ریاستِ پاکستان کا زوال
[تحریر:پارس جان] 14دسمبر کو پشاور ائیرپورٹ پر ہونے والے طالبان کے حملے نے ایک دفعہ پھر اس ریاست کی کمزوری اور اس کے اندر جاری تضادات کو عیاں کر دیا ہے۔
[تحریر:پارس جان] 14دسمبر کو پشاور ائیرپورٹ پر ہونے والے طالبان کے حملے نے ایک دفعہ پھر اس ریاست کی کمزوری اور اس کے اندر جاری تضادات کو عیاں کر دیا ہے۔
[رپورٹ: کامریڈ فارس] پیپلز پارٹی کے 45ویں یوم تاسیس کے موقع پر ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی ضلع ملیر کے پارٹی کارکنان اور عہدیداران کی طرف سے ایک جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا۔
[رپورٹ:پال جان] ُPTUDC اور BNT کے زیر اہتمام ایک روزہ مارکسی سکول بروز اتوار 02 دسمبر 2012ء کوارتقاء انسٹیٹیوٹ گلشن اقبال میں منعقد کیا گیا۔
ہر سال کی طرح اس بار بھی بالشویک انقلاب کی سالگرہ ملک کے طول و عرض میں انقلابی جوش و جذبے سے منائی گئی۔
[تحریر:پارس جان] عہدِ حاضر میں پاکستان سرمایہ دارانہ تہذیب و تمدن، اخلاقیات و معاشیات، رسوم و رواج اور طرزِ ارتقا کا شاید سب سے بڑا عجائب خانہ ہے۔بیہودہ نقالی پر مبنی یہ نظام یہاں روزِ اول سے ہی کسی نہ کسی مداری کی ڈگڈگی پر ناچ کر اپنے تقاضے پورے کرتا رہا ہے۔
2007ء میں آمریت اور جمہوریت کا ایک بے ہودہ ملغوبہ بکھرنے لگا تھا۔ معاشی شرح نمو کا تیز ابھار آٹھ سالوں میں سماج میں تضادات کو مٹانے کی بجائے ان کو بھڑکا گیا تھا۔ہر روز 10 ہزار انسان غربت کی لکیر سے نیچے گر رہے تھے۔
[رپورٹ: فارس] پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کیمپن(PTUDC)کے زیر اہتمام کراچی اور لاہور کی فیکٹریوں میں جل کر شہید ہونے والے محنت کشوں کی یاد میں ایک تعزیتی اور احتجاجی جلسے کا انعقادلانڈھی میں کیا گیا۔
[رپورٹ : کامریڈ نثار چانڈیو] مورخہ 16 ستمبر بروز اتوار پاکستان ٹریڈیونین ڈیفنس کیمپین کے زیراہتمام حیدر چوک سے پریس کلب تک بلدیہ ٹاؤن گارمنٹس فیکٹری میں آگ لگنے سے شہید ہونے والے محنت کشوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے اور مالکان اور ذمہ داران کے خلاف احتجاجی ریلی منعقد کی گئی۔
[تحریر: لال خان، ترجمہ: فرہاد کیانی] کراچی میں کپڑے کے کارخانے میں لگنی والی ہولناک آگ جس میں 289مرد، عورتیں اور بچے مارے گئے اور کئی سو جھلس کر شدید زخی ہو گئے، جہاں کسی قید خانے کی طرح دروازے مقفل تھے، ایسے واقعات پاکستانی مزدوروں کے لیے معمول بن چکے ہیں۔اس واقعے سے وہ [...]