکوٹ] سیالکوٹ میں سپورٹس کا سامان تیار کرنے والی عالمی شہرت یافتہ فیکٹری میں انتظامیہ کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف محنت کشوں نے PTUDC کے ساتھ مل کر تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔ اعوان سپورٹس میں ایک لمبے عرصہ سے محنت کشوں کا بدترین استحصال کیا جا رہا ہے اور محنت کشوں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fworkers-struggle-at-awan-sports%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:100px;margin-top:5px;"></iframe><p class="Urdu">[رپورٹ: PTUDC سیالکوٹ]<br />
سیالکوٹ میں سپورٹس کا سامان تیار کرنے والی عالمی شہرت یافتہ فیکٹری میں انتظامیہ کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف محنت کشوں نے PTUDC کے ساتھ مل کر تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔ اعوان سپورٹس میں ایک لمبے عرصہ سے محنت کشوں کا بدترین استحصال کیا جا رہا ہے اور محنت کشوں کو ٹھیکیداری نظام کے تحت انتہائی قلیل اجرتوں پر کام لیا جا رہا ہے۔ محنت کشوں کو لیبر قوانین کے مطابق ملازمت کاکوئی تحفظ حاصل نہیں۔ اس سے پہلے نومبر 2012ء میں <a href="http://www.struggle.com.pk/127-wrokers-sacked-from-sports-company-in-sialkot/" target="_blank">127 محنت کشوں کو بر طرف</a> کیا جا چکا ہے۔ کنٹریکٹ پر کام کرنے والے محنت کشوں کی اجرت میں پچھلے پانچ سالو ں میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے جبکہمحنت کشوں کو تقسیم کرنے کے لئے ایک ہی کام کرنے والے محنت کشوں کو مختلف اجرتیں دی جا رہی ہیں۔ انتظامیہ کی طرف سے محنت کشوں پر بے جا پابندیاں لگائی گئیں ہیں جس کی وجہ سے وہ آ زادانہ طور پر اپنی مرضی کی کینٹین سے کھانا تک نہیں کھا سکتے۔ اس دوران PTUDC کی برانچ مسلسل سپورٹس فیکٹری میں سرگرم رہی ہے۔ 12 مئی کو سٹیچنگ یونٹ کے محنت کشوں نے کامریڈز کے ساتھ مشاورت کر کے صبح فیکٹری ٹائم کا آغاز ہوتے ہی کام چھوڑ ہڑتا ل کردی۔ اس دوران تمام محنت کش فیکٹری گیٹ پر جمع ہونا شروع ہو گئے اور مل کر انتظامیہ کے مبینہ زیادتوں کے خلاف دھرنا دیا۔ انتظامیہ کے خلاف شدید نعرہ بازی کی گئی اور جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کیا گیا۔ اس دوران PTUDC کے کامریڈز آصف بٹ اور شبیر نے محنت کشوں سے خطاب کرتے ہوئے ان کے حوصلے بلند رکھے۔ محنت کشوں کی طرف سے کامریڈ آصف بٹ نے مطالبات انتظامیہ کے سامنے رکھے۔ دو گھنٹوں کے مسلسل مذاکرات کے بعد انتظامیہ نے بے جا پابندیوں کا خاتمہ کرتے ہوئے دیگر مطالبات کو مالکان کی ملک واپسی سے مشرو ط کیا۔ کامریڈ نے تمام محنت کشوں کو مذاکرات کے فیصلوں سے آگا ہ کیا جس پر محنت کشوں نے تمام مطالبات کے پورا ہونے تک جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کیا۔</p>
<p class="Urdu"><span style="color: #ff0000;">مطالبات</span><br />
*اجرتو ں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کرتے ہوئے فی پیس اجرت کم از کم 18 روپے کی جائے۔<br />
*محنت کشوں پر بے جا پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے۔<br />
*تمام بر طرف ملازمین کی بحالی اور ملازمت کا تحفظ یقینی بنایا جانا۔<br />
*لیبر قوانین کے تحت تمام مراعات محنت کشوں کو دی جائیں۔<br />
*ٹھیکیداری کا خاتمہ اور مستقل ملازمت کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔</p>
<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fworkers-struggle-at-awan-sports%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:100px;margin-top:5px;"></iframe>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.struggle.com.pk/workers-struggle-at-awan-sports/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جمہوریت کے سوداگر</title>
		<link>http://www.struggle.com.pk/democratic-businessmen/</link>
		<comments>http://www.struggle.com.pk/democratic-businessmen/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 14 May 2013 10:48:56 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[ ]]></category>
		<category><![CDATA[Economic Crisis]]></category>
		<category><![CDATA[Elections 2013]]></category>
		<category><![CDATA[Lal Khan]]></category>
		<category><![CDATA[Load Shedding]]></category>
		<category><![CDATA[Muslim League]]></category>
		<category><![CDATA[Power Crisis]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.struggle.com.pk/?p=6223</guid>
		<description><![CDATA[[تحریر: لال خان] حالیہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن)  کی بھاری مینڈیٹ سے کامیابی کے بعد یہ جماعت وفاق اور پنجاب میں حکومت بنانے کے قابل ہوگئی ہے۔ اپنے بنیادی سوشلسٹ منشورسے انحراف اور محنت کش عوام کے مفادات کو فراموش کرنے کے نتیجے میں تاریخ کی بد ترین شکست کا شکار ہونے والی پاکستان [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fdemocratic-businessmen%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:100px;margin-top:5px;"></iframe><p class="Urdu">[تحریر: لال خان]<br />
<a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/nawaz-sharif-victory-cartoon.jpg" target="_blank"><img class="alignleft" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/nawaz-sharif-victory-cartoon.jpg" alt="" width="380" height="199" /></a>حالیہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن)  کی بھاری مینڈیٹ سے کامیابی کے بعد یہ جماعت وفاق اور پنجاب میں حکومت بنانے کے قابل ہوگئی ہے۔ اپنے بنیادی سوشلسٹ منشورسے انحراف اور محنت کش عوام کے مفادات کو فراموش کرنے کے نتیجے میں تاریخ کی بد ترین شکست کا شکار ہونے والی پاکستان پیپلز پارٹی محدود ہو کر صرف سندھ میں حکومت بنائے گی جبکہ پختونخواہ اور بلوچستان مختلف جماعتوں کی مخلوط حکومتیں بنائے جانے کا امکان ہے۔ پچھلے پانچ سال کی طرح اس بار بھی ایک گھن چکر تیار ہے اور اس چکر بازی کو حکمران صحافت اور دانش کے علمبردار ’’جمہوریت‘‘ کی فتح اور ’’استحکام‘‘ سے تعبیر کر رہے ہیں۔ سرمایہ دار اور دایاں بازو، نواز شریف کے تیسری مرتبہ وزیرِ اعظم بننے کا جشن زور و شور سے منا رہے ہیں لیکن یہ تماشا زیادہ دیر چلتا دکھائی نہیں دیتا۔<br />
11مئی  کو ہونے والے انتخابات کی دو اہم خصوصیات کو چھپانے کی بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں۔ پہلے تو یہ کہ ان انتخابات پر امیدواروں اور سیاسی جماعتوں نے جتنی ’’سرمایہ کاری‘‘ کی ہے اس کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ کالے دھن اور دولت کے اس کردار کو انتہائی مکاری سے نظر انداز کیا جارہا ہے۔ یہ اخراجات ان حدود سے کئی گنا زیادہ تھے جو الیکشن کمیشن نے مقرر کی تھیں۔ اس لئے کسی غریب آدمی کا ان انتخابات میں جیتنا تو درکنار، ان میں حصہ لینا ہی دیوانے کے خواب سے کم نہ تھا۔ یہ امیروں کی جمہوریت میں امارت کی مقابلہ بازی پر مبنی انتخابات تھے۔ اس نظام میں سیاست ایک کاروبار ہے، یہ انتخابات حکمران طبقے کے مختلف دھڑوں کے مابین اقتدار کے حصول کا ایک مقابلہ تھااور اس میں کی جانے والی بھاری سرمایہ کاری کا اصل مقصد اقتدار میں آنے کے بعد ہوشربا منافعوں کا حصول تھا۔<br />
دوسرا عنصر جس کو نظر انداز کیا جارہا ہے وہ اس مخصوص وقت اور انتخابی عمل کے لمحات میں سماج کی عمومی نفسیات اور محنت کش عوام کے اجتماعی شعور کا کردار، کیفیت اور معیار ہے۔ یہ انتخابات ایسے دور میں ہوئے ہیں جب سماج میں ایک عمومی جمود اور سیاسی بے حسی غالب ہے۔ محنت کش طبقہ اپنے پر ہونے والے پچھلے کئی برسوں کے تابڑ توڑ معاشی، اقتصادی، سماجی حملوں اور دہشت گردی کی خونریز وحشت سے ایک نفسیاتی صدمے کی کیفیت میں ہے۔ سماجی خلفشار کے شور کے اندر اس نفسیاتی <a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/election-commission-pakistan-cartoon.jpg" target="_blank"><img class="alignleft" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/election-commission-pakistan-cartoon.jpg" alt="" width="275" height="400" /></a>سکوت کی عکاسی ہمیں ان انتخابات کے نتائج میں نظر آتی ہے۔ انتخابات اور ان کے نتائج ایک مخصوص لمحے پر عمومی سماجی شعور کے عکاس ہوتے ہیں، کسی سیلولائیڈ فلم کی ریل میں سے لی گئی ایک تصویر کی طرح۔ انسانی معاشرہ مسلسل ارتقاء اور تغیر کے عمل سے گزرتا ہے لہٰذہ ایک مخصوص لمحے کی سماجی سوچ کو حتمی نہیں سمجھا جا سکتا۔ دوسرے الفاظ میں انتخابات میں منعکس ہونے والی عوام کی وقتی رائے انکی حتمی سوچ اور شعور کی عکاس نہیں ہوسکتی، ایک واقعہ تمام تر رائے عامہ کو تبدیل کرسکتا ہے۔ عام حالات میں انتخابات اور ان کے نتائج غیر معمولی نہیں ہو سکتے۔ ن لیگ نے تجزیہ نگاروں کی ایک زیادہ منتشر مینڈیٹ کی پیش گوئی کے برخلاف بھاری اکثریت حاصل کی ہے۔ اس کی وجہ بالکل واضح ہے۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت، انتخابات میں حصہ لینے والے تمام تر بڑی سیاسی جماعتوں کا معاشی پروگرام ایک تھا۔ پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت نے پارٹی کے بنیادی سوشلسٹ پروگرام سے انحراف کی وجہ سے عبرت ناک شکست پائی۔ ’’تبدیلی ‘‘  کا نعرہ لگانے والی تحریک انصاف کی مہم پہلے دن سے ہی کسی ٹھوس اور جامع عملی پروگرام سے عاری تھی جس نے اس کی پسپائی کو ناگزیر بنا دیا۔ امریکی سامراج سے قربت جہاں ایم کیو ایم، اے این پی اور پیپلز پارٹی کو لے ڈوبی وہیں امریکہ دشمنی کی سیاست کرنے والی بنیاد پرست مذہبی پارٹیاں بھی ہمیشہ کی طرح عوامی حمایت سے محروم رہیں۔ امریکہ دشمنی اور سامراج دشمنی صرف مختلف ہی نہیں بلکہ متضاد رویے اور نظریات ہیں۔ معاشی پالیسی کے حوالے سے ’’امریکہ دشمن‘‘ اور امریکہ دوست پارٹیوں میں کوئی اختلاف موجود نہیں ہے۔<br />
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو اس قسم کے معروض میں حکمران اپنا تسلط اور حکمرانی قائم رکھنے کے لئے بلند و بانگ منصوبے بناتے ہیں۔ یہ دعوے، وعدے اور منصوبے عوام کو وقتی طور پر مرعوب تو کرسکتے ہیں لیکن ان کی حالت زار میں بہتری نہیں لا سکتے۔ روم کے شہنشاؤں کے کلازیم، مصر کے فرعونوں کے دیو ہیکل اہرام، مغل بادشاہوں کے تاج محل اور ان گنت انسانوں کا خون نچوڑ کر تعمیر کئے گئے ایسے دوسرے تاریخی عجوبوں کا مقصد فن تعمیر کے اس رعب و دبدبے سے عام انسانوں کو نفسیاتی طور پر مطیع رکھنا تھا۔ تاج محل تعمیر ہو گیالیکن اس کے گرد ونواح کی بستیوں میں غربت، بھوک اور محرومی پلتی رہی اور آج تک پل رہی ہے۔ ماضی کے تجربات کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر شریف برادران کے طریقہ واردات کا جائزہ لیا جائے تو مغلائی طریقہ حکمرانی سے خاصی مشابہت نظر آتی ہے۔ موٹر وے سے لے کر لاہور و کراچی کے قلعہ نما ہوائی اڈے، ایٹمی دھماکوں سے لے کر میٹرو بس سروس تک۔۔۔ یہ سب ایسے ہی منصوبے ہیں جن سے درمیانے اور بالادست طبقے فیض یاب تو ضرور ہوئے لیکن آبادی کی بھاری اکثریت علاج، مناسب خوراک، تعلیم، نکاس اور رہائش کی سہولیات سے بدستور محروم رہی۔ ان منصوبوں کا شور پورے معاشرے کو ذہنی طور پر شل کئے ہوئے تھا جبکہ سماج میں محنت کش طبقات، غربت، افلاس اور محرومی کی دلدل میں پھنستے چلے جارہے تھے۔<br />
پارلیمنٹ میں نواز لیگ کی موجودہ اکثریت شریف برادران سمیت اس ملک کے حکمران طبقات کے لئے کوئی اچھی نوید نہیں ہے۔ ’’جمہوریت‘‘ سے وابستہ دانشوروں کی تمام تر خوش فہمیوں کے برعکس فرسودہ سرمایہ دارانہ نظام کو چلانے کے لئے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے نسخوں پر مبنی پالیسیاں اپنائی جائیں گی۔ عوام کو مختلف اشیاء پر دی جانے والی سبسڈی کا خاتمہ اور کرنسی کی قیمت میں تنزلی سامراجی اداروں کی پہلی شرائط ہوں گی، مہنگائی بڑھے گی اور سامراجی قرضوں پر سود کی ادائیگی کی رقوم میں خوفناک اضافہ ہو گا، محنت کشوں سے بچی کھچی مراعات بھی چھینی جائیں گی۔ پاکستان کا قومی قرضہ جو 2008ء میں 6 ہزار ارب روپے تھا، اس وقت 15 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ اس قرضے پر سود کی ادائیگی کے لئے کم از کم بجٹ کا60 فیصد مختص کرنا پڑے گا اور بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لئے مزید قرضہ لینا پڑے گا، مزید قرضہ مزید سخت شرائط کے ساتھ ہی مل پائے گا۔ یہ ایک گھن چکر ہے جس سے سرمایہ دارانہ نظام کے <a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/load-shedding-in-pakistan-cartoon.jpg" target="_blank"><img class="alignleft" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/load-shedding-in-pakistan-cartoon.jpg" alt="" width="336" height="236" /></a>زیرِ اثر نکلنا ناممکن ہے۔ بجلی کے بحران کے خاتمے کے بارے میں اگر کوئی خوش فہمی میں مبتلا ہے تو اتنا بتا دینا ہی کافی ہے کہ سرکلر ڈیٹ اس وقت 800 ارب روپے سے تجاوز کر رہا ہے، سرمایہ داری کی حدود میں اس بحران سے نکلنے کی بھی کوئی صورت نظر نہیں ہے۔ اس شدید ترین بحران کی کیفیت میں آئی ایم ایف، سخت شرائط پر اگر 5 ارب ڈالر (تقریباً500 ارب روپے) کا قرضہ دیتا بھی ہے تو وہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہوگا۔<br />
لینن نے ایک بار کہا تھا کہ ’’سیاست آخری تجزئے میں معیشت کامجتمع شدہ عرق ہوتی ہے۔‘‘ جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ بھاری مینڈیٹ سے ایک مضبوط حکومت بنے گی، وہ اس حقیقت سے غافل ہیں کہ گڈ گورننس اور حکومت کرنے کے لئے ترقی کرتی ہوئی معیشت درکار ہوتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے بحران کی شدت سے معاشی بحران بڑھے گااور حکمرانوں کی سیاست اور ریاست کو محنت کشوں کی طوفانی تحریکوں اور طبقاتی بغاوتوں کا جلد ہی سامنا کرنا پڑے گا۔</p>
<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fdemocratic-businessmen%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:100px;margin-top:5px;"></iframe>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.struggle.com.pk/democratic-businessmen/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>4</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>مزدور راہنما راجہ ظریف (چیئر مین پی ڈبلیو ڈی ورکرز یونین ضلع اٹک) کا انٹرویو</title>
		<link>http://www.struggle.com.pk/interview-chariman-pwd-workers-union/</link>
		<comments>http://www.struggle.com.pk/interview-chariman-pwd-workers-union/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 13 May 2013 11:49:43 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Workers' Struggle]]></category>
		<category><![CDATA[Attock]]></category>
		<category><![CDATA[Interview]]></category>
		<category><![CDATA[PTUDC]]></category>
		<category><![CDATA[PWD]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.struggle.com.pk/?p=6219</guid>
		<description><![CDATA[[انٹرویو: شیرجان] راجہ ظریف 9 سال سے یونین میں بلا مقابلہ چیئرمین منتخب ہو رہے ہیں اور محنت کشوں کے حقوق کے لئے سیاست کر رہے ہیں۔ آپ مزدور سیاست میں کیوں آئے؟ ج: ہمارے پی ڈبلیو ڈی کے مزدور بہت زیادہ پِسے ہوئے ہیں۔ ہمارے مزدوروں کو مختلف طریقوں سے ہر وقت دبایا جاتا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Finterview-chariman-pwd-workers-union%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:100px;margin-top:5px;"></iframe><p class="Urdu">[انٹرویو: شیرجان]<br />
<a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/Raja-Zareef.jpg" target="_blank"><img class="alignleft" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/Raja-Zareef.jpg" alt="" width="335" height="250" /></a>راجہ ظریف 9 سال سے یونین میں بلا مقابلہ چیئرمین منتخب ہو رہے ہیں اور محنت کشوں کے حقوق کے لئے سیاست کر رہے ہیں۔<span id="more-6219"></span></p>
<p class="Urdu"><span style="color: #ff0000;"> آپ مزدور سیاست میں کیوں آئے؟</span><br />
ج: ہمارے پی ڈبلیو ڈی کے مزدور بہت زیادہ پِسے ہوئے ہیں۔ ہمارے مزدوروں کو مختلف طریقوں سے ہر وقت دبایا جاتا ہے۔ یہی وجہ تھی جس نے مجھے مجبور کیا کہ میں اپنے محنت کش بھائیوں کیلئے جدوجہد کا آغاز کروں۔</p>
<p class="Urdu"><span style="color: #ff0000;">اس میں کس حد تک کامیاب ہوئے؟</span><br />
ج: زیادہ تو نہیں البتہ اعلیٰ افسران اور سیاسی قائدین کے تسلط کو کافی حد تک کم کیا اور ہمارے ادارے کے مزدور سُکھ کا سانس لے رہے ہیں۔</p>
<p class="Urdu"><span style="color: #ff0000;">ٹریڈ یونین سیاست کے زوال کی کیا وجوہات تھیں؟</span><br />
ج: جب مزدور سیاست سے نظریات ختم ہو جائیں، مشترکہ مفادات کی بجائے ذاتی مفادات حاوی ہو جائیں تو مزدور سیاست زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔ دوسرا ٹریڈ یونین قیادت کی باہمی چپقلش نے محنت کشوں کا قیادت پر اعتماد ختم کر دیا ہے۔</p>
<p class="Urdu"><span style="color: #ff0000;">اس صورتِ حال میں آپ نے کچھ نہیں کیا؟</span><br />
ج: متعدد بار کوششیں کی گئیں۔ اس سلسلہ میں سب سے زیادہ سنجیدہ کوشش 2007/2008ء میں ہوئی جب پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپین کے پرویز ملک کی کاوش سے مختلف اداروں کا ایک مشترکہ اجلاس بلایا گیا۔ ایک جوائنٹ ایکشن کمیٹی تشکیل دے دی گئی تا کہ ہر ادارے کے محنت کش ایک دوسرے کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے مشترکہ جدوجہد کریں۔</p>
<p class="Urdu"><span style="color: #ff0000;">یہ کمیٹی کس حد تک فعال رہی؟</span><br />
ج: ہم نے تسلسل کے ساتھ مختلف اوقات میں کامیاب اجلاس کئے۔ 2008ء میں حکومت پنجاب نے پی ڈبلیو ڈی کے 900 ڈیلی ویجز ملازمین کی تنخواہوں کی بندش اور نوکریوں سے نکال دئیے جانے کا فرمان جاری کر دیا۔ اس صورت حال میں ایک ہنگامی میٹنگ بلائی گئی اور 9ماہ کی مسلسل مشترکہ جدوجہد کے نتیجہ میں ملازمین کی تنخواہیں اور مطالبات تسلیم کر لئے گئے۔ اس مشترکہ کاوش نے ہر ادارے کے محنت کشوں کو ایک جرات اورحوصلہ دیا۔</p>
<p class="Urdu"><span style="color: #ff0000;"> کیا موجودہ معاشی صورت حال سے مطمئن ہیں؟</span><br />
ج: محنت کشوں کو تو صرف اتنے پیسے ملتے ہیں جس سے جسم اور جان کا رشتہ ہی بحال رکھا جا سکتا ہے۔ بچوں کو اچھی تعلیم، صحت، اچھی خوراک دینا تو خواب بن چکے ہیں۔</p>
<p class="Urdu"><span style="color: #ff0000;">الیکشن سے کیا توقعات ہیں؟</span><br />
ج: وقتی طور پر کسی بھی نئی آنے والی حکومت سے توقعات اور امیدیں تو وابستہ ہوتی ہیں کہ وہ شاید عام لوگوں کیلئے بھی سوچیں لیکن 65 سال میں ہم نے صرف یہ دیکھا کہ امیر، امیر تر اور غریب، غریب تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ 2 فیصد حکمران طبقات پاکستان کے تمام تر وسائل پر قابض ہیں۔ اسمبلیوں میں بیٹھنے والے سیاستدان اور بیوروکریٹ، جنرل، جاگیردار، سرمایہ دار۔ ۔ ۔ ان تمام طبقات کا غربت، بھوک، بیماری، بیروزگاری، لاعلاجی جیسے بنیادی مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔ آنے والی حکومت بھی اگر عام لوگوں کو کچھ نہ دے پائی تو پھر اس ملک کے مزدور، کسان، طلباء، بیروز گار نوجوان ان حکومتوں کو زیادہ وقت نہیں دیں گے اور پھر پاکستان کے 18 کروڑ عوام اپنی تقدیروں کا فیصلہ خود اپنے ہاتھوں سے کریں گے۔</p>
<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Finterview-chariman-pwd-workers-union%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:100px;margin-top:5px;"></iframe>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.struggle.com.pk/interview-chariman-pwd-workers-union/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>مظفرآباد میں یوم مئی کے موقع پر ریلی</title>
		<link>http://www.struggle.com.pk/may-day-in-muzaffarabad/</link>
		<comments>http://www.struggle.com.pk/may-day-in-muzaffarabad/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 13 May 2013 11:30:03 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[May Day]]></category>
		<category><![CDATA[Reports]]></category>
		<category><![CDATA[JKNSF]]></category>
		<category><![CDATA[Muzaffarabad]]></category>
		<category><![CDATA[PTUDC]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.struggle.com.pk/?p=6214</guid>
		<description><![CDATA[[رپورٹ: کامریڈ جمیل] یکم مئی کو مزدورں کے عالمی دن کے موقع پر مظفرآباد میں جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن اور پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپےئن کے زیر انتظام غربت بیروزگاری مہنگائی، لوڈ شیڈنگ دہشت گردی، طبقاتی استحصال اور سرمایہ دارنہ نظام کے خلاف عظیم الشان احتجاجی ریلی دن 10 بجے مظفرآباد اپر اڈہ سے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fmay-day-in-muzaffarabad%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:100px;margin-top:5px;"></iframe><p class="Urdu">[رپورٹ: کامریڈ جمیل]<br />
یکم مئی کو مزدورں کے عالمی دن کے موقع پر مظفرآباد میں جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن اور پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپےئن کے زیر انتظام غربت بیروزگاری مہنگائی، لوڈ شیڈنگ دہشت گردی، طبقاتی استحصال اور سرمایہ دارنہ نظام کے خلاف عظیم الشان احتجاجی ریلی دن 10 بجے مظفرآباد اپر اڈہ سے نکالی گئی۔ ریلی اپر اڈہ یونیورسٹی روڈ سی۔ ایم۔ ایچ روڈ سے ہوتی ہوئی نیلم پل چوک پہنچی جہاں پر پی۔ ڈبلیو۔ ڈی ورکرز یونین کے محنت کشوں نے ریلی کا شاندار استقبال کیا۔ نیلم پل سے دوبارہ سینکڑوں مزدورں اور طلباء کی کثیر تعداد نے NSF، PWD ورکرز یونین اور PTUDC کی قیادت میں اپر اڈہ کی طرف مارچ کیا۔ دوران ریلی کامریڈزکے انقلابی نعروں ’’سرخ ہے سرخ ہے ساراعالم سرخ ہے‘‘، ’’خون شکاگو کے مزدورں سے ساراعالم سرخ ہے‘‘، ’’شکاگو کے مزدورں کی جدوجہد کو سرخ سلام‘‘، ’’انقلاب انقلاب سوشلسٹ انقلاب۔ ازم ازم سوشلزم‘‘، ’’آٹا مہنگا، تعلیم مہنگی، روزگار مہنگا، بجلی مہنگی، علاج مہنگا، پٹرول مہنگا‘‘، ’’ورلڈ بنک مردہ باد، آئی ایم ایف مردہ باد‘‘، ’’سرمایہ کاری مردہ باد‘‘، ’’چھین کے لے گا ہرانسان روٹی کپڑا اور مکان‘‘، ’’PWD کے ملازمین کے مطالبات پورے کرو‘‘ اور ’’سوشلسٹ انقلاب زندہ باد‘‘ کے واشگاف نعروں سے پورا شہر گونج اٹھا، اس دوران مزدوروں اور طلباء نے ہتھوڑا درانتی کے سرخ پرچم اٹھا رکھے تھے۔ اپر اڈہ واپس پہنچنے پر ریلی ایک بڑے جلسہ عام کی شکل اختیار کرگئی جہاں پر دیہاڑی دار مزدورں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے راجہ ضمیر احمد (مرکزی سینئر نائب صدر PWD ورکر ز یونین)، راجہ اشفاق (مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل ورکر زیونین)، کامریڈ راشد شیخ (مرکزی صدر JKNSF)، ارشاد احمد اعوان ضلعی (جنرل سیکرٹری PWD ورکرز یونین)، ایکٹا کے مرکزی رہنما کامریڈ امجد بٹ، فیصل چک (جنرل سیکرٹری ضلع ہٹیاں بالا)، چوہدری شفیق (چیرمین ہٹیاں بالاورکرز یونین)، کامریڈ خواجہ جمیل ( ضلعی صدرJKNSF)، PTUDC کے آرگنائزر مظفرآباد کامریڈ نوید اسحاق، ظہیر عباسی (مرکزی آفس سیکرٹری ورکرز یونین)، YDA مظفرآبادکے رہنما کامریڈ نجیب اور دیگر نے کہا کہ شکاگو کے مزدورں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر یہ ثابت کیا تھا کہ طبقاتی جدوجہد ناقابل مصالحت ہوتی ہے۔ اس وقت کے محنت کشوں نے جن مسائل کی بنیاد پر جدوجہد کو آگے بڑھایا تھا آج محنت کش طبقے کو اس سے بھی زیادہ مسائل کا سامنا ہے جن کا سرمایہ دارنہ نظام کے اندر رہتے ہوئے کسی قسم کا حل ممکن ہی نہیں ہے۔ پوری دنیا میں عالمی سرمایہ داری کے زوال کے نتیجہ میں محنت کشوں کی مشکلات میں اضافہ، تنخواہ میں کمی، کٹوتیاں، مہنگائی، بیروزگاری، معیار زندگی میں گراوٹ اور بھوک میں اضافہ ہوتے ہوئے ہوئے دیکھائی دیتا ہے۔ انفراسٹرکچر کی زبوں حالی میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ حکمرانوں کے تمام دعوئے جھوٹی لفاظی پر مبنی ہے کیونکہ نظام میں اصلاحات کی کوئی گنجائش نہیں۔ اپنے آپ کو ’’دنیا بھر کے محنت کشو ایک ہوجاؤ‘‘کی بنیاد پر اکٹھا کرتے ہوئے واضح جنگ کا اعلان کریں۔ PWD ورکرز یونین کے عہدیدران نے اپنے ٹائم سکیل اور عارضی ملازمین کی مستقلی اور دیگر مطالبات کی بنا پر 20 مئی سے تادم مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان کیا اور عزم کیا کہ جس پرچم تلے آج ہم سب اکٹھے ہوئے ہیں اسی پرچم تلے ہم اپنی مانگوں کو حاصل کرکے رہیں گے۔ سیاسی حکمرانوں نے ہم سے بار بار وعدے اور قسمیں دے کر تحریک کو زائل کیامگر اب ہم بھی شکاگو کے محنت کشوں کی قربانی کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم حتمی فتح تک پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اس تحریک کو دیگر ملازمین کی یونین کے ساتھ جوڑتے ہوئے عام ہڑتال کی کال دیں گے۔ دیگر مقررین نے PWD کی یونین کے محنت کشوں کے اس عزم کو سراہتے ہوئے مکمل اظہار یکجہتی کا اعلان کیا اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ جلسے میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض ساجد مغل (ڈپٹی جنرل سیکرٹری PWD ورکرز یونین) نے انجام دئیے۔</p>
<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fmay-day-in-muzaffarabad%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:100px;margin-top:5px;"></iframe>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.struggle.com.pk/may-day-in-muzaffarabad/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>عوامی مفادات سے عاری انتخابات</title>
		<link>http://www.struggle.com.pk/election-devoid-of-social-content/</link>
		<comments>http://www.struggle.com.pk/election-devoid-of-social-content/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 11 May 2013 04:59:23 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[ ]]></category>
		<category><![CDATA[Elections 2013]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.struggle.com.pk/?p=6209</guid>
		<description><![CDATA[[تحریر: لال خان] آج کے عام انتخابات کا پاکستان کے محروم طبقات کی خواہشات اور ان کے مفادات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت سماج میں موجود طبقاتی تقسیم و تضادات پر بات کرنے کو تیار نہیں۔ اس استحصالی نظام کے رکھوالے سیاست دان طبقاتی کشمکش سے اس حد تک خوفزدہ ہیں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Felection-devoid-of-social-content%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:100px;margin-top:5px;"></iframe><p class="Urdu">[تحریر: لال خان]<br />
<a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/Pakistan-election-2013-cartoon-3.jpg" target="_blank"><img class="alignleft" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/Pakistan-election-2013-cartoon-3.jpg" alt="" width="381" height="230" /></a>آج کے عام انتخابات کا پاکستان کے محروم طبقات کی خواہشات اور ان کے مفادات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت سماج میں موجود طبقاتی تقسیم و تضادات پر بات کرنے کو تیار نہیں۔ اس استحصالی نظام کے رکھوالے سیاست دان طبقاتی کشمکش سے اس حد تک خوفزدہ ہیں کہ کوئی بھی بڑی پارٹی انتخابی مہم میں خود کو ’غریبوں کی پارٹی‘ کہنے کی جرات بھی نہیں کرسکی۔ مذہبی جماعتیں اور دایاں بازو جارحانہ انداز اپنائے ہوئے ہیں اور اسلامی بنیاد پرست انتخابی مہم میں دہشت کا بازار گرم کیے خون کی ہولی کھیل رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جماعتِ اسلامی کے سربراہ منور حسن نے کراچی میں جناح کے مزار پر ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خود کو لبرل کہلانے والوں کو اقلیت قرار دے دینا چاہیے۔ اس بیان نے جماعتِ اسلامی کے عزائم کو مزید واضح کر دیا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر قائم اس ریاست کے ہر شہری سے قرونِ وسطیٰ سے بھی پہلے کے مذہبی قوانین کی زبر دستی پاسداری کروائی جائے گی۔ دائیں بازو کی مسلم لیگ (ن) بھی بنیاد پرست مذہبی رجحانات کی حامل ہے، اس کے بنیاد پرست تنظیمو ں قریبی تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ اگرچہ اس جماعت کے کچھ لیڈر خود کو لبرل بنا کر پیش کرتے ہیں لیکن اس’ ظاہری لبرل ازم ‘سے ان کے اندر کا ملا چھپ نہیں سکتا۔ عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریکِ انصاف بھی اسلامی انتہا پسندوں کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے۔ درمیانے طبقے کے نوجوانوں اورفیشن ایبل خواتین کی نمائندگی کرنے والی یہ جماعت نظریاتی اور سماجی طور پر تضادات کا ملغوبہ ہے جس سے اس کے نازک وجود اورداخلی عدم استحکام کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتاہے۔ عوامی نیشنل پارٹی بنیادی طور پر پشتون قوم پرست جماعت ہے جو کچھ عرصے سے امریکی سامراج کی اتحادی بن کر طالبان کے خلاف خونریز لڑائی میں شامل ہے۔ دہشت گردی کے کئی حملوں میں اس کے لیڈران اور کارکنان ان رجعتی جنونیوں کے ہاتھوں ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔ ایم کیو ایم ایک لسانی جماعت ہے جو 1947ء کی خونی تقسیم کے بعد ہندوستان سے آئے اردو بولنے والے مہاجرین میں مقبول رہی ہے۔ یہ پارٹی گزشتہ بیس برس سے فوجی اور سول حکومتوں میں اقتدار کا حصہ رہی ہے۔ اس تنظیم میں نیم فاشسٹ رجحانات موجود ہیں اور کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں میں مسلح ونگ اور طاقت کے زور پر اس کا غلبہ ہے۔ فی الوقت اس کی سماجی بنیادیں بڑی حد تک کمزور ہو چکی ہیں لیکن ریاستی اقتدار اور مسلح غنڈوں کے سہارے اپنا تسلط قائم رکھنے کی کوشش میں ہے۔ ایم کیو ایم خود کو سیکولر اور لبرل قرار دیتی ہے اور کراچی میں جاری قتل و دہشت گری کا اہم فریق ہونے کے باوجود خود کو جارح کی بجائے مجروح بنا کر پیش کرتی رہی ہے، یہ ایم کیو ایم کا پرانا طریقہ واردات ہے۔ کچھ عرصے قبل کراچی میں جاری بھتہ اورقبضہ مافیا کی باہمی لڑائی میں ایک نئے فریق کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ طالبان ہیں، جن سے کراچی میں نہ صرف ایم کیو ایم اور اے این پی بلکہ غنڈہ گرد عناصر کی سرپرستی کرنے والے دوسرے سیاسی عناصر کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔<br />
<a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/Pakistan-election-2013-cartoon-1.jpg" target="_blank"><img class="alignleft" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/Pakistan-election-2013-cartoon-1.jpg" alt="" width="381" height="199" /></a>جمعیتِ علماءِ اسلام ایک اور فرقہ وارانہ مذہبی پارٹی ہے جو مذہبی دقیانوسیت اور امریکی سامراج کے درمیان موقع پرستی کا کھیل رچا کر جمہوریت کے نام پر ریاستی اقتدار میں شراکت کے ذریعے لوٹ مار میں زیادہ سے زیادہ حصہ وصول کرنے میں مگن ہے۔ ان کی انتخابی ریلیوں پر بھی حملے ہوئے ہیں جس کے پیچھے دہشت گرد گروہوں کی آپسی چپقلش کارفرما ہے۔ اس کے علاوہ درجنوں آزاد امیدوار ہیں جو اپنی سیٹوں کے لیے سب سے اونچی بولی کے منتظر رہیں گے۔ کالے دھن کی معیشت میں حصہ دار سرکاری اور غیر سرکاری آقا انہیں اپنی لوٹ مار میں معاون سیاسی جماعتوں کے لئے منہ بولے دام دے کر خریدیں گے۔ در حقیقت یہ تمام لبرل اور دائیں بازو کی جماعتیں حکمران طبقے کے مختلف حصوں اور دھڑوں کی نمائندگی کر تی ہیں جو اس ملک کی گھٹتی ہوئی دولت اور وسائل میں زیادہ سے زیادہ حصہ حاصل کرنے کے لیے مسلسل بر سرِ پیکار رہتے ہیں۔<br />
روایتی طور پر محنت کش طبقات اور غریبوں کی نمائندہ سمجھی جانی والی پاکستان پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت نے خصوصاً گزشتہ پانچ سالہ دورِ حکومت میں بڑی حد تک اپنے غریب دوست ہونے کے مبہم سے تاثر کو بھی ختم کر ڈالا ہے۔ قیاد ت کولاحق خطرات کی وجہ سے پیپلزپارٹی نے جلسے جلوسوں کی کوئی روایتی انتخابی مہم نہیں چلائی۔ اس کی انتخابی مہم الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں اربوں روپے کے اشتہارات تک محدود رہی ہے۔ انتخابی مہم پر بے پناہ اخراجات کرنے والے کچھ ’’کاروباری حضرات‘‘اس کے دوبارہ اقتدار میں آنے کی صورت میں ملنے والی مراعات اور لوٹ مار کے مواقع پر نظر لگائے بیٹھے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی میڈیا مہم بھی ٹھوس معاشی و سیاسی پروگرام کی بجائے نوحوں، مرثیوں اور نان ایشوزپر مشتمل ہے۔ آئینی ترامیم، سٹاک مارکیٹ کا ابھار، خیراتی پروگرام اورگزشتہ حکومت کی جانب سے کئے گئے دوسرے سطحی اقدامات سے عوام کا کیا تعلق ہے؟ انقلابی سوشلزم کے نظریے کی بنیاد پر قائم ہونے جماعت نے انتخابی منشور سے ’سوشلزم‘کی لفاظی کو بھی حذف کردیا ہے۔</p>
<div class="mceTemp">
<dl id="" class="wp-caption alignleft" style="width: 260px;">
<dt class="wp-caption-dt"><a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/10/Manzoor-Watto-with-Zia-ul-Haq-and-Nawaz-Sharif.jpg" target="_blank"><img src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2012/10/Manzoor-Watto-with-Zia-ul-Haq-and-Nawaz-Sharif.jpg" alt="" width="250" height="442" /></a></dt>
<dd><span style="font-size: medium;">پنجاب میں پیپلز پارٹی کا کرتا دھرتا منظور وٹو، بھٹو کے قاتل ضیا الحق اور نواز شریف کے ساتھ خوشگوار موڈ میں</span></dd>
</dl>
</div>
<p class="Urdu">ذوالفقار علی بھٹو کے قاتل ضیاالحق کی باقیات کے ساتھ سیاسی اتحاد اور پارٹی کے اہم عہدوں پر ان عناصر کو براجماں کر کے پیپلز پارٹی کی قیادت نے ثابت کردیا ہے کہ وہ پارٹی کے بنیادی سوشلسٹ منشور سے انحراف کر کے موقع پرستی کی آخری حدوں تک چلی گئی ہے۔ حالیہ انتخابات میں اس قیادت نے ریاست کی ایما پرپارٹی کے نظریاتی کارکنان کے خلاف زہریلی مہم کے طوراانہیں نتخابی ٹکٹ دینے سے صاف انکار کر دیا۔ ان پارٹی کارکنان کی جیت کے روشن امکانات موجود تھے۔ اس کی اہم ترین مثال حلقہ این اے 35 ملاکنڈ سے امید وار غفران احد، این اے 257 ملیر کراچی سے ریاض حسین لُنڈ اور این اے 150 سے الیاس خان ہیں۔ غفران احد ملاکنڈ کے ضلع ناظم رہے ہیں اورانہوں نے 2009ء کی خانہ جنگی میں عوام کی خدمت کے دن رات ایک کئے رکھا۔ ہر مقامی شہری، طالبان اور فوجی جارحیت کے خلاف ان کی جدوجہد کا گواہ ہے۔ ریاض لُنڈ کے حلقے میں 2002ء میں پیپلز پارٹی کا ووٹ 17000 تھا جسے ریاض لُنڈ 2008ء میں بڑھا کر 47000 تک لے گئے۔ 2008ء کے انتخابات میں ایم کیو ایم کے خلاف ریاض حسین لُنڈ کی شاندارانتخابی کمپیئن آج بھی ملیر کے عوام کے ذہنوں پر نقش ہے۔ الیاس خان نے 1993ء کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کی نشست پر27000 ووٹ حاصل کیے اور اس مرتبہ حلقہ این اے150 میں وہ فیورٹ امیدوار تھے۔ یوں پیپلز پارٹی پر مسلط اس رجعتی ٹولے نے اس سخت ترین الیکشن میں پارٹی کے اندر انقلابی سوشلزم کے نظریات کو دبانے کے لئے قومی اسمبلی کی تین اہم نشستوں کی بلی چڑھانے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ ایسے کئی اور کارکنان موجود ہیں جنہوں نے پارٹی قیادت پر براجمان ٹولے کے ہاتھوں پارٹی کے سوشلسٹ نظریات سے وفاداری کی سزا پائی ہے۔<br />
ان انتخابات سے کوئی تبدیلی نہیں آنے والی۔ بوسیدہ پاکستانی سرمایہ داری بکھرتی جا رہی ہے۔ آنے والے وقت میں سماجی اور معاشی بحران بد تر ہو گا جس سے مجبور عوام کی اذیت اور تکالیف میں اضافہ ہو گا۔ جب تمام راستے بند ہو جائیں گے تو محنت کش عوام اور نوجوانوں کے پاس سوشلسٹ انقلاب کے سوا کوئی اور متبادل نہیں ہو گا۔</p>
<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Felection-devoid-of-social-content%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:100px;margin-top:5px;"></iframe>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.struggle.com.pk/election-devoid-of-social-content/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>بورژوا پارلیمانیت، طبقاتی شعور اور انقلابی لائحہ عمل</title>
		<link>http://www.struggle.com.pk/bourgeois-parlimentarianism-and-marxism/</link>
		<comments>http://www.struggle.com.pk/bourgeois-parlimentarianism-and-marxism/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 09 May 2013 15:02:04 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Marxist Education]]></category>
		<category><![CDATA[ ]]></category>
		<category><![CDATA[Capitalism]]></category>
		<category><![CDATA[Class Struggle]]></category>
		<category><![CDATA[Democracy]]></category>
		<category><![CDATA[Elections 2013]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistan]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.struggle.com.pk/?p=6183</guid>
		<description><![CDATA[’’اگر ہم عام سوچ اور تاریخ کا مذاق نہیں اڑا رہے تو پھر یہ واضح ہے کہ جب تک مختلف طبقے وجود رکھتے ہیں ہم خالص ’’جمہوریت‘‘ کی بات نہیں کرسکتے، سرمایہ دارانہ جبر کے تحت یہ ’’جمہوریت‘‘ محدود، اپاہج، جھوٹی اور منافقانہ رہتی ہے جو امیروں کے لئے ایک جنت اور استحصال زدہ غریبوں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fbourgeois-parlimentarianism-and-marxism%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:100px;margin-top:5px;"></iframe><p class="Urdu"><span style="color: #ff0000;">’’اگر ہم عام سوچ اور تاریخ کا مذاق نہیں اڑا رہے تو پھر یہ واضح ہے کہ جب تک مختلف طبقے وجود رکھتے ہیں ہم خالص ’’جمہوریت‘‘ کی بات نہیں کرسکتے، سرمایہ دارانہ جبر کے تحت یہ ’’جمہوریت‘‘ محدود، اپاہج، جھوٹی اور منافقانہ رہتی ہے جو امیروں کے لئے ایک جنت اور استحصال زدہ غریبوں کے لئے ایک پھندہ، ایک لعنت، ایک دھوکہ ہوتی ہے۔ ‘‘ (ولادیمیر لینن، 10اکتوبر1918ء)</span></p>
<p class="Urdu">تحریر :پارس جان<br />
<a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/mythdemocracy.gif" target="_blank"><img class="alignleft" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/mythdemocracy.gif" alt="" width="341" height="267" /></a>ہم اس دنیا کو بدلنا چاہتے ہیں۔ اس کی تمام تر غلاظت، جعلسازی اور تعفن کو ختم کر دینا چاہتے ہیں۔ استحصال، جبر اور بربریت سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ایک پر امن، خوشحال اور خوشگوار معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ سب کیسے ممکن ہے اور اس کے لیے ہمیں کیا اقدامات کرنے ہوں گے؟ہم ایک خوبصورت اور تابناک دنیا کا تصور کر سکتے ہیں۔ با وقار اور قابلِ ستائش زندگی کا خواب دیکھ سکتے ہیں۔ اس خوابوں کی دنیا کے خاکے میں اپنی مرضی کے رنگ بھر سکتے ہیں۔ لیکن اس سے ہمارے ارد گرد موجود بدصورت اور حقارت آمیز دنیا تبدیل نہیں ہوجاتی بلکہ وہ مزید ناقابلِ برداشت ہوتی چلی جاتی ہے۔ ہمارے پاس دو راستے ہیں۔ ایک نسبتاً آسان لیکن بے سود راستہ یہ ہے کہ ہم خود سے یہ طے کر لیں کہ انسانوں کے رہنے کے لائق دنیا کو کیسا ہونا چاہیے۔ پھر اس کے خال و خد متعین کریں اور یہ امید کرنا شروع کر دیں کے ایک دن سب انسان اس پر متفق ہو کر ایسی دنیا کو تشکیل دیں گے اور ہم کامیاب و کامران ہو جائیں گے۔ دوسرا قدرے مشکل مگر کار آمد طریقہ کار یہ ہے کہ ہم اپنی خواہشات اور تصورات سے ماوراارد گرد موجود حقیقی دنیا کو سمجھیں اور اس کے اسرا رو رموز کا ادراک حاصل کریں، اس کے تاریخی پسِ منظر کا جائزہ لیں اور پھر دیکھیں کہ اسے ایک بہتر دنیا میں کس طریقے سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ ماحول، ثقافت، اقدار، رسو م و رواج اور عمومی نفسیات کے محرکات کو جان کر ہی ہم انہیں ایک بہتر دنیا کی جدوجہد کے لیے راغب کر سکتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کے لیے بورژوار پارلیمانی جمہوریت، ٹریڈ یونینوں اور اس نظام کے دیگراداروں کی طرف ہمارے رویے کا فیصلہ انہی بنیادوں پر ہو سکتا ہے۔ ترقی یافتہ شعور بعض اوقات بہت ہٹ دھرم بھی ہو سکتا ہے اور سماجی تبدیلی کے عمل میں اس کے حسِ توازن کا کڑا امتحان ہونا ناگزیر ہوتا ہے۔<br />
انسانی تاریخ ہر رنگ، ذائقے اور چال چلن سے آشنا ہے۔ یہ طویل دورانیوں کے ادوار اور ان کی کوکھ میں پلنے والے نئے امکانات کے مابین پیچیدہ اور باہمی کشمکش اور اس کشمکش کی مسلسل ایک دوسرے میں بدلتی ہوئی حالتوں کے امتزاج پر مبنی ہے۔ مختلف ادوار میں مختلف نظام اور بسا اوقات مختلف نظاموں کے ملغوبے مختلف شکلوں میں غالب رہے ہیں۔ ساری تاریخ تضادات سے عبارت ہے۔ بظاہر انتہائی سادہ اور معمول کے حالات میں بھی زندہ قوتوں کا توازن بہت حساس ہو سکتا ہے جو ایک دم اپنے الٹ میں بدل کر ساری صورتحال کو یکسر تبدیل کر سکتا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات نہایت تیز ترین سماجی حرکت میں بھی حقیقی بنیادی تبدیلی کے امکانات مخدوش ہوتے ہیں۔ انسانی شعور کی ہمیشہ یہ کاوش رہی ہے کہ وہ ان تضادات کو کسی سادہ ترین فارمولے کے تابع کر لے اور سب کچھ بآسانی منظم اور مربوط کیا جا سکے، لیکن تضادات ہیں کہ مسلسل فروغ پاتے اور نئی نئی شکلیں اختیار کرتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ انسانی کاوشیں عام طور پر بہت بنیادی اور اہمیت کے حامل مراحل میں معاملہ فہمی کے حوالے سے سنگین غلطیوں کے ارتکاب کا باعث بن جاتی ہیں۔ ان غلطیوں سے اجتناب کا واحد قابلِ عمل طریقہ یہ ہے کہ تضادات سے مفر حاصل کرنے کی بجائے تضادات کو حقیقی اور لازمی امر مان کر ان کے پسِ پردہ عوامل اور محرکات کو تلاش کرنے کی سنجیدہ اور مخلصانہ کوشش کی جائے۔<br />
کسی بھی عہد میں معاشی اور سیاسی نظاموں کے خال و خد کا تعین پیداواری قوتوں اور سماجی رشتوں کے تال میل سے ہوتا ہے۔ تاریخ میں قدیم اشتراکیت کے بعد طبقاتی نظام نے غلام داری سے سرمایہ داری کے حالیہ مرحلے تک مختلف مراحل طے کیے لیکن ہر نظام تاریخ کے ایک ہی مرحلے میں مختلف خطوں اور ممالک میں مختلف شکلوں میں موجود رہا ہے۔ اس لیے اس ناہموار اور مشترکہ کردار کی حامل تاریخی ترقی کو کسی مشینی طرزِ فکر کے ذریعے پرکھا اور سمجھا نہیں جا سکتا۔ کوئی بھی نظام اور اس کی سیاست متروک ہو جانے کے بعد بھی ایک لمبے عرصے تک سماج پر حاوی اور اقتدار پر براجمان رہ سکتی ہے۔ مخصوص معروضی اور موضوعی عوامل کی غیر موجود گی میں ایک نظام سے دوسرے کی طرف تبدیلی کے عبوری دور غیر اعلانیہ طور پراور نا قابلِ یقین حد تک طوالت اختیار کر سکتے ہیں۔ اس عبوری دور میں ماضی اور مستقبل زمانہ ءِ حال کے میدانِ کار زار میں برسرِ پیکار رہتے ہیں۔ ایسے میں اس متروک نظام کی اخلاقیات، رسوم و رواج، اقدار اور سماجی نفسیات کی نئے اور ممکنہ طور پر آئندہ کے حکمران نظام کے طرزِ فکر اور مادی بنیادوں کے ساتھ معرکہ آرائی ہوتی رہتی ہے جس میں توازن مسلسل بدلتا رہتا ہے۔ اس بدلتے ہوئے توازن کے ساتھ سماجی شعور بھی ہچکولے کھاتا رہتا ہے۔ مستقبل کی نمائندہ قوتوں کے لیے یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ سماجی شعور کے ساتھ اپنے آپ کو اس طرح نتھی کر لیں کہ اس کی اطاعت کر نے کی بجائے اس کی رہنمائی کرنے کا شرف حاصل کر سکیں۔<br />
کامریڈ لینن نے ایک دفعہ کہا تھا کہ ’سیاست مجتمع شدہ معیشت ہی ہوتی ہے ‘۔ جمہوریت سیاسی تاریخ کے لیے کوئی جدید لفظ نہیں ہے بلکہ یہ خود سرمایہ دارانہ نظام سے ہزاروں سال پرانا ہے۔ ہر معاشی نظام نے اپنے لیے ایسا موافق سیاسی نظام رائج کیا جس کے ذریعے وہ اپنی عملداری میں سیر حاصل اضافہ کر سکے۔ جوں جوں زیادہ سے زیادہ قدرتی وسائل انسانوں کے تصرف میں آتے چلے گئے، نظام اتنے ہی پیچیدہ ہوتے رہے اورسیاسی عمل میں چھوٹی سی اقلیت کی نسبت زیادہ لوگوں کی شمولیت کی ضرورت محسوس ہوتی رہی۔ مسلسل جدوجہد کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگ سیاسی عمل کا حصہ بنتے رہے اور جمہوریت کو نئے مفہوم اور شکلیں عطا کرتے رہے۔ صنعتی انقلاب کے بعد پیداواری قوتوں کو ملنے والی مہمیز نے سرمایہ دارانہ نظام اور بورژوا جمہوریت کے تصور کو جنم دیا۔ یہ قرونِ وسطیٰ کی جمہوریت کی نسبت بہت ترقی یافتہ قدم تھا، اسی لیے اس تصور کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔ یہ اس سے قبل کی انسانی تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب تھالیکن اپنی معاشی محدودیت کی وجہ سے یہ جمہوریت بھی آخری تجزیے میں مٹھی بھر سرمایہ داروں اور اجارہ داریوں کی نمائندہ بن کر رہ گئی۔ اس جمہوریت کو حقیقی مفہوم عطا کرنے کے لیے عوامی اور اشتراکی جمہوریت کے تصور نے فروغ پانا شروع کیا۔<br />
کارل مارکس نے اسے اس کی معاشی شکل و صورت کے ساتھ سائنسی بنیادیں عطا کیں اور یہ کمیونسٹ نظریے کی شکل میں بورژوا جمہوریت کے سیاسی نظام پر ایک عفریت کی شکل میں غالب آنا شروع ہوئی۔ سرمایہ داری کے بڑھتے ہوئے اور مسلسل بے قابو ہوتے ہوئے تضادات کی وجہ سے محنت کش عوام کی تحریکیں اور انقلابات معمول بننا شروع ہو گئے۔ پیرس کمیون کی ناکامی کے بعد روس کے کامیاب تجربے نے کمیونسٹ نظریات کو ایک وبا کی شکل میں سارے براعظموں میں پھیلا دیا۔ آبادی کی اکثریت سرمایہ دارانہ نظام کے ظلم و ستم کا شکار ضرور تھی مگر نئے سیاسی نظام اور تصورات کو ان کے شعور کا حصہ بننے کے لیے مختلف واقعات کی میزان پر تلنا بہت ضروری تھا۔ ایسے میں لوگ بورژوا جمہوریت کے ساتھ چمٹے رہ کر اشتراکی جمہوریت کے تصور کو سمجھنا اور اپنانا چاہتے تھے کیونکہ یہ ان کے لیے قدرے آسان راستہ تھا۔ ان کے آبا ء و اجداد کی ہزاروں سالہ تاریخ کا یہ آزمودہ اور سود مند فارمولہ بھی تھا۔ اس لیے یہ ضروری تھا کہ بورژوا جمہوریت سے منسلک رہتے ہوئے اس سے زیادہ سے زیادہ اصلاحات اور عوامی فلاح و بہبود کے مطالبات کیے جائیں اور اس کی تاریخی نا اہلی کو عوامی شعور سے روشناس کراتے ہوئے ایک سوشلسٹ متبادل پیش کیا جائے اور محنت کشوں کی اکثریت کو جیتا جا سکے۔ یہی وجہ تھی کہ لینن اور ٹراٹسکی نے بورژوا جمہوریت کو کالعدم قرار نہ دیا بلکہ بورژوا پارلیمان اور دستور ساز اسمبلی میں بھی مداخلت کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ لیکن سوویت ریاست کی سٹالنائزیشن اور مطلق العنانی شکل اختیار کر جانے اور پھر منہدم ہو جانے کی وجہ سے پھر سرمایہ دارانہ جمہوریت کی طرف آبادی کی اکثریت کا متوجہ ہونا اور محنت کشوں کی قیادت کا بھی تذبذب کا شکار ہو جانا ناگزیر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج سو ویت یونین کے انہدام کے دو عشرے گزر جانے کے بعد بورژوا پارلیمانیت کا کردار اور اس میں مداخلت کا سوال انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔<br />
سرمایہ داری نظام اپنی طبعی عمر پوری کر چکا ہے لیکن اس کے باوجود نہ صرف مسلط ہے بلکہ اس کی وحشت اور درندگی میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ صحیح معنوں میں ایک زندہ سماج پر مردہ نظام کی حکمرانی ہے۔ اس مردار نظام کی معیشت اپنی تاریخ کے شدید ترین بحران میں پھنس چکی ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں اس نظام کے خلاف تحریکوں میں شدت آتی چلی جا رہی ہے۔ لاطینی امریکہ اور عرب کے بعد اب یورپ بھی تحریکوں اور انقلابات کا مرکز بنتا چلا جا رہا ہے۔ لیکن شومی قسمت کہ کسی بھی جگہ عوام کی رہنمائی کرنے کے لیے کوئی انقلابی قیادت موجود نہیں تھی جو سائنسی نظریات سے مسلح ہو۔ محنت کشوں کی روایتی قیادتیں بھی سرمایہ دارانہ جمہوریت اور پارلیمانیت کو آگے بڑھنے کا آخری راستہ تصور کر چکی ہیں۔ وہ تاریخ کے خاتمے کے رجعتی نظریے پر شعوری یا لاشعوری طور پر ایمان لا چکی ہیں۔ ان میں سے اکثریت کا یہ خیال ہے کہ بورژوا پارلیمان کے ذریعے اقتدار میں آ کر سرمایہ داری نظام میں محنت کش طبقے کے حق میں اصلاحات کی جا سکتی ہیں۔ چند ایک ممالک میں اقتدار نام نہاد سوشلسٹوں کو مل بھی چکا ہے جن میں فرانس سرِ فہرست ہے اور باقی یورپی ممالک میں بھی بایاں پلڑا زیادہ بھاری ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ جہاں جہاں بھی الیکشن ہوں گے وہاں پہلے کی نسبت بڑی تعداد میں لوگ سوشلسٹوں یا کمیونسٹوں کو ووٹ دے کر کوشش کریں گے کہ سوشلسٹ قیادتیں سرمایہ داری کے اژدہے کا لقمہ بننے سے ان کو بچائیں۔ لیکن قیادتیں سرمایہ دارانہ پالیسیوں کو ہی نسخہ کیمیا بنا کر پیش کریں گی۔ اس سے پھر دائیں بازو کی رجعت حاوی آ ئے گی اور یوں یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ لیکن یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس کیفیت میں یورپ کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں کوئی حقیقی <a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/IMF-and-Pakistan-cartoon.jpg" target="_blank"><img class="alignleft" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/IMF-and-Pakistan-cartoon.jpg" alt="" width="340" height="303" /></a>مارکسی، لیننی پارٹی موجود ہوتی تو اس کا کیا لائحہ عمل ہوتا؟ اگر یونان اور فرانس (وہ تمام ممالک جہاں سرمایہ دارانہ انقلابات ہوئے) میں بالشویک قیادت اور مارکسی کیڈرز پر مشتمل پارٹی ہوتی تو وہ ضرور انتخابات میں حصہ لیتی لیکن ایک بالکل مختلف مطمعِ نظر کے ساتھ۔ اس لیے نہیں کہ اقتدار میں آ کر IMF، ورلڈ بینک یا دیگر سامراجی اداروں کے معاشی نسخوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے محنت کشوں کے لیے یا مزدور اشرافیہ کے لیے مراعات کی بھیک مانگی جائے بلکہ سیاسی طاقت حاصل کرتے ہوئے سامراجی اثاثوں اور قرضوں کو ضبط کیا جائے، بینکوں اور مالیاتی سرمائے سمیت تمام بڑے صنعتی مراکز اور پیداواری معیشت کو قومی تحویل میں لے کر مزدوروں کے جمہوری کنٹرول میں دیا جا سکے۔ ان نعروں اور پروگرام کے ساتھ انقلابی کیفیت میں بڑی حمایت جیتی جا سکتی ہے۔ یوں سوشلسٹوں کی اکثریت کی حامل بورژوا پارلیمان خود اپنے ہی خاتمے کے اقدامات کرتے ہوئے اپنے آپ کو سوشلسٹ جمہوریہ کی نمائندہ کانگریس میں تبدیل کر دیتی۔ لیکن موجودہ صورتحال میں ایک موضوعی عنصر کی تاریخی میدان سے طویل غیر حاضری مختلف نئے سیاسی تجربات کے وقوع پذیر ہونے کا باعث بن سکتی ہے جن کا تعین واقعات، واقعات اور صرف واقعات ہی کر سکیں گے۔<br />
آئیں اب اس سوال کو پاکستان اور دیگر پسماندہ ممالک کے موجودہ معاشی اور سیاسی حالات کے پسِ منظر میں زیرِ بحث لائیں۔ 2011 ء میں برپا ہونے والا عرب انقلاب انقلابیوں کے لیے بہت توجہ کا مستحق تھا۔ بدقسمتی سے عرب کے کسی بھی ملک میں کوئی سوشلسٹ پارٹی موجود نہیں تھی۔ ان ممالک میں سے زیادہ تر میں صنعتی انفراسٹرکچر نہ ہونے کے برابر ہے۔ بہت سے ممالک میں مطلق العنان بادشاہتیں کئی عشروں سے مسلط تھیں جن میں سے چند ایک کو انقلاب نے اکھاڑ پھینکا اور بعض ممالک میں یہ کشمکش انتہائی خونی کھلواڑ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ایسے میں ان آمریتوں کا اکھاڑا جانا انقلاب کی عظیم کامیابی ہے لیکن تاریخ کے اس مرحلے میں یہ سمجھنا کہ وہاں بورژوا پارلیمانیت کے ذریعے کوئی بھی ایک بنیادی مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ عرب حکمران طبقہ سامراج کا سب سے گماشتہ حکمران طبقہ ہے جس نے اپنی غلیظ اور مکروہ مراعات کے تحفظ کے بدلے میں عرب کے بیش بہا قدرتی وسائل کو سامراجی بھیڑیوں کے ہاتھوں نیلام کر دیا ہے اور وہ سامراجی بھیڑیے اپنے نظام کے تاریخی بحران کے دنوں میں ان وسائل کی لوٹ مار میں آئے روز شدت لانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کی حالت بد سے بدتر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ مصر اور تیونس میں سامراجی بنیاد پرستوں اور فوج کے گٹھ جوڑ سے اپنی لوٹ مار کے تحفظ کی کوششیں کر رہے ہیں لیکن کسی قسم کا استحکام نظر نہیں آ رہا۔ ایسے میں یہ سوچنا <a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/Pakistan-election-manefesto-cartoon.jpg" target="_blank"><img class="alignleft" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/Pakistan-election-manefesto-cartoon.jpg" alt="" width="339" height="280" /></a>بھی جرم ہے کہ سرمایہ دارانہ بنیادوں پر کوئی استحکام لمبے عرصے تک چلے گا اور اس استحکام کے دور میں ایک انقلابی پارٹی عرب کے کسی بھی ملک میں تعمیر ہو کر بالآ خر بورژوا پارلیمان کے ذریعے سوشلسٹ اصلاحات کرتے ہوئے سرمایہ داری کا خاتمہ کرے گی۔ پارلیمان کے انتخابات آئندہ عشرے میں بہت سے عرب ممالک میں بار بار ہوں گے اور ان انتخابات میں متبادل انقلابی اور سوشلسٹ پروگرام پیش کرتے ہوئے عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش ضرور کی جا سکتی ہے لیکن پارلیمان کے ذریعے انقلاب کو حتمی فتح کی منزل تک نہیں پہنچایا جا سکتا۔ مصر اور اسرائیل کا پرولتاریہ خاص طور پر عرب کے انقلاب کا ہراول ہے۔ وہ ایک مارکسی قیادت کی رہنمائی میں پے درپے عام ہڑتالوں کے ذریعے سماج کی سوشلسٹ تبدیلی کے ایک اوزار کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ مگر سرمایہ دارانہ استحکام کے یوٹوپیا میں نہیں بلکہ انہی دشوار گزار حالات کے پر زور تھپیڑوں میں ہی حقیقی انقلابی قوت تیار ہوگی جو بالآخر سرمایہ دارانہ غلاظت کا خاتمہ کرے گی۔<br />
لاطینی امریکہ میں وینزویلا کا گزشتہ 15 سال سے جاری رہنے والا انقلاب ایک تاریخی استثنیٰ کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ جہاں بورژوا ریاست اور اداروں کے ہوتے ہوئے خاطر خواہ سوشلسٹ اصلاحات کی گئیں۔ انقلاب کی سست روی نے بالآخر ان تمام اصلاحات کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ شاویز کی وفات کے بعد ردِ انقلابی قوتوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے جس سے خانہ جنگی کے خطرات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ یہ سوال بہت اہمیت کا حامل ہے کہ عوام کی غیر معمولی سیاسی شرکت کے باوجود انقلاب کی تکمیل کیوں نہیں کی جا سکی ؟زیادہ تر لوگ اسے محض شاویز کی شخصیت اور اس کے کردار کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ معاملہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ شاویز ایک حادثاتی قیادت کی شکل میں نمودار ہوا تھا اور اس کی کوئی بھی فیصلہ کر سکنے کی صلاحیت کا دارومدار محض عوام کی خواہشات پر نہیں تھا بلکہ مادی قوتوں کی ترقی، سماجی تبدیلی کے اوزار کی موجودگی اور بین الاقوامی طور پر طاقتوں کے توازن پر تھا۔ اگر سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد کے مخصوص سیاسی ماحول کے برعکس عالمی تحریکوں اور سوشلسٹوں کی فتح کا عہد ہوتا تو صورتحال بالکل مختلف ہو سکتی تھی۔ اگر شاویز پارلیمانی قراردادوں کے ذریعے سرمایہ داری کے حتمی خاتمے کا اعلان کر بھی دیتا تو تب بھی اس انقلاب کا حتمی فیصلہ سوویتوں اور محنت کشوں کے اداروں میں زندہ طاقتوں کے توازن پر ہی ہوتا۔ یہی وجہ تھی کہ ایک طرف مارکسسٹ تمام انتخابات میں شاویز کی تنقیدی حمایت کرتے ہوئے اس سے زیادہ سے زیادہ سوشلسٹ اصلاحات اور سرمائے، بینکوں، میڈیا اور سامراجی اثاثوں کی مکمل ضبطگی کا مطالبہ کرتے رہے اور ساتھ ساتھ وہ انقلابی اوزار بھی تیار کرنے کی کوشش کرتے رہے جوایک سوشلسٹ ریاست کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا۔<br />
<a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/Pakistan-election-candidate-and-common-man-cartoon.jpg" target="_blank"><img class="alignleft" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/Pakistan-election-candidate-and-common-man-cartoon.jpg" alt="" width="335" height="276" /></a>پاکستان میں بھی آ ج کل انتخابات کا بہت شور ہے۔ ان انتخابات کو میڈیا کے ذریعے تبدیلی کی نوید بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بھی کتنا بڑا مضحکہ ہے کہ تمام امیدواروں کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں اور کسی کو بھی سو فیصد یقین نہیں کہ انتخابات ہوں گے بھی یا نہیں لیکن سماعتوں میں زہر گھولنے والا ایک بیہودہ شور ہے کہ ’تبدیلی آ رہی ہے، تبدیلی آ رہی ہے‘۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام کی اکثریت ان انتخابات سے بالکل لاتعلق ہے اور سیاسی بے حسی اپنی انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کے بعد محنت کشوں کی روایتی پارٹی کا پہلا اتنا طویل سیاسی ایکسپوژر ہوا ہے۔ لوگ پیپلز پارٹی کی پالیسیوں سے مایوس ہو کر سیاسی طور پر گوشہ نشین ہو چکے ہیں۔ لیکن اسی مایوسی میں بغاوت کے آثار بھی وقتاً فوقتاً اپنی جھلک دکھاتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکمران بھی اس سیاسی بیگانگی سے خوفزدہ ہیں۔ ریاست کے اداروں اور اس نظام سے بد اعتمادی خود حکمران طبقے، ریاستی اداروں اور ان کے سامراجی آقاؤں کی نیندیں اڑا رہی ہے۔ وہ خود یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ نظام ناکام نہیں ہوا ہے۔ حکمران طبقے سے غلطیاں ضرور ہوئی ہیں مگر اب ان غلطیوں کی تلافی کا وقت آ رہا ہے۔ بدعنوانی کے خلاف شور وغل کیا جا رہا ہے جیسے اب سب توبہ تائب ہو جائیں گے۔ انتخابی اصلاحات کے ناٹک رچائے جا رہے ہیں کہ جیسے بہت شفاف انتخابات ہونے والے ہیں تاکہ لوگ آئیں اور انتخابی عمل میں اپنے غم و غصے کو زائل کر دیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے فروعی اور غیر ضروری انتخابات میں انقلابی قوتوں کو کیا دلچسپی ہو سکتی ہے؟<br />
پاکستان کی 66 سالہ تاریخ میں یہاں صرف ایک بار ایسے انتخابات ہوئے تھے جن کو نسبتاً شفاف قرار دیا جا سکتا تھا۔ اور اس میں پیپلز پارٹی نے ایک انقلابی سوشلسٹ پروگرام پیش کر کے ایک بھاری مینڈیٹ حاصل کیا تھا۔ لیکن اس شفافیت کی وجہ کوئی بورژوا اصلاحات نہیں تھیں بلکہ 68-69 ء کا عظیم انقلاب تھا۔ اگر پیپلز پارٹی ایک حقیقی سوشلسٹ پارٹی ہوتی تو اس منشور پر عمل کیا جا سکتا تھا۔ لیکن اس سے پہلے ایک بات کو ملحوظِ خاطر رکھنا بہت ضروری ہے کہ اگر پیپلز پارٹی ایک حقیقی بالشویک پارٹی ہوتی (جو وہ نہ کبھی تھی، نہ ہے اور نہ ہو سکتی ہے) تو 70 ء کے انتخابات سے پہلے ہی سرمایہ داری کا خاتمہ کیا جا سکتا تھا اور بورژوا پارلیمانیت کے ذریعے نہیں بلکہ براہِ راست اقتدار پر قبضہ کر کے سوشلسٹ جمہوریہ کا قیام عمل میں لایا جاسکتا تھا۔ پارلیمنٹ بذاتِ خود پورا نظام یا ریاست نہیں ہوتی بلکہ ریاست اور نظام کا ایک ادارہ ہوتی ہے۔ اگر باقی تمام ادارے بورژوا ہوں تو پارلیمان کو کیسے سوشلسٹ بنایا یا کیا جا سکتا ہے۔ 70ء کے انتخابات کے بعد بننے والی پارلیمان ایک بورژوا ریاست کی بورژوا پارلیمان تھی اور اس وقت محنت کشوں کے خوف سے حکمران طبقے کو اپنی کچھ مراعات سے دستبردار ہونا پڑا تھا لیکن جونہی محنت کش طبقہ پسپا ہوا تو بورژوازی نے دوبارہ اپنی گرفت مضبوط کر لی۔ لیکن اس وقت بھی وہ پارلیمان ایک مصنوعی کردار کی حامل تھی اور بورژوازی میں اتنی معاشی اور سیاسی گنجائش نہیں تھی کہ وہ اس پارلیمان کو خود سرمایہ دارانہ فرائض کی <a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/election-manefesto.jpg" target="_blank"><img class="alignleft" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/election-manefesto.jpg" alt="" width="336" height="277" /></a>تکمیل کے لیے استعمال کر سکے اور آج بھی بورژوا پارلیمانیت اور جمہوریت ایک دھوکہ اور ایک فریب ہے اور آج پہلے سے کہیں زیادہ عالمی مالیاتی سرمائے کی آمریت مسلط ہے اور بورژوازی پہلے سے زیادہ سامراجی اداروں کی غلامی کرنے پر مجبور ہے۔ آج بورژوا انقلاب کے تمام تر فریضوں کا ادھورا پن رِستا ہوا ناسور بن چکا ہے۔ ریاست کا اپنا وجود منتشر ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ریاست کی رِٹ بلوچستان، پشتونخواہ اور حتیٰ کہ کراچی میں بھی ڈانواڈول ہے۔ حکمران طبقے کو خود اپنی حکمرانی کے تسلط کو قائم کرنے کے لیے نام نہاد جمہوریت سے کہیں زیادہ براہِ راست قومی اور طبقاتی جبر کی ضرورت ہے۔ جس پارلیمان کو خود بورژواانقلاب کے فرائض کی تکمیل کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا اس کے ذریعے سوشلسٹ انقلاب کو کیسے پایہِ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے۔<br />
سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ انقلابیوں کو ایسی پارلیمنٹ میں کیا دلچسپی ہو سکتی ہے؟ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ انقلابی خود آزادانہ طور پر انقلاب نہیں کر سکتے۔ اس قسم کے جتنے بھی تجربے ماضی میں ہوئے وہ بالآخر زوال پذیر ہو گئے۔ انقلاب محنت کش طبقے کی سیاسی میدان میں فیصلہ کن شرکت کا نام ہوتا ہے، انقلابی ان تاریخی لمحات میں محنت کشوں کی رہنمائی کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن رہنمائی کرنے کے لیے ضروری یہ ہوتا ہے کہ وہ محنت کش آپ کو پہچانتے ہوں، نہ صرف یہ کہ پہچانتے ہوں بلکہ آپ پر آہستہ آہستہ اعتماد بھی کرنے لگے ہوں۔ اس لیے انقلابیوں کا سب سے بڑا امتحان یہ ہوتا ہے کہ وہ ہر مشکل گھڑی میں، چھوٹی چھوٹی ہڑتالوں سے لے کربڑی بڑی بغاوتوں تک، روزمرہ کے مسائل سے لے کر جیلوں تک اور انتخابات اور انقلابات سمیت تمام سیاسی تجربات میں محنت کشوں کے شانہ بشانہ رہیں۔ انقلاب اگر محنت کش طبقے نے کرنا ہے تو یہ سمجھنا فیصلہ کن ہوتا ہے کہ محنت کش کیا سوچ، سمجھ اور سیکھ رہے ہیں۔ محنت کش طبقے کا شعور واقعات کے مرہونِ منت ہوتا ہے۔ مختلف چھوٹے، بڑے، انقلابی اور ردِ انقلابی واقعات کا ایک تسلسل ہی کسی بڑے انقلابی واقعے پرمنتج ہو جاتا ہے۔ اس لیے ان تمام واقعات میں محنت کشوں کے ساتھ کھڑے رہنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ اس سرمایہ دارانہ ریاست اور اس کے اداروں سے محنت کشوں کا اعتماد بہت متزلزل ہو چکا ہے۔ لیکن ابھی تک کوئی سنجیدہ متبادل پروگرام اور لائحہ عمل ان تک پہنچ نہیں پایا۔ 2007ء کے بعد کسی بڑی سیاسی تحریک کی عدم موجود گی میں عوامی شعور میں وہ شکتی، توانائی اور تروتازگی نہیں ہے کہ وہ فوری طور پر کسی بڑی انقلابی تحریک کے متحمل ہو سکیں۔ وہ حکمران طبقے اور مڈل کلاس کا سیاسی ناٹک بہت باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں۔ وہ یقیناً بڑی تعداد میں ووٹ دینے نہیں جائیں گے لیکن وہ ان انتخابات کے ناٹک میں تمام سیاسی قوتوں اور خاص طور پر اپنی سیاسی روایت کا انتہائی تنقیدی جائزہ ضرور لیں <a href="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/Pakistani-Politicians.jpg" target="_blank"><img class="alignleft" src="http://www.struggle.com.pk/wp-content/uploads/2013/05/Pakistani-Politicians.jpg" alt="" width="339" height="233" /></a>گے اور انہیں اس اذیتناک نتیجے پر پہنچنے میں ابھی وقت لگے گا کہ یہ روایت حتمی طور پر اب ان کے لیے لڑائی کے ایک پلیٹ فارم سے ان کے خلاف حکمران طبقے کے ایک ہتھیار میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ایسے میں ہم انتخابی مہم میں اپنے پمفلٹس، ہینڈ بلز، تقاریر اور سٹالز کے ذریعے جہاں ایک طرف دائیں بازو کے تاریخی کردار کو ننگا کریں گے وہیں پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے سوشلسٹ متبادل متعارف کروانے کی کوشش کریں گے۔ ہمارے نعرے باقی ساری پارٹیوں اور ان کی قیادت سے یکسر مختلف ہوں گے۔ لوگ جمہوریت جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹیں گے اور ہمارے نعرے دوٹوک اور واشگاف ہوں گے کہ سرمایہ داروں کی نہیں عوامی جمہوریت، سامراجی آقا نہیں طاقت کا سرچشمہ عوام، نجکاری، ڈاؤن سائزنگ اور ری سٹرکچرنگ نہیں نیشنلائزیشن اور محنت کشوں کا جمہوری کنٹرول، سرمایہ داری نہیں سوشلزم ہماری معیشت۔ اگر ہمارے کسی کامریڈ کو پیپلز پارٹی کا انتخابی ٹکٹ مل جاتا تو ہم یقیناً اس انتخابی کیمپئین کو ایک انقلابی معرکے میں تبدیل کر سکتے تھے اور ہماری کیمپئین سے سیاسی بیگانگی کے اس ماحول میں ایک ہلچل کا سماں پیدا ہو سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں ٹکٹ نہیں دیئے گئے اور ہمیں انتخابی مہم کے عمل میں جانے سے ہی باز رکھنے کی کوشش کی گئی لیکن ہم پھر بھی ملک بھر میں انتخابی کیمپئین میں اپنی واضح شناخت کے ساتھ موجود ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی سمیت کسی بھی پارٹی کے پاس کوئی ایسا پروگرام ہے ہی نہیں جس کے اوپر کوئی سنجیدہ کمپئین چلائی جا سکے، یہی وجہ ہے کہ ابھی تک کوئی بہت بڑی سیاسی ہلچل نظر ہی نہیں آ رہی لیکن جتنا بھی ممکن ہو سکا انقلابیوں کو اس سیاسی عمل سے باہر نہیں رہنا چاہیے۔<br />
2008ء کی طرح کامریڈ علی وزیر جنوبی وزیرستان میں جاری آگ اور خون کے کھیل میں قدیم ترین طرزِ معاش اور رہن سہن میں تاریخ کے جدید ترین نظریات کا پرچار کرنے کے لیے ان انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ اگر ہمارے کسی بھی کامریڈ کو اس بورژوا پارلیمان میں جانے کا موقع مل بھی جاتا ہے تو ہم وہاں سے اس بورژوا پارلیمان کے حقیقی کردار کو ایکسپوز کرتے ہوئے سوشلسٹ نظریات کے فروغ کے عمل کو تقویت دیں گے۔ لیکن اگر ہم کامیاب نہیں بھی ہوتے تو تب بھی کیمپئین کے ذیعے ہم ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں تک اپنی کمیونسٹ شناخت اور پروگرام کے ساتھ پہنچنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ یہ بورژوا ریاست اور اس کے تمام ادارے ہمیں ورثے میں ملے ہیں۔ ان کی کوکھ سے ہی ایک نیا سماج جنم لے گا اور ان میں سے جو جو کچھ اور جتنا جتنا بھی انقلابی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اسے کرنا چاہیے لیکن کمیونسٹ مستقبل پر غیر متزلزل یقین کے ساتھ۔ یہ ریاست اور نظام ماضی کاملبہ ہے اور اس ملبے کو صاف کر کے ہم اس کی جگہ ایک نئی سوشلسٹ عمارت کی تعمیر کا آغاز کریں گے۔</p>
<iframe src="http://www.facebook.com/plugins/like.php?href=http%3A%2F%2Fwww.struggle.com.pk%2Fbourgeois-parlimentarianism-and-marxism%2F&amp;layout=standard&amp;show_faces=true&amp;width=450&amp;action=like&amp;colorscheme=light" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" style="border:none; overflow:hidden; width:450px;height:100px;margin-top:5px;"></iframe>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.struggle.com.pk/bourgeois-parlimentarianism-and-marxism/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
