پاکستان: جمہوریت کا جشن، آدمیت کا ماتم
[تحریر:پارس جان] 24 مارچ کو سابق صدر اور جنرل پرویز مشرف کراچی ایئر پورٹ پر پہنچے اور ایک ایسے جلسہ عام سے خطاب کیاجس میں عوام کا شائبہ تک نہیں تھا۔
[تحریر:پارس جان] 24 مارچ کو سابق صدر اور جنرل پرویز مشرف کراچی ایئر پورٹ پر پہنچے اور ایک ایسے جلسہ عام سے خطاب کیاجس میں عوام کا شائبہ تک نہیں تھا۔
[تحریر: پارس جان، 8 مارچ 2013ء] سنا ہے کہ اگلے وقتوں میں نوحہ گری ایک باقاعدہ پیشہ ہوا کرتا تھا۔ کسی بھی افسوسناک واقعے پرنوحہ گروں کی پیشہ وارانہ خدمات حاصل کی جاسکتی تھیں۔
[تحریر: قمرالزمان خاں] پاکستان کے تمام باشندے پچھلے پینسٹھ سالوں سے اس ’’پاکستان‘‘ کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں جس کا ذکر وہ پاکستان بنانے کے مقصد بیان کرنے والی ’’تمثیلات‘‘، کہانیوں، واقعات اور تاریخ میں پڑھتے اور سنتے چلے آرہے ہیں۔
[تحریر: لال خان] کرپشن کا مسئلہ حکمران اشرافیہ کی سیاسی بحثوں کا مرکز بن چکا ہے۔ اسے نظام کو لاحق شدید ترین خطرہ اور اس برائی کے خاتمے کو اس ملک کی سماجی و معاشی نجات کا راستہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
جس وقت ظالم اعلیٰ شہباز شریف اربوں روپے کی لوٹ مار کے نتیجے میں بننے والی نام نہاد بس سروس کا افتتاح کر کے زر خرید میڈیا کے ذریعے عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہا تھا، عین اسی وقت اس کی ایما پر پنجاب پولیس کے غنڈے عوام کے لئے مفت علاج کا [...]
کامریڈ لال خان 20 اکتوبر 2012ء کو لاہور میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (YDA) اور پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کیمپن کی طرف سے منعقدہ ایک لیکچر پروگرام میں عالمی سرمایہ داری اور پاکستان ریاست کے بحران پر روشنی ڈال رہے ہیں۔
[تحریر:پارس جان] 14دسمبر کو پشاور ائیرپورٹ پر ہونے والے طالبان کے حملے نے ایک دفعہ پھر اس ریاست کی کمزوری اور اس کے اندر جاری تضادات کو عیاں کر دیا ہے۔
[تحریر: آدم پال] اس روئے زمین نے اتنے غلیظ انسان شاید ہی دیکھے ہوں جو اس ملک کے حکمران ہیں۔ ہر روز محنت کشوں کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہاہے۔ زندگی تیزی سے مہنگی ہوتی جا رہی ہے جبکہ موت سستی۔
یکم نومبر2012ء کو جب تین جرنیل سپریم کورٹ کے سامنے بدعنوانی کے الزامات میں پیش ہوئے تو ان کی حالت چوہو ں جیسی تھی۔
[تحریر:پارس جان] عہدِ حاضر میں پاکستان سرمایہ دارانہ تہذیب و تمدن، اخلاقیات و معاشیات، رسوم و رواج اور طرزِ ارتقا کا شاید سب سے بڑا عجائب خانہ ہے۔بیہودہ نقالی پر مبنی یہ نظام یہاں روزِ اول سے ہی کسی نہ کسی مداری کی ڈگڈگی پر ناچ کر اپنے تقاضے پورے کرتا رہا ہے۔